Daily Mashriq


طاقت کی چہچہاہٹ؟

طاقت کی چہچہاہٹ؟

عالمی میدان سیاست میں اس وقت سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر کے ذریعے اپنا مدعا اور موقف بیان کرنے کا رواج زوروں پر ہے ۔ ٹویٹر کے ذریعے دنیا کی طاقتور ریاستوں کے بااثر حکمران ،سیاست دان ،سفارت کار اور تاجرمختصر مگر جامع انداز میں چندگنے چنے لفظوں میں اپنی بات کرجاتے ہیں۔دنیا ایک ڈیڑھ جملے کی اس بات کو پوری توجہ اور دلجمعی سے سنتی ہے ۔بعض اوقات ڈیڑھ جملہ سیاسی بھونچال کا باعث بھی بنتا ہے ۔پاکستان میں چنددن سے کچھ ایسا ہی ہورہا ہے ۔ڈان لیکس کے مقدمے میں وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری ہونے والا نو ٹیفیکیشن شاید اتنی اہمیت نہ پاسکاجس قدر اہمیت اس پر تبصرے کے ٹویٹ کو حاصل ہوئی ۔یہ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا وہ ٹویٹ تھا جس میں وزیر اعظم سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کو نامکمل کہہ کر مسترد کر دیا گیا تھا ۔اس کے بعد سے یہ ٹویٹر موضوع بحث ہے ۔کسی کے خیال میں یہ آئین کی خلاف ورزی ہے اور کسی نے اسے جمہوریت کے لئے زہر قاتل قرار دیا ۔کوئی کہتا ہے کہ ٹویٹر سے معاملات نہیں چلائے جا سکتے تو کسی کا کہنا ہے کہ وہ جمہوریت ہی کیاجس کے استخوان ایک ٹویٹر سے لرزنے لگ جائیں۔چند دن پہلے ایک اور ٹویٹ کو بھی شہرت ملی تھی مگر یہ اس قدر زیادہ نہیں تھی ۔یہ تھا وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز کا ٹویٹ جو بھارتی سرمایہ دار سجن جندال کی خفیہ آمد اور مری میں وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا میں برپا ہونے والے ہنگامے کے بارے میں تھا ۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ'' جندال وزیر اعظم کے پرانے دوست ہیں اور ملاقات میںکچھ بھی خفیہ نہیں '' ۔اس سے پہلے دفتر خارجہ کی طرف سے مسٹر جندال کی اچانک پاکستان آمد اور بھاری پروٹوکول میں ویزے کے بغیر مری کی سیر اور وزیر اعظم سے خصوصی ملاقات کے حوالے سے قطعی اظہا رلاعلمی کیا گیا تھا ۔مریم نواز کے ٹویٹ سے یہ سوال پیدا ہوا تھا کہ آخر جندال کی موجودہ حالات میں پاکستان آمد کے محرکات کیا ہیں اور دفتر خارجہ ان سے لاتعلق کیوں ہے؟ظاہر ہے کہ جندال غیر سرکاری نمائندے کے طور پر کوئی سرکاری پیغام لائے تھے ۔دو ایسی ریاستوں میں جن کی فوجیں اس وقت حالت جنگ میں ہیں بلکہ چھوٹی موٹی پراکسی جنگوں میں باقاعدہ شریک بھی ہیں ایک دوسرے کو للکارنے اور زخم لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہیں۔جب روایتی سفارتی چینل بند ہو چکے ہیں اور دوملکوں کی جنگ جنوبی ایشیا تک پھیل چکی ہے ایک سیاسی و کاروباری شخصیت کی یوں خفیہ آمد اور اس کے محرکات اور وجوہات پر ایک شخصیت کا ذاتی ٹویٹ آئین کے عین مطابق نہیں تھا۔جب پورا ملک ایک شخص کی آمد پر سراپاسوال تھا تو ایک غیر متعلقہ شخصیت کی طرف سے معاملہ ایک ٹویٹ میں اُڑا دیا گیا ۔ پارلیمنٹ کو خبر نہ دفتر خارجہ کو پتا ، کابینہ کو سن گن نہ میڈیا کو خبر تو اس راز داری سے آئین پاکستان اور جمہوریت کا کون سا پرچم بلند کرنا مقصود تھا؟گویا کہ یہ اپنی'' ڈومین'' میں آئین کی کتاب اور مروج سسٹم کے اندر ''جو کرنا ہے کرلو'' کے انداز میںخالصتاََ طاقت کی ٹویٹ تھی۔بھارت اور پاکستان اس وقت ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے ہیں۔شورہنگامہ کا باعث بننے والے معاملے کو ایک ٹویٹ میں اُڑادینا آئین پاکستان کا تقاضا تھا نہ جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے ناگزیر تھا ۔خالص سیاسی طاقت کے اظہار کی اس چہچہاہٹ کے بعد میجر جنرل آصف غفور کی ٹویٹ جسے زیادہ شہرت ملی جوابی طاقت کی چہچہاہٹ تھی۔یوں دونوں ٹویٹس کا آئین پاکستان سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا ۔آئین ریاستی معاملات اور اداروں کی دائرہ بندی کا کام دیتا ہے ۔ہر ادارہ اپنے دائرہ میں گردش کرتا ہے اور کبھی کسی دوسرے دائرے میں داخل ہو کر ٹکرائو کا باعث نہیں بنتا مگر یہ نظم وضبط اسی وقت تک قائم رہتا ہے جب ہر فریق اپنے دائرے میں گردش کرتا ہے ۔پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں طاقت کی یہ کشمکش ایک مدت سے جاری ہے اور سیپس بڑھانے کے پائیدار اور دیرپا طریقوں کی بجائے چھینا جھپٹی چل رہی ہے ۔ایسے ملک میں جہاں جمہوریت کا پودا پوری طرح جڑ نہیں پکڑ سکتا بہت حکمت اور تدبر درکار ہوتا ہے۔طاقت سے لڑ کر طاقت حاصل کرنے کی روش کامیاب ہو تو انقلاب اور ناکام ہو تو بغاوت کہلاتی ہے ۔ ان مراحل پر قوموں کو بے لوث اور قد آور مدبرین کی ضرورت ہوتی ہے ۔پاکستان میں سیاسی قیادت اقتدار کی لذتوں سے اپنی ذات کی منفعت کو بھی نظروں میں سجائے رکھنا چاہتی ہے اور کلی طاقت بھی حاصل کر نا چاہتی ہے ۔یہی وجہ ہے یہاں اداروں کے درمیان ٹکرائو کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ۔ابھی کل کی ہی بات ہے کہ ملک میں کشمکش کی ساری فضا ء کو ایک آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے جوڑا جا تا تھا ۔حکومتی وزرا ء بہت تیقن کے ساتھ میڈیا کے سامنے کہتے تھے کہ نومبر کے بعد سب ٹھیک ہوجائے گا گویاکہ راحیل شریف کی ملازمت میں توسیع یا رخصتی ہر دو صورتوں میں پاکستان میں سیاسی اُبال بیٹھ جائے گا ۔جنرل راحیل شریف توسیع لئے بغیرجی ایچ کیو سے رخصت ہوگئے اور اب نیا نظام قائم ہوئے کئی ماہ گزر گئے ہیں مگر بھونچال اور بحران ہے کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔فوجی سربراہ نے ملازمت میں توسیع نہ لے کر ایک بلند اخلاقی معیار قائم کرنے کی سعی کی ۔اس کے بعدسیاسی قیادت کو بھی آگے بڑھ کر کچھ بلند اخلاقی مثالیں قائم کرنا چاہئے تھیں ۔جن میں ایک ڈان لیکس کے مقدمے کو'' اگر مگر ''کی نذرکرنے کی کوشش کی بجائے رپورٹ پر من وعن عمل درآمد تھا ۔پانامہ لیکس میں وہی اخلاقی معیار قائم کیا جاسکتا تھا جس کا مشورہ یوسف رضا گیلانی کودیا گیا تھا ۔پاکستان کی سیاسی قیادت جب تک عہدہ ومنصب کو سیاسی ضرورتو ں اور مصلحتوں سے الگ کر کے برتر اخلاقی معیارقائم نہیں کرتی اپنی اپنی طاقت کی چہچہاہٹ یونہی جاری رہے گی اور جب معاملہ صرف طاقت کے اظہار کا ہو تو پھر طاقتور اور طاقتور ترین کے روایتی اصول پر ہی فیصلہ ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں