Daily Mashriq

رزم حق وباطل ہو تو فولاد ہے مومن

رزم حق وباطل ہو تو فولاد ہے مومن

غصہ فساد کی جڑ ہے، غصہ کرنا حرام ہے، حرام چیز کو کھانے یا اس کو پینے سے منع کیا گیا ہے لیکن غصہ کو پی جانے کا حکم ہے کیونکہ جس بندے یا بندی کو غصہ آتا ہے اچھے اچھے دل والے اس سے پناہ مانگنے لگتے ہیں۔ غصہ کرنے والے کے چہرے کی رنگت دگرگوں ہو جاتی ہے۔ اس کے سارے وجود پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ غصہ کے عالم میں وہ نہ صرف اول فول بکنے لگتا ہے اور بعض اوقات بعض چیخنے چنگھاڑنے یا بلاوجہ شور شرابا کرنے کے علاوہ جو ہاتھ میں آتا ہے اُٹھا کر پھینک دیتا ہے یا اپنے مدمقابل کی جانب اُچھال دیتا ہے۔ کسی کی جانب جو چیز ہاتھ میں آئے اچھال دینے کو اس چیز کو مدمقابل پر پھینک دینا یا اس پر اس چیز کا وار کر دینا یا اس چیز سے اس کو مارنا کہتے ہیں۔ اگر مارنے کیلئے کوئی چیز ہاتھ نہ آئے تو مکے، لاتیں یا ٹکریں مار کر ماردھاڑ کی علت پوری کر لی جاتی ہے۔ کسی کو کسی چیز سے مارنا اور کسی کو کسی چیز سے مار دینے میں بڑا فرق ہے۔ جس کو غصہ آتا ہے اور وہ جو ہاتھ میں آئے اسے کسی کی جانب اُچھال دے تو سمجھئے کہ اس نے غصہ دلانے والے کی جانب کوئی چیز اس لئے پھینکی یا اسے ماری کہ وہ اسے زخمی کر دے یا مار دے۔ کسی کو مار دینے کو کسی کا قتل کر دینا کہتے ہیں۔ غصہ کرنے والا ایسی حرکت اس وقت کرتا ہے جب اس کا غصہ جنون کی حد تک جا پہنچتا ہے۔ مار دھاڑ کے بعد قتل وغارت کی حدود کو پار کر جانے والے لوگ جب قانون کے شکنجے میں آتے ہیں تو قانون کے لمبے ہاتھ انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیتے ہیں جہاں پہنچ کر اسے اپنے کئے پر بے حد افسوس ہوتا ہے اور اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت کے مصداق اللہ بچائے وہ قید وبند کی صعوبت برداشت کرنے لگتا ہے۔ ضروری نہیں کہ غصہ کے ہاتھوں پاگل ہونے والے جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ کر قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنے لگیں۔ وہ غصہ درغصہ کا شکار ہو کر ہسپتال بھی پہنچ سکتے ہیں اور جان کی بازی ہار کر شہر خاموشاں میں منوں مٹی تلے دفن بھی تو ہوسکتے ہیں۔ غصہ کرنے والے یا کسی کے غصہ یا قہر وغضب کا شکار ہونے والے اس قسم کے دیگر ممکنہ انجام کے بھی شکار ہوسکتے ہیں، مثلاً پیار محبت کے رشتوں کا ختم ہو جانا، دلوں میں نفرتوں اور کدورتوں کا زہر بھر جانا، دو مخالف فریقوں کا جھوٹی انا کے خول میں بند ہو جانا، نام نہاد اور تباہ کن غیرت کا شکار ہوجانا۔ اس حوالہ سے ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ وہ لوگ باکمال ہوتے ہیں جن کو غصہ نہیں آتا یا جو غصہ پر قابو پانا جانتے ہیں۔ غصہ پر قابو پانے والے اس کو پی جاتے ہیں یا تھوک دیتے ہیں اور بعض اوقات تو ان کا تھوکا ان لوگوں کے منہ پر جاگرتا ہے جو غصہ پر قابو پانے کی صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں۔ اس عمل اور ردعمل کا مظاہرہ ہم نے حال ہی میں پاک بھارت کے درمیان پیدا ہونے والے اس قہرآلود تنازعہ میں دیکھا جو بھارت کے جنگی مجنوں مودی سرکار نے اپنی غلطیوں کا نزلہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت پر گرانے کے علاوہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق اپنی خفت مٹانے کیلئے پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کے پر فضا علاقہ بالاکوٹ کے چند درختوں پر 4بھاری بھرکم بم گرا کر اتارنے کی کوشش کی

شکر ہے جامہ سے باہر وہ ہوا غصہ میں

جوکہ پردے میں بھی عریاں نہ ہوا تھا سو ہوا

کتنا قہقہہ بار تھا درختوں پر کیا جانے والا یہ کامیڈین ہوائی حملہ، غصے میں تھے نا وہ بے چارے، قابل ترس ہوتا ہے وہ بندہ جو غصہ کے قہر میں مبتلا ہوکر اپنے حواس کھو بیٹھتا ہے۔ہم پاکستانی ایسی حرکتوں سے بالاتر ہیں۔ ہم پاک ہیں، ہمارے ساتھ جو دوستی کرتا ہے اس کیساتھ بھی پاک چین دوستی، پاک ترکی دوستی جیسے طہارت بھرے الفاظ لگ جاتے ہیں اور جو جنگ کرتا ہے اس کیساتھ پاک بھارت جنگ جیسے الفاظ نتھی ہوجاتے ہیں۔ ہم اپنی جانب اٹھنے والی ہر میلی آنکھ پھوڑ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس کا مظاہرہ ہماری پاک فضائیہ غصے سے پاگل دراندازی کرنے والی بھارتی فضائیہ کے جہازوں اور ان کے پائلٹوں کیساتھ کرچکی ہے۔ ہمیں ہماری دینی تعلیمات نے عفو درگزر کا درس دیا ہے جس پر عمل کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے گرفتار پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو رہا کرنے کا اعلان کر دیا۔ اسے کہتے ہیں اخلاقی فتح اور یہ ان شہسواروں کو نصیب ہوتی ہے جو میدان جنگ اپنے ہوش اور حواس پر قابو رکھتے ہیں۔ مظلوم کشمیریوں پر جبر مسلسل کے پہاڑ توڑنے والے مودی تمہاری سینا کے چالیس سورما جھلس گئے اس آگ میں جو تونے کشمیر کے چناروں میں بھڑکا رکھی ہے اور دوش دیتے ہو پاکستان کو۔ تمہارا قصور تمہارے سر پر بھوت سوار ہے اس بیماری کا جسے غصہ کہتے ہیں۔ ہم تمہاری اس حالت زار پر ترس کھاتے ہوئے تمہیں معاف کرتے ہیں کہ یہ سنت نبی رحمتﷺ ہے اور تمہارا کوا تجھے واپس کرتے ہیں جو ہمارے شاہینوں کے قبضہ میں آچکا ہے۔

تم کو آتا ہے پیار پر غصہ

مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے

اور ساتھ ہی یہ بھی عرض کئے دیتے ہیں کہ اگر غصہ حرام نہیں سمجھتے تو پی جاؤ اسے اپنی گاؤماتا کا پوتر سمجھ کر۔ یاد رکھو کہ ہم امن پسند قوم ہیں اور پاک فوج کا ہر سپاہی اقبال کا وہ پاک مردمومن ہے جس کے متعلق وہ بہ بانگ دہل کہہ گئے ہیں کہ

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزم حق وباطل ہو تو فولاد ہے مومن