Daily Mashriq


پاکستان میں جینوئن جمہوری حکومت نہیں چل سکتی

پاکستان میں جینوئن جمہوری حکومت نہیں چل سکتی

مشرف نے آئین توڑا،مارشل لا لگایا،کشمیر پر سمجھوتہ کیا،اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پس پشت ڈال کر مسئلہ کشمیر پر چار نکاتی فارمولہ پیش کیا،حریت کانفرنس کے دو ٹکڑے کر کے سید علی شاہ گیلانی کو دیوار سے لگایا،لال مسجد پر مہلک آپریشن کر کے ان گنت لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا،بلوچستان میں فوجی آپریشن کر کے اکبر بگٹی کا پتہ صاف کیا،عدلیہ کے خلاف پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی چڑھائی کی،کراچی پر چڑھائی کر کے اسلام آباد میں مکے دکھائے،ڈاکٹر عافیہ کو امریکیوں کے حوالے کیا،دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دے کر پاکستان کو پرائی جنگ میں گھسیٹا، افغان سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کو سفارتی آداب روند کر امریکہ کے حوالے کیا،کھٹمنڈو کانفرنس میں '' سرپرائز'' دیتے ہوئے واجپائی کی سیٹ پر جا کر اس سے ہاتھ ملایالیکن اس پر مقدمہ چلانے کی کوشش کی گئی تو اسے حکومت پر خفیہ دبائو ڈال کر ملک سے بھگا دیا گیا۔

نواز شریف نے زرداری کے ہاتھوں نوچے کھسوٹے ملک کی سمت درست کی ،تباہ و برباد معیشت کو ازسر نو تعمیر کیا،بجلی جیسے تباہ کن مسئلے کے حل کے لئے جنگی بنیاد وں پر منصوبے شروع کر کے دو ہزار اٹھارہ میں لوڈ شیڈنگ کی نوید سنائی،سڑکوں اور موٹر ویز کا جال بچھانے کے منصوبے شروع کئے،عالمی سطح پر پاکستان کی تنہائی ختم کرنے کے اقدامات کئے،بلوچستان کی محرومیوں کا ازالہ کر کے اسے قومی دھارے میں لا یا،عشروں سے بگڑے ہوئے کراچی کے حالات درست کئے،دہشت گردوں،ملک دشمنوں اور ڈاکوئوں کا صفایا کرنے کے لئے فوج کے کندھے سے کندھا ملایا،کشمیر پر اقوام متحدہ میں جاندار موقف اپنایا،بھارت کے ساتھ برابری کی سطح پر بات کی،ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سی پیک منصوبہ شروع کیا جس سے پاکستان اور چین مضبوط پارٹنر ہی نہیں بنے ایک ترقی یافتہ پاکستان کی امید بھی بندھی لیکن اس کی راہ میں قدم قدم پر روڑے اٹکائے گئے۔اس نازک وقت میں جبکہ چین کے صدر نے اسلام آباد آنا تھا، وفاقی دارالحکومت میں دھرنے کا تماشہ بنایا گیا۔یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں خود کش بمبار گھوم رہے تھے،ایک ہیبت ناک قسم کا قومی سانحہ ہو سکتا تھا لیکن کپتان سے ایک بار بھی نہ کہا گیا کہ ہم اس ہنگامے کو مسترد کرتے ہیں۔ نواز شریف جس نے دن رات ملک کے لئے کام کیا اسے ایک بار بھی شاباش نہ دی گئی ۔کسی نے اسے غدار کہا تو کسی نے کرپٹ۔کبھی دو ماہ کے اندر اندر اس کے اقتدار کے خاتمے کی نوید سنائی گئی تو کبھی اس تک پیغام پہنچایا گیا کہ وہ دل کی سرجری کرانے کے بعد ملک واپس نہ آئے۔پیپلز پارٹی کا میڈیا ٹرائل ایک ''قومی روایت'' بن گئی تھی لیکن جو میڈیا ٹرائل نواز شریف کاکرایا گیا شاید ہی کسی اور سیاسی جماعت کا ہوا ہو۔

ملک کوہر ادارے کے ہزاروں لوگوں نے بیدردی سے لوٹا، لوٹنے والے آزاد پھر رہے ہیںاور احتساب کے شکنجے میں صرف شریف فیملی کو لیا گیا۔سیاستدانوں نے مل کر اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے وزیر اعظم کے آفس کو طاقت دی تو یہ سمجھ لیا گیا کہ اب آئین کا بول بالا ہو جائے گا لیکن نا سمجھوں کو یہ اندازہ نہ ہو سکا کہ''ان'' کے لئے دستور کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔وہ اپنے سو ا کسی کو شہ دماغ نہیں سمجھتے۔ان کی نظر میں سارے سیاستدان عقل سے پیدل ہیں۔

کپتان سمجھتا ہے کہ وہ اگر حکومت بنا لے تو چلا لے گا۔ بھول ہے خام خیالی ہے اس کی حکومت کا بھی وہی حشر ہوگا جو عوام کے جینوئن ووٹوں سے بنتی ہے۔ الزامات اور طرح کے ہوسکتے ہیں لیکن با اختیار طریقے سے وہ حکومت چلا لے یہ نا ممکن بات ہے۔

ان کی نظر میں پیپلز پارٹی راندہ درگاہ کیونکہ جینوئن عوامی پارٹی ہے۔ ان کے حساب سے مسلم لیگ ن بھی ناقابل قبول ہو چکی۔رہی ق لیگ تو اس بیچاری میں اتنا دم خم ہی نہیں کہ عوام سے ووٹ لے کر حکومت بنا سکے۔ چنانچہ طے شدہ بات ہے کہ انہوں نے تحریک انصاف کی حکومت کو بنوا کر ہی دم لینا ہے لیکن چلنے اسے بھی نہیں دیں گے کہ کپتان صاف گو آدمی ہے۔اسے ہدایت نامہ تھمایا گیا توری ایکشن دے گا جسے گستاخی سمجھ کر اسے بھی رد کر دیا جائے گا۔اور جب تحریک انصاف بھی رد ہو گئی تو پھر سب کچھ ختم۔

نواز شریف کو یہ بات جان لینی چاہئے کہ وہ کچھ بھی کر لیں،انہیں حکومت نہیں کرنے دی جائے گی۔انہیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر مشرف تنائو کے حالات میں واجپائی سے ہاتھ ملائے تو ہیرو لیکن تنا ئو کے دنوں میں جندال ان سے ملنے آئے تویہ ناقابل قبول۔انہیں ادراک ہونا چاہئے کہ جو بھی آئین ،قانون اور جمہوریت کے سائے میں ملک کو ترقی سے ہمکنار کرنے کی کوشش کرے گا منہ کے بل گرایا جائے گا۔وہ بھٹو کا انجام دیکھ لیں،بینظیر بھٹو کا حال دیکھ لیں اور سمجھ لیں کہ اگر ضد پر اڑے رہے تو پتہ نہیں کیا ہو جائے اس لئے اقتدار پر دو حرف بھیج کر اس سے پیچھا چھڑا لیں۔اگر چوہدری نثار جیسا شخص جسے ان کے تحفظات کا سب سے زیادہ خیال ہے پھٹ سکتا ہے تو جان لیں کہ آپ اور آپ کے ساتھیوں میں سے ان کو کئی ایک بھی قبول نہیں۔یہ حزب اختلاف ،یہ بے مہار نیوز چینل جو معاملے میں آپ کو رگیدنا اپنے دین ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں،ان کا کلیجہ ٹھنڈا ہو لینے دیجئے۔تھوڑے ہی عرصے میں آپ جوتیوں میں دال بٹتے دیکھیں گے۔وہ ان کے ساتھ اس سے بدتر سلوک کریں گے جو آپ کے ساتھ ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں