Daily Mashriq

جب سرپرائز کی خواہش کو ملا عملی سرپرائز

جب سرپرائز کی خواہش کو ملا عملی سرپرائز

پلوامہ میں ایک کشمیری نوجوان عادل احمد ڈار کے فدائی حملے میں چوالیس فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے کسی قسم کی تحقیقات کے جھنجٹ میں پڑے بغیر ہی اس کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا تھا اور اس کیساتھ ہی بھارتی حکومت اور میڈیا نے پاکستان کو جواب دینے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔ عادل احمد ڈار ایک حسبی نسبی کشمیری تھا اور اس کا گھر اس مقام سے محض چند کلومیٹر کی مسافت پر تھا جہاں عادل نے بھارتی فوجی کانوائے کو نشانہ بنایا۔ حد تو یہ کہ جو دھماکہ خیز مواد اس حملے میں استعمال ہوا وہ وہی تھا جو بھارتی فوج کے زیراستعمال ہے۔ اس سب کے باوجود بھارت نے اس واقعے کو مودی کے انتخابی کارڈ کے طور پر استعمال کرنے کا راستہ اپنایا۔ اسی جنون کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی طرف سے کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کا عزم بھی ظاہر کیا جا رہا تھا اور اس کیلئے تیاریاں بھی زوروں پر تھیں۔ بارہ دن سے پاک فضائیہ کے جنگی جہاز رات کے زیادہ تر وقت کنٹرول لائن کی نگرانی کرنے لگے تھے اور کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے پورا نظام چوکس اور بیدار تھا۔ آخرکار بھارت نے بدلے کی آگ بجھانے کی خاطر ماضی کی طرح ہی ایک ڈرامہ رچایا۔ نوسہری سیکٹر مظفرآباد کے عقب میں بلند سیاحتی مقام پیرچناسی کے مقابل ہے۔ جہاں سے سلسلہ ہائے کوہ کے درمیان ہی خیبر پختونخوا کا علاقہ ہزارہ شروع ہوتا ہے۔ بھارت کے ایئر بیس سے اُڑنے والے آٹھ میراج2000 جہازوں نے اسرائیلی ساختہ لیزر گائیڈڈ میزائلوں سے لیس ہو کر کنٹرول لائن عبور کی، اس دوران پاک فضائیہ نے جو پہلے ہی کسی مہم جوئی کا مقابلہ کرنے کو تیار تھی بھارت کے جنگی جہازوں کو گھیرنے کی کوشش کی اور یہ جہاز بالاکوٹ کے پہاڑوں میں جابہ کے مقام پر ایک ہزار کلوگرام کا مواد گرا کر تین منٹ میں واپس بھاگ نکلے۔ جائے وقوعہ پر پڑا ہوا گڑھا اور مقام تین ساڑھے تین سو لاشوں کی موجودگی کی ہی نہیں بلکہ ایک ہزار کلوگرام مواد کے گرائے جانے کے دعوے کی بھی نفی کر رہا تھا۔ یہی نہیں بھارت نے چلوٹھی کے مشہور سیکٹر سمیت تین مقامات پر اسی طرح کے حملوں کا دعویٰ بھی کیا۔ بھارت نے سرجیکل سٹرائیکس کی طرح اس بار بھی بالاکوٹ میں جیش محمد کے ایک بڑے کیمپ کو تباہ کرنے اور تین سو کے قریب افرادکو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ اس کیساتھ ہی بھارت میں بدلے کی وہ آگ ٹھنڈی کرنے کی کوشش کی گئی جسے پلوامہ حملے کے بعد بھارتی حکومت اور میڈیا نے خود ہی انتخابی اور سیاسی ضرورتوں کے تحت بھڑکایا تھا۔ اب یہ آگ خود مودی کے گلے پڑ گئی ہے کیونکہ بدلہ نہ لینے کی صورت میں انتخابات میں اسے رائے عامہ کے غیظ وغضب کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ بھارت کو بدلے کا سٹیج سجانے کے بعد پاکستان کے جواب کا دھڑکا لگ گیا تھا۔ بالاکو ٹ کارروائی کے بعد بھارت نے عملی طور پر پلوامہ کی کہانی کو ایک ڈرامائی موڑ دے کر ختم اور اپنے عوام کو مطمئن کرکے ایک تیر سے دوشکار کرنے کی کوشش کی تھی مگر یہ کہانی کا اختتام نہیں بلکہ ایک اور کہانی کا آغاز بن گیا۔ پاکستان نے کنٹرول لائن کی اس خلاف ورزی کو معمول کی سرگرمی سمجھ کر چپ سادھ لینے کی بجائے جواب کیلئے اپنی پسند کے مقام اور وقت کا تعین کرنے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں منعقدہ ایک اہم اجلاس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہوں نے بھی شرکت کی تھی۔ اس اجلاس میں بالاکوٹ میں دہشتگردوں کے کسی کیمپ کے بھارتی دعوے کو یکسر مسترد کیا گیا۔ اس کیساتھ ہی بھارت کو جواب دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔ میڈیا نے جابہ میں جاکر بھارتی دعوے کو پوری طرح بے نقاب کیا۔ میڈیا نے دکھایا کہ علاقے میں ایک ضمنی الیکشن کی گہما گہمی تو ہے مگر تین سو افراد کی لاشیں کہیں بھی موجود نہیں۔ تین ساڑھے تین سو لاشوں کا مطلب یہ ہے کہ علاقے میں ایک بڑی قتل گاہ سجائی گئی ہے اور ذرائع ابلاغ کے جدید دور میں جب جنگل میں گھومنے والے ایک چرواہے کے ہاتھ میں بھی سمارٹ فون ہوتا ہے، اس قدر بڑی تباہی اور لاشوں کی اتنی بڑی تعداد کو ٹھکانے لگانا کسی طور ممکن نہیں ہوتا۔ جو بات شک وشبے سے بالاتر ہے وہ یہ ہے کہ بھارتی طیاروں نے گھنے جنگل میں چیڑ کے چند درختوں کو تباہ کرکے ماحولیات کی تباہی میں اپنا حصہ ضرور ڈالا ہے۔دلچسپ بات یہ کہ بھارت کے پاس ان حملوں کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھا۔ بھارتی میڈیا جو تصویریں دکھا رہا تھا وہ بھی آئی ایس پی آر کی جاری کردہ ہیں۔ بھارتی طیاروں نے کیمپ کی تباہی کی ویڈیو کیوں نہیں بنائی یہ سوال بھارت میں بھی اُٹھنے لگاتھا۔ اس طرح بالاکوٹ میں حملے کو ’’سرجیکل سٹرائیکس پارٹ ٹو‘‘ ہی کہا جا سکتا تھا۔ بھارت کوٹلی سیکٹر میں سرجیکل سٹرائیکس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا تھا اس کے برعکس پاکستان نے ملکی اور غیرملکی میڈیا نمائندوں کو علاقے کا دورہ کرایا تھا اور انہیں بھی سرجیکل سٹرائیکس کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔ اب جابہ کے پہاڑ پر بم پھینک کر بھارت دوبارہ سرجیکل سٹرائیکس کی طرح بدلے کی کہانی کو ختم کرنا چاہتا تھا مگر یہ ایک نیا پنڈورہ باکس کھلنے کی ابتدا ثابت ہوا۔ پاکستان نے چند گھنٹوں کے اندر ہی دو بھارتی جہاز گرا کر اور ایک پائلٹ کو گرفتار کرکے بھارت کو ’’سرپرائز‘‘ کا مطلب او ر مفہوم عملی شکل میں پیش کر دیا۔

متعلقہ خبریں