Daily Mashriq

بدلے کی بھاؤنا نہیں امن وانسانیت افضل ہیں

بدلے کی بھاؤنا نہیں امن وانسانیت افضل ہیں

بدلے کی بھاؤنا میں بھارتی پائلٹ کی رہائی کے فیصلے پر حکومت کو طعنے دینے والوں کو بہرطور یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان دنیا کے کسی الگ تھلگ خطے میں واحد ریاست نہیں اقوام اور ریاستوں کے ہجوم میں جغرافیائی حد بندیوں والے سنجیدہ ممالک کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ معاملات بگڑنے پائیں نہ جنگ کا بازار گرم ہو۔ دوست ممالک امریکہ‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے مشاورت کے بعد بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا فیصلہ نہ صرف مناسب ہے بلکہ اس سے پاکستان کے امن پسندانہ طرزعمل کی تحسین ہو رہی ہے۔ رہا سوال بھارتی وزیراعظم کی اس دھمکی کا کہ ’’پہلے بھارت نے صرف پریکٹس کی تھی اب اصل پراجکیٹ کرنا ہے‘‘ تو اس ضمن میں یہی عرض کیا جاسکتا ہے کہ امن کی طرف پیش قدمی کی بجائے جنگ کا بازار گرم کرنے سے مودی اپریل میں ہونے والے الیکشن تو شاید جیت جائیں لیکن جنگ جن تباہیوں کے دروازے کھولے گی ان کے اثرات چند سالوں میں نہیں صدیوں میں زائل ہوں گے۔ بھارتی فضائیہ کی دراندازی اور جوابی کارروائی میں دو بھارتی طیاروں کی تباہی ایک پائلٹ کو گرفتار کئے جانے کے بعد بھارتی حکومت اور میڈیا کے جنگ زادے جس طرح 48گھنٹوں کے دوران موقف بدلتے رہے اس پر ہنسا ہی جاسکتا ہے۔ دونوں پڑوسی ممالک اور خصوصاً بھارت کو یہ حقیقت مدنظر رکھنا ہوگی کہ دعوؤں اور کسی طرح کے تصادم کے نتائج بڑے مختلف ہوتے ہیں۔ بھارتی جنگی جنون کے مقابلہ میں پاکستان کے مختلف الخیال طبقات اور حکومت واپوزیشن کا ایک آواز ہونا بھی جارحیت پر آمادہ پڑوسی کیلئے واضح پیغام ہے۔ ثانیاً یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت کے اندر مودی سرکار کی اپوزیشن نہ تو ان کے جنگی جنون سے متفق ہے نہ ہی وہ پڑوسیوں سے تصادم کی تائید کرتی ہے۔ دونوں ممالک اپنے دفاعی نظام کے حوالے سے جس مقام پر کھڑے ہیں وہ بھی مخفی نہیں۔ ان حالات میں امن کو روندنے کے جو نتائج نکلیں گے ان سے صرف نظر انسانیت سے انحراف ہی تصور ہوگا۔

پچھلے چند دنوں کے دوران بھارتی جارحیتوں کا جس طور منہ توڑ جواب دیا گیا اس سے بھی یہ امر عیاں ہے کہ پاکستان تر نوالہ ہرگز نہیں۔ بھارت کو سمجھنا چاہئے کہ جنگ مسائل کا حل ہرگز نہیں۔ امن پسندی باہمی احترام اور اختلافی امور پر مذاکرات کے ذریعے ہی تعمیرنو کے اہداف کا حصول ممکن ہے۔ یہ امر بھی بجاطور پر درست ہے کہ پاکستان کا امن پسندانہ رویہ کسی کمزوری سے عبارت نہیں بلکہ اس کی وجہ خطے کو ہلاکت خیزیوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ موجودہ صورتحال میں دوست ممالک کی درخواست پر پائلٹ کی رہائی کے مثبت فیصلے سے پاکستان کا موقف بہتر انداز میں دنیا کے سامنے آیا۔ اس فیصلے کے ناقدین محض شخصی نفرت کا شکار ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا جنیوا کنونشن سے انحراف ممکن ہے یا پھر دوستوں کو انکار کرکے تنہائی مول لینے کا سبب بننے والا اقدام درست قرار پائے گا؟ پاکستانی ناقدین یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ مودی سرکار کے جنگی جنون اور پاکستان پر فضائی حملوں کیخلاف خود بھارت کے اندر سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔ اسی دوران خود بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے سربراہ بی ایس یادو کا یہ اعترافی بیان بھی سامنے آگیا کہ فضائی حملے کا فیصلہ انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس بیان سے مودی سرکار کی امن دشمنی ہی عیاں نہیں ہوئی بلکہ یہ بھی واضح ہوگیا کہ بھارت کی حکمران قیادت کو ہر صورت میں اگلے دور کا اقتدار چاہئے چاہے وہ لاشوں اور کھنڈرات پر ہی کیوں نہ قائم ہو، اس صورتحال میں تو پاکستان کا موقف دفاعی حکمت عملی اور اقدامات نہ صرف درست ہیں بلکہ اس کی بدولت اقوام کی برادری کے ذمہ دار ممالک یہ کہہ رہے ہیں کہ کشیدگی کو بڑھانے کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔

یہ امر بطور خاص سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب پاکستان جنگ چاہتا ہی نہیں تو کشیدگی کیوں بڑھائے۔ نفرت کی آگ بھڑکانے والے ٹھنڈے دل سے یہ ضرور سوچیں کہ آگ بھڑک اُٹھی تو پھر بربادیوں کے سوا کچھ حاصل وصول نہیں ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان کا یہ کہنا درست ہے کہ بھارت میں جنگی جنون کو ہوا دینے والے عناصر نے ہماری طرح 70ہزار ہلاکتیں دیکھی ہوتیں تو ان کا رویہ مختلف ہوتا۔ یہ امر مسلمہ ہے کہ ملکی سلامتی پر سمجھوتے کیلئے کوئی بھی نہیں کہہ رہا دوست ممالک بھی کشیدگی کو کم اور ختم کرانے کیلئے کردار ادا کررہے ہیں۔ اندریں حالات صبر وتحمل اور تدبر کے مظاہرے سے ہی امن اور انسانیت کے تحفظ کیلئے کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔

اس امر کی طرف توجہ دلانا بھی ازبس ضروری ہے کہ سیاسی وعسکری قیادت حالات اور ماحول کے بہتر ہوتے ہی داخلی طور پر موجود ان شکایات پر بھی توجہ دے جن سے مختلف طبقات اور اکائیوں میں دوریاں اور تحفظات بڑھ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر نان سٹیٹ ایکٹرز سے اب کوئی رعایت نہیں برتی جانی چاہئے۔ نئے ناموں سے کام کرنے والی کالعدم تنظیموں سے ملکی قوانین کے مطابق سلوک ہونا چاہئے۔ اس طرح مسنگ پرسنز کا معاملہ ہے۔ ان مسنگ پرسنز کے خاندان مصائب ومشکلات کا شکار ہیں دوست ممالک کے رابطوں اور کوششوں سے بھارتی پائلٹ کی رہائی کا فیصلہ جس طرح سرحدوں پر امن وامان کیلئے درست ہے اسی طرح مسنگ پرسنز کے معاملے کو حل کرنا ہمارے سماج کی داخلی وحدت کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔ کیا ہم امید کریں کہ حکمران سیاسی وعسکری قیادت داخلی مسائل میں سے اس اہم ترین مسئلہ پر ہمدردانہ توجہ دیتے ہوئے مثبت فیصلے کرتے ہوئے موجودہ حالات میں جس سماجی وحدت کی ضرورت ہے اس کی بنیاد رکھے گی؟۔

متعلقہ خبریں