Daily Mashriq


ترک صدر کا مشورہ بجا مگر۔۔۔۔

ترک صدر کا مشورہ بجا مگر۔۔۔۔

ترک صدر رجب طیب اردگان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بحال کرے۔دو روزہ دورے پر بھارت پہنچنے والے ترک صدر طیب اردگان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت اور پاکستان رابطے قائم کریں اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مذاکرات کو مستحکم کریں۔بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے طیب اردگان کے بیان کا ترجمہ شائع کرتے ہوئے لکھا کہ اگر ہم گہرائی میں جائیں اور قریب سے دیکھیں تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ روزانہ کی بنیاد پر پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر ہورہے ہیں، لیکن یہ مسئلہ کشمیر ہمیں دکھی کردیتا ہے کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاملہ دونوں ملکوں کو بھی مایوس کرتا ہے اور اس پر قابو پاکر ہم عالمی امن کے قیام میں نمایاں کردار ادا کرسکتے ہیں۔سات دہائیوں سے کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوا اور مجھے یقین ہے کہ اسے حل کرکے دونوں ملکوں کو سکون حاصل ہوگا۔طیب اردگان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ہی ترکی کے دوست ہیں اور انہیں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے جبکہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ملاقاتیں بھی ہونی چاہئیں۔دریں اثنا پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر کیا جانے والا ظلم ریاستی دہشت گردی ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی)کے مقام حاجی پیر سیکٹر کا دورہ کیا اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کی جدوجہد کی حمایت کا یقین دلایا۔آرمی چیف نے اس موقع پر کہا کہ بھارت اپنے زیر انتظام کشمیر کے نہتے عوام پر جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے اور ساتھ ساتھ ایل اوسی اور ورکنگ بائونڈری سے متصل پاکستانی آبادی پر بھی گولہ باری کر رہا ہے۔انہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پاکستانی افواج اپنی اقدار کے مطابق اس جارحیت کا بھرپور جواب دیتی رہیں گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے کشمیر میں جو ظلم جاری رکھا ہوا ہے، یہ تمام معنوں میں ریاستی دہشت گردی ہے۔یاد رہے کہ پاک فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد جنرل قمر باجوہ کا لائن آف کنٹرول کا یہ چوتھا دورہ ہے۔آرمی چیف کو یہاں کے سرحدی معاملات کا خاص طور پر علم اور مہارت حاصل ہے اور انہوں نے یہاں طویل خدمات انجام دی ہیں۔پاک فوج کے سربراہ کی جانب سے بار بار مشرقی سرحدوں پر دورہ اس خطے میں پاک فوج کی اپنی ذمہ داریوں پر پوری طرح توجہ کا کھلا ثبوت ہے۔ اس ضمن میں پاک فوج اپنی ذمہ داریاں پوری طرح سے نبھا رہی ہے۔ جہاں تک اس تنازعے کے مستقل حل کی مساعی اور ذمہ داری کا سوال ہے یہ حکومت اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے۔ اس ضمن میں کبھی خاموشی اور کبھی گرمجوشی دیکھنے میں ضرور آتی ہے لیکن کوئی بھی مساعی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو پاتیں۔ سابق صدر جنرل( ر) پرویز مشرف کے دور حکومت میں تو ایک موقع پر یہ گمان ہونے لگا تھا کہ گویا مسئلہ کشمیر پر دونوں ممالک کے درمیان سمجھوتہ ہونے کو ہے لیکن اس کے بعد چھائی ہوئی خاموشی رفتہ رفتہ کشیدگی کا باعث بنتی گئی۔ بھارت سے معاملت میں سیاسی و فوجی قیادت کے درمیان پوری طرح ہم آہنگی اور اعتماد کی مکمل کیفیت کا نہ ہونا بھی ایک مسئلہ ہے جسے تسلیم کیا جانا چاہئے اور اس پر توجہ کی ضرورت ہے ۔ جہاں تک اس ضمن میں عالمی سطح پر مساعی کا سوال ہے گو کہ اس ضمن میں امریکہ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش ہوتی رہی ہے اور اب ترکی کے صدر نے دونوں ممالک کو نیک مشورہ دیا ہے ۔ ممکن ہے بھارتی قیادت سے اس ضمن میں درون خانہ بات چیت بھی ہو لیکن اس کے باوجود جب تک دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلے کے حل کی نیت کے ساتھ براہ راست اور بیک چینل ڈپلومیسی دونوں ذرائع سے بھرپور مذاکرات شروع نہیں ہوتے پرنالہ وہیں کا وہیں گرنے کے مصداق ہی معاملہ رہے گا۔ پاکستان کی جانب سے مثبت رویہ اور ثالثی کی پیشکش کو تسلیم کرنے کا یکطرفہ رویہ یکطرفہ ٹریفک کی طرح ہے جب تک بھارت اپنی سوچ اور رویہ تبدیل نہیں کرتا کسی بھی سعی سے توقعات وابستہ کرنا حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا۔ بھارت جب تک مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کا سلسلہ بند نہیں کرتا اور لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال سویلین آبادی پر اچانک فائرنگ کا سلسلہ بند نہیں کرتا مذاکرات کا ماحول پیدا نہیں ہوسکتا۔ بھارت کو یہ نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے کہ بھارت کشمیری عوام کے حریت کے جذبات کو دبا سکتا ہے اور نہ ہی کشمیری عوام جدوجہد آزادی کا راستہ ترک کرنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں بلکہ اس سے الٹا عالمی دنیا میں خود بھارت ایک جابر ریاست کے طور پر سامنے آتا ہے جس کی دنیا بھر میں مذمت کی جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت کو حقیقت حال کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی اور مفید سیاسی حکمت عملیاں تشکیل دی جائیں ۔ بجائے اس کے کہ بھارتی حکومت حقیقت حال کو سمجھنے کی سعی کرے الٹا تشدد کے ذریعے کشمیری عوام کو زیر کرنے کا سوچا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ کی طرف سے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ مرکز کے خیال کے مطابق کشمیر میں صورتحال قابو کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مساجد کو حکومت کے تحت کیاجائے' مدرسوں اور میڈیا پر پابندیاں عائد کی جائیں اور اپنے ہم خیال سیاستدانوں سے رابطہ کیاجائے۔ یہ تجویز اپنی جگہ اس امر کا صاف اظہار ہے کہ بھارتی قیادت اور صلاح کاروں کو تشدد اور بہیمیت سے آگے کچھ سوجھتا ہی نہیں اور وہ ہوش کے ناخن لینے کو تیار نہیں۔ہمارے تئیں اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت وادی میں جاری حریت پسندوں کی جدوجہد کا جائزہ لے اور یہ سوچ بچار کرے کہ وادی میں بے چینی ہی بے چینی کی وجوہات کیاہیں۔ بہر حال جو لوگ ابھی تک مندرجہ بالا سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں مندرجہ بالا صورتحال مد نظر رکھنی چاہئے۔دکھ کی بات تو یہ ہے کہ اقوام عالم اور خاص طور پر مغربی قوتیں کشمیر کو ایک مسئلہ تو تسلیم کرتی ہیں لیکن وہ اسے دو ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعہ سمجھتی ہیں نہ کہ ایک عالمی مسئلہ جہاں پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ یوں اسے ابھی تک دو طرفہ مسئلے کی حیثیت ہی حاصل ہے۔ تبدیلی صرف اتنی آئی ہے کہ اس مسئلے کے بارے میں یہ کہا جانے لگا کہ مسئلے کا ایسا حل تلاش کیا جائے جو کشمیریوں کے لئے قابل قبول ہو۔

متعلقہ خبریں