Daily Mashriq


یہ محکمہ ہی ختم کردیاجائے

یہ محکمہ ہی ختم کردیاجائے

خیبر پختونخوا میں گزشتہ سات سالوں کے دوران رجسٹرڈ مزدوروں پر یومیہ 15پیسے خرچ کرنے کے اعداد و شمار حیران کن ہیں۔ اس سے بڑ ھ کر تعجب کی بات یہ ہے کہ اگر غیر رجسٹرڈ مزدوروں کو بھی ساتھ ملایاجائے تو ہر مزدور کے حصے میں یومیہ دو پیسے سے بھی کم آئیں گے ۔ ہمارے رپورٹر کی یہ خبر بڑی دلچسپ اور چشم کشا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد جب محکمہ محنت و افرادی قوت صوبائی حکومتوں کے ماتحت آیا تو خیبر پختونخوا حکومت نے پہلی مرتبہ مالی سال 2010-11ء میں مزدوروں کی فلاح کے دو ترقیاتی منصوبوں کیلئے تین کروڑ 20لاکھ روپے کی رقم مختص کی تاہم بدقسمتی سے سال کے اختتام تک یہ رقم بینک اکائونٹ سے نہیں نکالی جا سکی ۔ عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کے آخری سال 2012-13ء میں محکمہ محنت کیلئے7کروڑ 22لاکھ 90ہزار روپے مختص کئے گئے اور سال کے اختتام تک صرف 10لاکھ 74ہزار روپے ہی خرچ ہو سکے ۔ 2013ء میں جب تحریک انصاف نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تو مالی سال 2013-14ء میں مزدوروں کیلئے مختص فنڈ میں کٹوتی کرتے ہوئے صرف 2کروڑ 25لاکھ روپے مختص کئے گئے اور محکمہ نے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر فنڈ کے استعمال کی بھی تکلیف نہیں کی اور محض 35لاکھ روپے ہی خرچ کر سکاجبکہ دوسری جانب محکمہ محنت و افرادی قوت میں اس وقت 541افسران و ملازمین کام کر رہے ہیں جن کی تنخواہوں کیلئے رواں برس 23کروڑ 36لاکھ 53ہزار جبکہ محکمہ کے دیگر اخراجات کیلئے 10کروڑ 98لاکھ 93ہزار روپے رکھے گئے ہیں۔باقاعدہ اعداد و شمار کے ساتھ جن حقائق کا اوپر بیان ہوا ہے اس پر ایک لفظ بھی نہ لکھا جائے تو یہ تمام سابقہ اور موجودہ حکومت کو آئینہ دکھانے کیلئے کافی ہے اس کی روشنی میں اگر یہ تجویز دی جائے کہ متعلقہ محکمہ ہی ختم کر دیا جائے تو ایک صوبائی وزیر اور پانچ سو اکتالیس افسران وملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کی مد ہی میں خاصی بچت ہو گی ۔ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں بد عنوانی اور نا جائز بھرتیاں کسی سے پو شید ہ امر نہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ کسی حکومت کو مزدوروں کی فلاح و بہبو د بلکہ ان کی اشک شوئی کی تو فیق نہ ہو سکی ۔یہ ہماری جمہوری اور فلاحی حکومتوں اور غریب عوام کے مسائل کے حل کے دعویداروں کا اصل چہرہ ہے ۔

پولیس میں ترقی کیلئے تعلیمی استعداد بڑھا نے کی ضرورت

خیبر پختونخوا کی مثالی پولیس میں میٹرک پاس افسران کا اعلیٰ پوسٹوں اور انڈ رمیٹرک افراد کا افسروں کی پوسٹو ں پر پہنچ جانا پولیس میں آنکھیں بند کر کے بلاوجہ اور بلا سوچے سمجھے یا پھر سفارش اور رشوت کے بل بوتے پر ترقیوں کا مظہرہے ۔ پولیس میں دیگر سرکاری اداروں کی طرح ترقیاں ہونی چاہئیں مگر اس کا کوئی تعلیمی معیار مقرر ہونا چاہیئے ۔ محولہ قسم کے افراد اگر ایس پی ڈی ایس پی اور انسپکٹر کے عہدوں پر بیٹھے ہوںگے تو وہ ماتحتوں کی کیا کمان کریں گے اور ان کی کار کردگی کیا ہوگی اس کا اندازہ مشکل نہیں۔ آئے روز پولیس کے حوالے سے مشکلات اور مسائل کا سامنے آنا اس امر پر دال ہے کہ پولیس میں بھرتیوں او رترقیوں کا کوئی معیار نہیں اگر پولیس کے اعلیٰ حکام رولز کے ہاتھوں مجبور ہیں تو ان کو حکومت کو رولز میں تبدیلی کیلئے تحریری درخواست کی ضرورت ہے جس زمانے کیلئے محولہ تعلیمی معیار مقرر کیا گیا ہوگا اس دور میں یقینا محولہ تعلیمی قابلیت کے حامل افراد تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے کی تعریف پر پورا اترتے تھے مگر اب یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہر طالب علم کو اس میں شمار نہیں کیا جا سکتا کجا کہ اس دور میں انڈ ر میٹرک افراد کو سینئر عہدے دیئے جائیں ۔

متعلقہ خبریں