Daily Mashriq

غیرمحفوظ حیات آباد

غیرمحفوظ حیات آباد

ہمارے سپیشل رپورٹر کی یہ رپورٹ چشم کشا ہونے کیساتھ ساتھ نہایت توجہ طلب بھی ہے کہ حیات آباد سرکاری، پولیس اور جوڈیشل افسران کیلئے اب محفوظ اور قابل رہائش علاقہ نہیں رہا۔ فیز5 میں واقع ججز کالونی میں اعلیٰ عدالتی شخصیت پر یہ دوسرا حملہ ہے۔ اس طرح کے واقعات سے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور پولیس کی جانب سے حیات آباد کو محفوظ بنانے کا دعویٰ بھی غلط ثابت ہوا ہے۔ بیک وقت سیف حیات آباد کی جانب سے پٹرولنگ بھی کی جا رہی ہے جبکہ پولیس بھی تعینات ہے مگر اس کے باوجود حیات آباد کو محفوظ نہیں بنایا جا سکا۔ 15 فروری 2017ء کو پانچ سول ججوں کی گاڑی پر تاک میں موجود موٹر سائیکل سوار کا خودکش حملہ ہوا جس کے نتیجے میں ڈرائیور شہید ہوا جبکہ دیگر ججز زخمی ہوئے۔ 24نومبر 2017ء کو ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ہیڈکوارٹرز اشرف نور کی گاڑی کو خودکش حملہ آور نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اے آئی جی شہید ہوئے۔ گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد ایوب کو نشانہ بنایا گیا۔ حیات آباد میں پے در پے اس قسم کے واقعات کی جامع وتفصیلی تحقیقات ہوتیں تو اصل صورتحال سامنے آتی، بہرحال لگتا یہی ہے کہ حیات آباد میں دہشتگرد عناصر کے ٹھکانے موجود ہیں جہاں سے وہ باآسانی ریکی کر کے منصوبہ بندی کیساتھ سرکاری افسران کو نشانہ بناتے ہیں ممکن ہے ان کا ٹھکانہ فیز5 کے آس پاس ہی کہیں موجود ہو یا پھر اس سے متصل علاقوں میں ان کی موجودگی ہوسکتی ہے۔ یہ ایک تشویناک اور خطرناک امر ہے کہ کچھ عرصے بعد کسی نہ کسی سرکاری افسر یا جج کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تازہ واقعہ اس بناء پر زیادہ سنگین ہے کہ اس میں ہائیکورٹ کے جج کو عدالت جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا اور تمام تر حفاظتی انتظامات بشمول کیمروں‘ پولیس‘ پٹرولنگ پولیس‘ سیف حیات آباد اور علاوہ ازیں کے حفاظتی انتظامات اور حصار کے باوجود حملہ آوروں کو حملے کا نہ صرف موقع ملا بلکہ وہ باآسانی فرار بھی ہوئے۔ اس قسم کے واقعات سے پولیس اور سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوال اُٹھانا فطری امر ہے جس کا متعلقہ حکام کو ادراک ہونا چاہئے اور حیات آباد سمیت صوبائی دارالحکومت میں اس قسم کے ممکنہ دیگر واقعات کی پیشگی روک تھام کا فول پروف بندوبست ہونا چاہئے۔

بغیر تشخیص پرچے پر ادویات کی فروخت

امراض چشم کے دوران مستعمل سٹیرو ڈائل آئی ڈراپس اور مرہم وغیرہ کے استعمال سے بچوں کو نقصانات کے پیش نظر ڈاکٹرز کے مشورے کے بغیر ان ادویات کی فروخت پر پابندی کا اقدام تحفظ چشم کے ضمن میں سنجیدہ سعی ہے۔ صوبے کے معروف ماہر امراض چشم کی جانب سے نشاندہی کے بعد اس اقدام سے اس امر کا بہرحال اظہار ہوتا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ آف ڈرگ اینڈ فارمیسی کے حکام کا اپنا کردار ذمہ دارانہ نہیں وگرنہ وہ اس سمیت اس نوعیت کی تمام ادویات کی مستند ڈاکٹر کی پرچی کے بغیر فروخت پر پابندی لگا دیتی۔ اب جبکہ پابندی لگ چکی ہے تو میڈیکل سٹورز پر اس کی بغیر تشخیصی پرچے کے فروخت کی روک تھام یقینی بنائی جائے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ نہ صرف نشاندہی شدہ آئی ڈراپس اور مرہم کی غیرقانونی فروخت کی روک تھام کی جائے گی بلکہ ڈائریکٹوریٹ آف ڈرگ اینڈ فارمیسی کے حکام اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے صوبہ بھر میں فروخت ہونے والی جعلی ادویات کی روک تھام میں بھی اپنا کردار ادا کریں گے جو صوبے میں بیماریوں میں اضافے اور پیچیدگیوں کا باعث بن رہے ہیں متعلقہ حکام کو ان مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ایک ٹکٹ میں دو مزے کی روک تھام کیلئے احسن اقدام

پراجیکٹ میں تعینات افسران کی ترقی کی صورت میں دوسرے محکموں میں روایت کے مطابق ایک روز کیلئے چارج لینے کے طریقۂ کار پر حکومت نے اعتراض کرتے ہوئے مذکورہ صورت میں افسران کیلئے نئے عہدے پر کم ازکم دوسال کیلئے مستقل بنیادوں پر ملازمت لازمی قراردینے کا اقدام قانون کو چکمہ دینے والوں کا راستہ روکنے کی سنجیدہ سعی ہے۔ پراجیکٹ افسران کیلئے پالیسی کے مطابق ترقی کی صورت میں عہدے کا چارج چھوڑ کر نئے سکیل میں کسی اور مقام پر دوسال کیلئے ملازمت لازمی قرار دیدی گئی ہے۔ دو سال ملازمت کی شرط اس وقت بھی منظم اور حساس اداروں میں رائج ہے۔ وہاں گزرے ہوئے وہ سال بھی سینیارٹی میں شمار نہیں کئے جاتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے حربے استعمال کرنے والے افسران کے طریقوں کا بغور جائزہ لیکر ضرورت پڑے تو مزید قانون سازی کی بھی ضرورت ہے تاکہ جہاں حقداروں کے حقوق کا تحفظ ہو وہاں ایک ٹکٹ میں ڈبل مزے کرنے والے بااثر عناصر کا راستہ روکا جاسکے۔

متعلقہ خبریں