Daily Mashriq

انسانیت کی بقا کیلئے عالمی برادری کا ناگزیر کردار

انسانیت کی بقا کیلئے عالمی برادری کا ناگزیر کردار

12گست 2018ء کو ’’مشرق‘‘ کے انہی صفحات پر جب عمران خان نے پاکستان کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنے عہدے کا حلف بھی نہیں اُٹھایا تھا، ہم نے لکھا تھا کہ 2019ء بھارت میں انتخابات کا سال ہے اور مودی پاکستان مخالف پروپیگنڈہ سے دوطرفہ حالات کو خراب کر سکتا ہے۔ 12اگست 2018ء کو ’’مشرق‘‘ میں شائع ہونے والے ہمارے کالم سے اقتباس پیش ہے۔ ’’2019ء بھارت میں الیکشن کا سال ہوگا جس کیلئے مودی کی جنتا پارٹی پاکستان مخالف مہم چلا کر ایک بار پھر بھارتی عوام کی ہمدردیاں حاصل کر کے ووٹ لینے کی کوشش کرے گی۔ مودی کا ماضی مسلمان دشمنی سے بھرا پڑا ہے۔ عین ممکن ہے کہ کشمیری مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان پر لازمی طور پر پڑیں گے کیونکہ پاکستان میں پی ٹی آئی کی متوقع حکومت کو اقتدار سنبھالے محض چند ماہ ہی ہوئے ہوں گے‘‘۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے ارباب اختیار بھارت کی جانب سے جارحیت سے بے خبر نہیں تھے، پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت نے بھارت کی حالیہ جارحیت کا بھرپور جواب بھی دیدیا ہے لیکن کیا خطرات ٹل گئے ہیں؟ کیا مودی باز آجائے گا، کیا بھارت کی طرف سے اب مزید جارحیت نہیں کی جائے گی؟ ان سوالوں کے جواب نفی میں ہیں کیونکہ بھارت دنیا کے سامنے اپنا جو چہرہ پیش کرتا ہے اس کا حقیقی چہرہ اس سے یکساں مختلف ہے، بھارت دنیا کے سامنے اپنے آپ کو مظلوم بنا کر پیش کرتا ہے، دنیا کے سامنے بظاہر امن کی بات بھی کرتا ہے لیکن پیٹھ پیچھے وار بھی کرتا ہے۔ہمارا خیال ہے کہ مودی الیکشن میں کامیابی کیلئے بھارت اور کشمیر میں مسلم دشمنی کو ہوا دیکر مزید کارروائیاں کروا سکتا ہے۔

پاکستان کو عالمی سطح پر یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اگر بھارت کی جانب سے جارحیت نہ رکی تو یہ کشیدگی ایٹمی جنگ میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے، ایٹمی جنگ سے پاکستان کو فائدہ ہوگا نہ بھارت کا کچھ بچے گا، بھارت اور پاکستان کے جذباتی عوام بلاسوچے سمجھے ایٹم بم کے دھماکے کی بات کرتے ہیں جبکہ انہیں قطعی طور پر معلوم نہیں کہ ایٹم بم کس بلا کا نام ہے، اس حوالے سے جذباتی باتیں کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ اگر ایٹمی حملہ ہوتا ہے تو اس کا نقصان کس قدر ہو سکتا ہے۔ دنیا میں موجود ایٹمی ہتھیار عموماً دو اقسام کے ہیں یعنی ایک ایٹم بم (اے بم) جو جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکا نے گرائے تھے اور دوسرے زیادہ خطرناک قسم کے ہائیڈروجن بم جنہیں تھرمو نیوکلیئر بم (ایچ بم) کہا جاتا ہے۔ ان ہتھیاروں کی تیسری قسم ان ہینس ریڈی ایشن (ای آر) کہلاتی ہے جنہیں ماضی میں نیوٹران بم بھی کہا جاتا تھا لیکن اب ان کو زیادہ استعمال نہیں کیا جاتا۔ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین، روس اور امریکا کے پاس آفیشل طور پر ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جبکہ پاکستان اور ہندوستان بھی ایسے ممالک شامل ہیں جو ان ہتھیاروں کا تجربہ کر چکے ہیں، اسرائیل کو بھی ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے تاہم اس نے کبھی اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔

بین الاقوامی ماہرین اور ایٹمی سائنسدان پاکستان اور ہندوستان کے درمیان متوقع ایٹمی لڑائی کے نتائج کا اندازہ لگا کر ہولناک پیش گوئیاں کر رہے ہیں۔ ایٹمی جنگ کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ پاکستان اور بھارت میں ایٹمی جنگ ہوئی تو تباہی کا منہ زور طوفان دونوں ممالک کو راکھ کا ڈھیر بنا دے گا۔ جنگ کے آغاز ہی میں کروڑوں انسان ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے موت کی ہولناک وادی میں اُتر جائیںگے۔ کچھ سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ پاکستان اور بھارت کیساتھ ساتھ ہمسایہ ملک چین میں بھی ایک ارب تیس کروڑ انسان اپنی جان کی بازی ہار جائیںگے۔ ایٹمی اثرات کے سبب غذائی اشیاء اور فصلات پر زہریلے ذرات انہیں ناقابل استعمال بنا دیںگے۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ آئندہ کچھ برسوں میں غذائی قحط کی وجہ سے پاکستان بھارت اور زیراثر پڑوسی ممالک کے لگ بھگ دو ارب انسان بھوکے مر جائیںگے اور دنیا بھر میں زرعی پیداوار دس فیصد کم ہو جائے گی۔ یہ اندازہ بھی لگایا گیا ہے کہ ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے ہوا میں دس لاکھ ٹن وزنی دھویں کا بادل پچاس کلومیٹر بلندی تک پھیل کر پوری دنیا کو گہرے اندھیرے کی چادر میں ڈھانپ دے گا۔ نتیجہ یہ کہ سورج کی کرنیں کرۂ ارض تک نہیں پہنچ پائیں گی اور یہ دنیا برفانی دور کی زد میں آجائے گی۔ کرۂ ارض کے گرد اوزون کی حفاظتی تہہ سترفیصد تک ٹوٹ جائے گی جس کے جان لیوا اثرات کے سبب بے شمار انسان اور حیوانات اپنی زندگیوں سے محروم ہو جائیںگے۔ مزید یہ کہ ان ایٹمی دھماکوں کے مابعد اثرات برسوں تک انسانی اور حیوانی زندگیوں کے علاوہ زرعی پیداوار پر بادلوں کی بارش برساتے رہیں گے۔ خدانخواستہ اگر پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی برقرار رہتی ہے اور نوبت ایٹمی دھماکوں تک آتی ہے تو یہ بھارت کے جنگی جنون کے باعث ہوگا اور اس کا خمیازہ ان ملکوں کو بھی بھگتنا پڑے گا جو اس جنگ میں کسی بھی اعتبار سے شامل نہیں تھے، سو پاک بھارت کشیدہ حالات کا تقاضا ہے کہ عالمی دنیا سامنے آئے اور انسانیت کی بقا کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

متعلقہ خبریں