Daily Mashriq

ہمارے شہر کیسے ہونے چاہئے؟

ہمارے شہر کیسے ہونے چاہئے؟

لاہور میں شہروں اور انفرا سٹرکچر پر سمپوزیم منعقد ہوا، جس میں مختلف محققین، شہری پالیسی سے وابستہ افراد، کارکنان اور فنکار اکٹھا ہوئے اور پاکستان میں تیزی سے بڑھتی شہری آبادی (urbanisation) سے متعلق مختلف پہلوؤں پر بات کی۔ اس موقع پر سب سے اہم موضوع ترقی کی وجہ سے پیدا ہونے والی نقل مکانی اور ناانصافی رہا اور ان پر بالخصوص شہر کی جمالیاتی (aesthetic) بحالی اور بڑے اور جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر کے تناظر میں روشنی ڈالی گئی۔

ہم پاکستان میں بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے عمل کے مختلف پہلوؤں کو مسائل سے دوچار پائیں گے۔ نتیجتاً، کم ازکم دانشور اور کارکنان اس رائے پر متفق ہیں کہ جس انداز میں ہمارے شہروں کو ڈیزائن، ریگولیٹ کیا جاتا ہے اور اس کا انتظام چلایا جاتا ہے، وہ ٹھیک نہیں۔ اس اربنائزیشن سے حاصل ہونے والے مالی فوائد کو ایک سرسری اور بڑی حد تک دستاویزی ریکارڈ سے عاری رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں خرچ کیا جاتا ہے، اس نئے انفرا سٹرکچر کی قدراستعمال (use value) زیادہ تر اشرافیہ طبقات کیلئے ہوتی ہے اور ایک خاص خلیجی رنگ میں رنگے جدیدیت کے ویژن میں پھنسی ریاستی مقتدرہ کی محدود سوچ وتنگ نظری سے مطابقت رکھتا ہے۔ ہر ایک مرحلے پر واضح اور دستاویزی صورت میں سماجی انصاف اور عدم مساوات سے متعلق مسائل نظر آتے ہیں، جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ شہروں اور انفرا سٹرکچر سمپوزیم میں ہونے والے حالیہ مباحثے اور اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں ہونے والی طویل گفتگو کی بنیاد پر محققین، متعلقہ پالیسی سے وابستہ افراد اور کارکنان کے نزدیک پریشانی کی3 باتوں کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ ان میں سے پہلی پریشانی کی بات ہے شہری انتظامیہ اور ریگولیٹری اداروں کو مرتب کرنے کا عمل۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے3 بڑے شہروں میں یہ کافی حد تک واضح ہے کہ نقل مکانی، بحالی اور ترقی کا عمل بیوروکریٹک، ٹیکنوکریٹک ڈھانچے کی سرپرستی میں ہوتا ہے جس میں شہری حصہ داری یا احتساب کی کوئی گنجائش نہیں رکھی جاتی۔

ادارہ جاتی خرابی خاص طور پر اس وجہ سے پریشان کن ہے کیونکہ جس طرح لوگ اپنی اپنی رہائشی اور کام کی جگہوں میں رہتے ہیں یا محسوس کرتے ہیں، ان میں تبدیلیاں تھوپ دی جائیں تو ان کی روزانہ کی زندگیوں میں بنیادی طور پر تبدیلی آجائے گی۔ یہ ادارہ جاتی خرابی اس لئے بھی زیادہ بری ہے کیونکہ لوگوں کے معمولات، ان کا لائف اسٹائل اور کام کے حوالے سے مصروفیات متاثر ہوتی ہیں۔ اگر پلاننگ اور ریگولیشن اداروں کے اختیارات نیچے تک منتقل ہوئے ہوتے اور وہ منتخب مقامی حکومتوں کے آگے جوابدہ ہوتے تو انہیں عوامی نمائندوں کی جانب سے رسمی وغیر رسمی ذرائع سے دباؤ کا سامنا ہوتا۔ اس قسم کی صورتحال میں کچھ بنانا یا گرانا چونکہ مادی سودے بازی شامل ہونے کی وجہ سے بنیادی طور پر ایک سیاسی عمل ہوتا ہے، لہٰذا اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ بیوروکریٹک نظام کے بجائے سیاسی ادارے (مقامی حکومتی نظام) کی حدود میں رہتے ہوئے حل کئے جاتے۔ دوسری فکر کی بات شہری ترقی اور مارکیٹ کے درمیان روابط ہے۔ اس معاملے کو کئی محققین پہلے بھی اٹھا چکے ہیں، ان میں سے ایک آکسفورڈ یونیورسٹی کی عائشہ احمد سرِفہرست ہیں۔ ان کے مطابق شہر کے تعمیراتی ماحول کا براہِ راست تعلق پیسوں کے بہاؤ اور اس کے سرمایہ کاروں، بلڈرز اور ریاستی نمائندوں (سیاستدان اور بیوروکریٹس) کیساتھ تعلقات سے ہوتا ہے۔

ترقی کے نئے ماڈلز کے تحت ریاست نجی سرمایہ کاروں کو زمین کے حصول کیلئے مدعو کرتی ہے اور اس مرحلے پر لینڈ ایکویزیشن ایکٹ جیسے اہم اختیار کو اس طرح استعمال نہیں کرتی جس طرح ماضی میں کرتی تھی، اس وجہ سے نئے چیلنجز پیدا ہوجاتے ہیں۔ مثلاً، ریاست جس طرح زمین مالکان سے قبضہ حاصل کرنے کیلئے قانونی ہتھیار کے ذریعے دباؤ ڈالتی ہے وہ کسی سانحے سے کم نہیں اور اس کی آسانی کیساتھ شناخت بھی ممکن ہے۔ دوسری طرف کس طرح کوئی زمین کی مارکیٹ کے عوامل کو اپنے ہاتھوں میں رکھ سکتا ہے جو ویسے ہی منفی نتائج پیدا کرتے ہیں لیکن موجودہ وقت میں مکمل طور پر مارکیٹ ایکسچینج کے قانونی دائرے کے اندر کام کرتی ہے؟ اگر نجی ڈیویلپر یا سرکاری ادارے کا آپریٹر ایک ایسی قیمت ادا کرتا ہے جس پر زمین کا مالک ایک بڑی گیٹ بند رہائشی کمیونٹی بنانے کیلئے اپنی زمین بیچنے کیلئے تیار ہے تو اس عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دیگر معاملات مثلاً، قبضہ چھڑوانے کا عمل، کھیتوں میں کام کرنے والے افراد کی بیروزگاری، مقامات کیلئے ممکنہ سرمایہ کاری، ماحولیاتی بحرانوں کے حوالے سے کس قسم کے ریگولیشن بنانے چاہئیں؟

آخر میں، تیسرا مسئلہ جس کیلئے تخلیقی سوچ اور توجہ درکار ہے وہ ہے خود شہری زندگی کے ثقافت پر نکتہ نظر۔ اسے سمجھنا تھوڑا سا مشکل ہے لیکن یہ ایک ایسی چیز ہے جو پہلے معاملات میں لاحق مسائل کو قابو میں رکھنے کیلئے مدد کرتی ہے۔ پاکستان میں شہر کے وجود کا یہ مطلب ہوتا ہے شہر میں کس قسم کے جمالیاتی اور عملی مقاصد شامل ہونے چاہئیں، شہر کس کے ذمے دینا چاہئے اور انہیں کس حد تک شہری انتظامی اور ریگولیٹری اختیارات دئیے جانے چاہئیں، اس حوالے سے نئے سرے سے (لیکن معقولیت کیساتھ) تحقیق کا عمل جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔(بشکریہ ڈان)

متعلقہ خبریں