Daily Mashriq


کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے ؟

کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے ؟

وہ جو ہر سال تماشہ ہوتا ہے ایک بار پھر شروع کر دیا گیا ہے ، بجٹ کی تیاری کے دنوں میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ مختلف ذرائع سے سرکاری ملازمین اور خاص طور پر پنشنرز کیلئے اضافوں کے حوالے سے فلرز چھوڑے جاتے ہیں اور ان بے چاروں کو امید کی روشنی دکھائی جاتی ہے۔ پھر چند روز بعد ایک نیا فلر اور سرکاری دفاتر میں یارلوگ کیلکولیٹر ز ہاتھوں میں پکڑ کر ضرب تقسیم ،جمع ، تفریق کے بٹن دبا دبا کر تنخواہوں میں ممکنہ اضافے کا حساب کتاب لگا کر دل خوش کرنے کا شغل اختیار کرتے ہیں ۔ ان خبروں کے مطابق ممکنہ اضافے پر بحث کی جاتی ہے، کوئی اسے قبولیت کی سند عطا کرتا دکھائی دیتا ہے اور زیادہ تر ملازمین مہنگائی کے عفریت سے لڑنے کے حوالے سے اس کو مسترد کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، ابھی یہ مثبت اور منفی تبصرے کسی کل بیٹھنے نہیں پاتے کہ ایک نیا شو شا ، نیا فلر آجاتا ہے ، ساتھ ہی بعض مراعات کا اعلان بھی آجاتا ہے جس سے کچھ امید بند ھی دکھائی دیتی ہے ، مثلاً اب کی بار یہ خبر گردش میں ہے کہ ملازمین کو ریلیف دینے کیلئے قابل ٹیکس آمدنی کی مد 5لاکھ کی جارہی ہے یعنی جو سرکاری ملازمین سال میں مجموعی طور پر پانچ لاکھ روپے سرکار سے وصول کریں گے ان کی آمدنی انکم ٹیکس سے متثنیٰ ہوگی ۔ نظر بہ ظاہر تو یہ ایک اچھی تجویز ہے بشر ط یہ کہ اس پر واقعی عمل ہو جائے ۔ کیونکہ ہند سے کے لحاظ سے تو یہ پانچ لاکھ روپے بھی بظاہر بہت دکھائی دیتے ہیں تاہم ان روپوں میں طاقت اتنی نہیں کہ ملازمین بے چارے اتنی رقم میں اپنے جائز اخراجات بھی پورے کر سکیں ، خاص طور پر بچوں کے تعلیمی اخراجات ان دنوں جس سطح پر پہنچ چکے ہیں اگر کسی کے گھر میں تین سے پانچ بچے ہوں تو ہو ہر مہینے ایک عجیب مشکل سے دوچار رہتا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور خصوصاً پنشنرز کے حوالے سے آنے والے بجٹ میں جو فیصلے کئے جانے ہیں ان کے حوالے سے اب تک کئی خبریں سامنے آئی ہیں ، جبکہ تازہ ترین خبر یہ ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں میں 35فیصد تک اضافہ کیلئے سفارشات طلب کر لی گئی ہیں ، ساتھ ہی ذیلی سرخی خبر کی یہ ہے کہ گریڈ ایک سے سولہ تک کے ملازمین کی اپ گریڈ یشن اور تنخواہوں اور پنشن میں پندرہ فیصد تک اضافہ کیا جائے گا۔ پے اینڈ پنشن کمیٹی کی سفارشات کا جائزہ لینا شروع کر دیا جائے گا ۔ اب اس خبر میں گریڈ 17اور اوپر کے پنشنرز کی پنشن میں کتنا اضافہ کیا جارہا ہے اس بارے میں خبر میں کوئی تفصیل موجود نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہی لیا جا سکتا ہے کہ ان کو پنشن میں شاید دس فیصد زیادہ اضافہ نہ ملے جو ہم سمجھتے ہیں کہ صریح زیادتی کے مترادف ہے اس لئے کہ حاضر سروس ملازمین کو اپ گریڈیشن کی سہولت کے ساتھ ساتھ 35فیصد اضافہ سے نہ صرف ملازمین کے گریڈ تبدیل ہونے کا ایک فائدہ جبکہ 35فیصد دوہرا اور اگر آمد ن کی حد میں 5لاکھ تک منظوری دی جاتی ہے تو یوں یہ تہرے فائدے سے مستفید ہوں گے (جو اچھی بات ہے )لیکن پنشنرز کو صرف گریڈ 16تک 15فیصد اور بقیہ کو اس سے کم یعنی ممکنہ طور پر آٹھ یا دس فیصد پر ٹرخا ناقرین انصاف ہر گز نہیں ہے اور اصولی طور پر تمام ملازمین کو پندرہ فیصد کے حساب سے پنشن میں اضافہ دے کر مہنگائی کا مقابلہ کرنے کی طاقت دی جائے ۔ 

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

آنے والے بجٹ کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑے گا وہ ایک الگ مسئلہ ہے ، یعنی رمضان شریف کی بھی آمد آمد ہے اور جیسا کہ نہایت واضح ہے کہ ہمارے ہاں رمضان کا مہینہ ناجائز منافع خوری ، ذخیرہ اندوزی اور بلکہ ملاوٹ شدہ اشیاء کو مہنگے داموں ٹھکا نے لگانے کیلئے بعض بد بخت لوگوں کیلئے ناجائز کمائی کا سند یسہ لیکر آتا ہے ، اور اس صورتحال کے آثار ابھی سے ہویدا ہونا شروع ہو چکے ہیں ۔ اگر چہ حکومت نے یوٹیلیٹی سٹورز پر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں کمی کی نوید دی ہے تاہم صرف یو ٹیلیٹی سٹور ز کہاں تک عوام پر مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے میں ممد ثابت ہو سکتے ہیں ، جبکہ بد قسمتی سے عمومی تاثر یہ بھی ہے کہ ان سٹور ز پر ملنے والی اشیاء کی کوالٹی کمزور ہوتی ہے ، اور لوگوں کو ان سے شکایات رہتی ہیں۔ خاص طور پر دالیں ، چاول وغیرہ ، ناقص کوالٹی کے ہوتے ہیں۔ بہر حال یہ تو ایک ضمنی مسئلہ ہے مگر عام مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں ہر سال جب رمضان المبارک کے دنوں میں ایک دفعہ بڑھ جاتی ہیں تو واپس اپنی سطح پر نہیں آتیں اور پھر اگلے سال رمضان تک اسی سطح پر رہتے ہوئے عوام کے مستقل استحصال کا باعث بنتی رہتی ہیں۔ یوں اگر ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں تھوڑا بہت اضافہ ہو بھی جاتا ہے تو یہ اضافی آمدن انہی منافع خوروں کی جیبوں میں منتقل ہو جاتی ہے ، جبکہ اصل حقیقت اس قسم کی خبریں جاری کرنے کی یہ بھی ہوتی ہے کہ ملازمین اور پنشنرز کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر بجٹ کی آمد تک دوڑا دوڑا کر تھکا دیا جائے اور بجٹ میں زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس فیصد تنخواہوں اور حسب سابق دس فیصد پنشن میں اضافے کا اعلان کرکے خاموشی سے تلخ گھونٹ پینے پر مجبور کر دیا جائے ، چاہے وہ چند روز شور شرابا کر کے نامنظور نامنظور کے نعرے ہی کیوں نہ لگادیں ، لیکن بالا خر انہیں اسی تنخواہ پر کام کرنے پر آمادہ کیا جائے ۔ کیونکہ یہ سرکاری ملازم اور پنشنرز ہی تو ہیں کوئی ارکان پارلیمنٹ تو نہیں جو ایک دم سے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں دو سے تین سو فیصد اضافہ کر کے بھی مزید کی توقع کرتے ہیں ۔

نہ شب و روز ہی بدلے نہ حال اچھا ہے

کس بر ہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے

متعلقہ خبریں