Daily Mashriq


اداس نسلیں

اداس نسلیں

پہلے اتوار کی اور پھر یکم مئی مزدوروں کے عالمی دن کی چھٹی تھی ۔ چھٹی کے دن یوں بھی فراغت ہوتی ہے ۔ اتوار کی ایک چھٹی تو یوں بھی شادی بیاہ کی تقریبات کی نذر ہوجاتی ہے ، جو وقت بچتا ہے اس میں گھر کے وہ کام کاج کرلیے جاتے ہیں جو اسی چھٹی کے دن کے لیے مخصوص ہوتے ہیں ۔ اتوار کے علاوہ اضافی چھٹی کسی بھی ٹریٹ سے کم نہیں ہوتی ۔ ہفتے بھر کاموں کی شدیدمصروفیت میں چھٹی کسی نعمت سے کم تو نہیں ہوتی۔صبح بچوں کے لیے ناشتہ لینے باہر نکلا۔گھر کے پچھواڑے میں ایک کباڑی کا گودام ہے کہ جس میںپرانے فریج ، اے سی اور خدا جانے کن کن مشینوں کو توڑتوڑ کر ان میں سے لوہا تانبا اور دیگر اشیاء نکال کر الگ کی جاتی ہیں ۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اس گودام میں شفٹیں کتنی چلتی ہیں ۔ صبح سویرے ہی ہتھوڑوں کے چلنے کی آوازیں آنا شروع ہوجاتی ہیں ۔رات کو ہی کتاب پڑھنے کا موقع ملتا ہے یا پھر کچھ لکھنا ہوتو یہی وقت ملتا ۔رات کے اس پہر جب سب سو رہے ہوتے ہیں اس وقت آواز اور بھی تیز سنائی دیتی ہے ۔ کباڑی کے گودام سے اس وقت بھی ہتھوڑے چلنے کی آوازیں آتی ہیں۔ پہلے یہ آوازیں بری لگتی تھیں اب مانوس ہوچکے ہیں بلکہ بیک گراؤنڈ موسیقی کا کام دیتی ہیں ۔ ناشتہ لے کر واپس آرہا تو اس گودام کے سامنے سے گزر ہوا تو وہاں اس وقت بھی چار پانچ مزدور کام کررہے تھے ۔ ان مزدوروں سے ہاتھ ملایا اور انہیں بتا یا کہ آج ان کا دن ہے ۔سب مزدور بہت خو ش ہوئے کہ کوئی تو ہے جسے ان کا دن یاد ہے ۔ مگر ان میں سے کسی نے بھی سوال نہ کیا کہ محترم دن ہمارا ہے اور چھٹی آپ منا رہے ہیں ۔ کسی نے یہ شعر نہیں سنایا کہ اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا ۔میرے واپسی کے سلام کے بعد وہ سب مزدور اپنے اپنے کام میں مشغول ہوگئے ۔ہمارے دوست ڈاکٹر تاج الدین تاجور اپنے کسی غیرملکی استاد کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ انہوں نے کلاس میں سب سے پوچھا کہ پاکستان میں اتنی کرپشن ، اقربا پروری ، بدامنی اور دیگر مسائل کے باوجود پاکستان کا وجود قائم ہے اس کی کیا وجہ ہے ۔جب سب شاگرد اپنے اپنے خیالات کے مطابق جواب دے چکے تو اس غیر ملکی استاد نے بتایا کہ پاکستان میں مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے لوگ بہت زیادہ ہیں ۔ پاکستان انہی کے دم قدم پر چل رہا ہے ۔یہ کلاس پاکستان کے پورے سسٹم پر حاوی ہے ۔ اس کلاس کا مقصد گھر کا چولہا جلانا ہے ۔یہ کلاس صحیح معنوں میں قناعت پسند کلاس ہے ۔ جسے نہ تو نئے ماڈل کی کار کے ماڈل کو تبدیل کرنے کا ہوش ہے نہ ہی اپنی کوٹھیوں کی رینوویشن کاارادہ ۔یہ کلاس فیشن کے لیے ہربرس عمرہ کرنے بھی نہیں جاتی ۔یہ کلاس ملک میں پانامہ لیکس کے غلغلے ، اسلام آبا دمیں جاری دھرنے،ایان علی اور ڈاکٹر عاصم کے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام آنے یا نکالے جانے سے بھی بے پرواہ ہے ۔یہ کلاس آئندہ الیکشن میں سیاسی پارٹیوں کے جوڑ توڑ کو بھی اہمیت نہیں دیتی ۔اس کلاس کے لوگ ملک کا پہیہ صحیح معنوں میں اپنے پسینے کے ایندھن سے چلا کربھی ملک کے معزز شہری نہیں سمجھے جاتے ۔یہ کلاس وی آئی پی اور وی وی آئی پی کلاس کی زد میں زندگی گزارنے کاہنر سیکھ چکی ہے ۔ اس کلاس کے افراد گھنٹوں اشاروں پر کڑی دھوپ میں کھڑے ہوکر اپنے ووٹ اور اپنے ٹیکس دے کر پالے جانے والے وی آئی کا کانوائے گزر جانے کا انتظار کرلیتے ہیں ۔ یہ کلاس کولہوکے بیل کی طرح سسٹم کے چکر میں بخوشی چل لیتی ہے ۔ذات برادری ، نسل ،زبان ،مسلک کے بہکاوے میں خود بخود آجاتے ہیں ۔ پھر کوئی بھی ٹوپی انہیں پہنادو یہ پہن لیں گے اور زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگالیں گے۔ ان کے لیڈر پرتعیش زندگی گزاریں گے اور یہ حجروں ، بیٹھکوں ، چوپالوں ، دفتروں اور بازارو ںمیں ان کی سچائی شرافت اور اعلیٰ کردار کی قسمیں کھاتے پھریں گے ۔ بقول عبداللہ حسین یہ ''اداس نسلیں ''ہیں جو خود اپنے لیے ایسی زندگی کا انتخاب کرتی ہیں کہ جس میں پھول نہیں اگتے بس کانٹے ہی اس زندگی کی پیداوار ہوتے ہیں ۔ ایک لوڈ شیڈنگ ہی کو لے لیجئے شاید ہی کوئی قوم اس عذاب کا سامنا کرسکتی جو اس اداس نسل نے برداشت کی ۔ جھوٹ جتنا کوئی بول سکتا ہے اس قوم کے ساتھ بولا گیا ہے اور خدا جانے کتنا بولا جائے گا لیکن یہ بادشاہ طبیعت فقیر مخلوق ہر جھوٹ کو سچ سمجھ کر آگے گزر جاتی ہے ۔ آپ سوچیے ذرا کتنے برسوں سے ہم یوم مزدور مناتے ہیں اور اس دن چھٹی کرنے کا فریضہ بھی نبھاتے ہیں۔ مزدروں کی عظمت پر کالم لکھے جاتے ہیں ۔ تقاریب ہوتی ہیں لیکن کبھی کسی حکومت نے مزدورں کے لیے چھت بنوانے کا اہتمام کیا ؟ کسی نے روزگار دینے کا جھوٹا ہی سہی وعدہ کیا ؟ان کے علاج معالجے کی کسی نے بات کی ؟مزدور سے مراد ایک خاص طبقہ نہیں کہ جو مزدوری کرتا ہے ،مڈل کلاس کے ہم سب لوگ مزدور ہیں ۔ہماری مزدوری ہماری چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کو کھینچ تان کر پورا کرتی ہے لیکن ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہمارے حکمرانوں کی عیاشیوں کو ہماری یہی مزدوری پورا کرتی ہے ۔ ہم مزدوری نہ کریں تو ان کے اے سی بند ہوجائیں ان کے جہاز نہ اڑیں ، ان کے لاکھوں کے کچن دھواں چھوڑنا بھول جائیں ۔سو میری طرح وہ مزدور خوش قسمت ہیں کہ جو اپنے عالمی دن کے موقع پر کم از کم ایک چھٹی کرنے کی عیاشی تو کرسکتے ہیں ۔ باقی مزدوروں کا اللہ حافظ۔

متعلقہ خبریں