Daily Mashriq


ریاست سیاست اور قیادت ، علمائے سیاست کی نظر میں

ریاست سیاست اور قیادت ، علمائے سیاست کی نظر میں

سیاست اور اس کے مصدر ''سوس'' کے بنیادی معنی ''اصلاح کرنا اور سنوارنا '' ہیں ، اسی لئے سیاست عام آدمی کا کام نہیں بلکہ یہ قوم کے مدبر اور قیادت کی صلاحیتیوں سے معمور لوگوں کا کام ہوتا ہے ۔ اصطلاحی معنوں میں سیاست مخلوق خدا کی اصلا ح اور رہنمائی و قیادت کرنا ہے ، ایسی رہنمائی جو دنیا اور آخرت کی کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہو ۔

عربی زبان کا لفظ ''سیاست '' انگریزی زبان کے لفظ پالیٹکس سے زیادہ وسیع معنی ومفہوم کا حامل ہے ۔ پالیٹکس کا لفظ صرف ملکی و قومی حکومتی سیاست کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کا تعلق دنیاوی امور سے ہوتا ہے جبکہ لفظ سیاست میں مخلوق کی اصلاح و بھلائی دنیا و آخرت میں مقصود ہے ۔ اس لئے اسلامی سیاست عام سیاست سے مختلف ہوتی ہے ۔ اس لئے علامہ ابن خلدون ''سیاست کو اللہ کی نیا بت اور اس کے بندوں پر اسی کے احکام نافذ کرنے کا کام قرار دیتے ہیں ''یونان سے لیکر موجودہ مغربی نظام ریاست و سیاست کا کام فرائض حکومت ادا کرنا اور لوگوں (عوام) کو نظم و ضبط (ڈسپلن ) کے تحت لانا ہے جو ایک قوم و اجتماع کی شکل میں جمع ہوں ۔ ان تعریفات کی رو سے اسلامی سیاست اور لادینی سیاست میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ اور عالم اسلام میں اس وقت یہ بہت بڑ ا مخمصہ بن چکا ہے کہ مذہب اور سیاست و ریاست کا آپس میںکوئی تعلق ہے کہ نہیں ۔

اب یہاں پر ملوکیت اور بادشاہت کے حوالے سے اسلامی اور فرعونی ملوکیت کی تقسیم شروع ہوجاتی ہے ۔ انسانی تاریخ کے اُس دور میں جب آج کے جمہوری نظام کی شدبد کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی تو انسانوں پر حکمرانی کے لئے جن لوگوں کو مامور کیا گیا یا مامور ہوئے ، تو اُس میں بھی یہی دو قسم کے حکمران تھے ۔ ایک وہ بادشاہ یا ملک جو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق حکمرانی کرتے تھے اور دوسرے وہ جو اپنی مرضی اور مطلق العنانیت کے مطابق چلتے رہے۔ ان دونوں طرز ہائے حکومت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ''بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ جب ایک نبی کا انتقال ہو جاتا تو دوسرانبی ان کی جگہ آجاتا۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور میرے خلفاء موجود رہیں گے اور بعض اوقات بیک وقت ایک سے زیادہ ہوں گے'' ۔ صحابہ کرام نے پوچھا کہ ایسی صورت حال کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا حکم ہے۔ فرمایا جس کی بیعت پہلے ہوئی ہو( پہلے تقرر ہوا ہو) اس کی بیعت پوری کرو( اس کی اطاعت کرو)۔ خلفاء کا حق ادا کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ ان سے رعیت کے بارے میں خود پوچھے گا۔''

اس حدیث کی رو سے سیاست اسلام کا ایک اہم شعبہ ہے کیونکہ اسی کے ذریعے حکومت قائم ہوتی ہے اور عوام کے حقوق کی ادائیگی کا نظام وجود میں آتا ہے۔ جس طرح بعض لوگ دور حاضر کی سیاست اس کے کھلاڑیوں کے معمولات و معاملات کو دیکھ کر سیاست ہی سے متنفر ہو جاتے ہیں اسی طرح ملک (بادشاہ) وغیرہ کے تحت نظام سیاست (ملوکیت اور آمریت) وغیرہ کو نا پسندیدہ سمجھتے ہیں حالانکہ جس طرح علم کی دو قسمیں ہیں۔ علم نافع' علم غیر نافع' اسی طرح علماء اور سیاستدانوں اور بادشاہوں اور حکمرانوں کی بھی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ قرآن کریم میں تو اس بات کا صریح ذکر ہے کہ نبی کی موجودگی میں بادشاہ مقرر کیاگیا ہے بلکہ لوگوں کے مطالبے پر ہوا ہے۔ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 247 میں طالوت کو بادشاہ مقرر کیا گیا۔ بعض انبیاء کو بھی اللہ تعالیٰ نے ملوکیت (بادشاہت) سے نوازا۔ جیسے حضرت سلیمان علیہ السلام' اگر ملوکیت بذاتہ بری چیز ہوتی تو اللہ تعالیٰ کسی نبی کو بادشاہ بناتا نہ اس کا ذکر قرآن کریم میں انعام کے طور پر فرماتا۔''

اب یہاں وہ سوال پیدا ہوتا ہے جو آج کل ایک ضرب المثل بن چکا ہے کہ بری سے بری جمہوریت آمریت سے اچھی ہوتی ہے۔ یہ آدھی بات اور آدھا سچ ہے۔ کیا اس کو اس طرح نہیں لیا جاسکتا کہ ملوکیت یا شخصی حکومت میں اگر بادشاہ' عادل اور متقی ہو تو کیا آج کی لا دین' سیکولر مغربی جمہوریت یا اس کی پیروی میں تیسری دنیا میں رائج لولی لنگڑی' کرپٹ اور عوام کے بنیادی حقوق ہڑپ کرنے والی جمہوریت سے ہزار درجے بہتر نہ ہوگی۔ ہاں قرآن کریم میں ان بادشاہوں کا بھی ذکر ہے کہ جب وہ کسی بستی( ملک) میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو خراب کردیتے ہیں اور وہاں کے باعزت لوگوں کو بے عزت کر ڈالتے ہیں اور ایسا ہی کرتے رہتے ہیں''۔ ایسے بادشاہوں کی بادشاہت اور ملوکیت کا اسلام میں کوئی جواز نہیں کیونکہ اسی نظام میں عوام کو ذلیل و خوار کرکے اور ظلم و فساد کا بازار گرم کرکے عوام کو بادشاہ کا غلام بنایا جاتا ہے اور بادشاہ خود کوخدائی کے مقام پر رکھ کر اپنے ارد گرد ایک مقدس ہالہ بنا کر اپنی مرضی و منشا کو ماخذ قانون قرار دیتا ہے۔ یہی فساد کی جڑ بن جاتی ہے۔ اسی جابرانہ نظام کے خلاف یورپ میں معر کے برپا ہوئے اور بادشاہت و ملوکیت کو عملاً ختم کرکے جمہوری نظام کی بنیادیں ڈالیں۔ لیکن بادشاہت کی مزاجوں میں راسخیت کے سبب یورپ کے کئی ایک ممالک میں آئینی بادشاہت اب بھی موجود ہے۔

متعلقہ خبریں