Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

یحییٰ بن عمر تمیمی معروف محدث حضرت سفیان بن عیینہ کے قریبی ساتھی تھے ۔ ایک مرتبہ وہ جہاد کے لیے نکلے اور اپنی ساری جمع شدہ پونجی اس راہ میں خرچ کر ڈالی ۔ جب یہ اپنی اس مہم سے واپس آئے تو ان کی ملاقات سفیان بن عیینہ سے ہوئی ۔ سفیان نے ان سے کہا : آپ نے جو کچھ خرچ کر دیا ہے ، آپ کے دل میں اس بارے میں کوئی ملال نہیں ہو نا چاہیئے ۔ آپ نے بہت عظیم کام کیاہے۔ آپ کو پتا ہے کن کن ہستیوں نے آپ کے لئے دعا کی ہے؟یحییٰ کہتے ہیں: میں نے تعجب سے پوچھا: کن کن ہستیوں نے میرے لئے دعا کی ہے؟سفیان بن عیینہ نے فرمایا: آپ کے لئے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں نے دعا کی ہے۔ میں نے تعجب سے پوچھا: وہ کیسے؟ سفیان کہنے لگے: آپ نے رب تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں پڑھا:ترجمہ'' وہ فرشتے جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے ارد گرد ہیں وہ اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں۔ وہ اس پر ایمان بھی رکھتے ہیں اور ایمانداروں کے لئے بخشش کی دعا بھی کرتے ہیں''۔ (المومن7:)

اسی پر بس نہیں' سیدنا نوح علیہ السلام نے بھی آپ کے لئے دعا کی ہے۔ میں نے حیرت سے پوچھا: وہ کیسے؟ سفیان بن عیینہ نے فرمایا: کیا آپ نے قرآن کریم میں نہیں پڑھا:ترجمہ'' اے میرے رب! مجھے' میرے والدین اور جو مومن میرے گھر میں داخل ہوئے ہیں انہیں معاف فرما اور سب مومنین اور مومنات کو بھی معاف فرما''۔ (نوح28:)یہ سلسلہ یہاں نہیں رکتا بلکہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بھی آپ کے لئے دعا کی ہے۔ میں نے پر تجسس لہجے میں کہا: وہ کیسے؟سفیان بن عیینہ نے کہا: کیا آپ نے کتاب الٰہی میں نہیں پڑھا؟ ترجمہ'' اے میرے رب! حساب والے دن مجھے' میرے والدین اور مومنین کو معاف فرمانا''۔ (ابراہیم41:)میرا تجسس مزید بڑھ گیا۔ میں نے پوچھا کیا رسول اقدسۖ نے بھی مومنین کے لئے دعا فرمائی ہے؟ سفیان نے کہا: رسول اکرمۖ تو اپنی امت کے لئے سب سے زیادہ مشفق و مہربان تھے۔ بھلا آپۖ اپنی امت کے مومنین کو کیسے نظر انداز کرتے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

'' ( اے میرے نبی!) اپنے لئے اور مومنین و مومنات کے گناہوں کے لئے معافی طلب کیجئے''۔

(سورہ محمد 19:47)( رواہ أبو نعیم الہ أصبھانی فی الحلیة279/7:)

حضرت محمد بن سیرین نے ایک شخص سے پوچھا کہ کیسے ہو؟ اس نے جواب دیا: کیا حال ہوسکتا ہے اس شخص کا جو 500درہم کا قرض دار ہو اور عیال کثیر رکھتا ہو اور ایک پیسہ اس کے ہاتھ میں نہ ہو۔ یہ بات سن کر ابن سیرین اپنے مکان تشریف لے گئے اور ایک ہزار درہم لا کر اس کے حوالے کئے کہ 500درہم قرضہ میں دے دو اور 500درہم اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو۔ آپ نے فرمایا کہ ''دریافت حال کے بعد عملی طور پر غمخواری نہ کرنا منافقت ہے۔'' (مخزن اخلاق صفحہ 325)

متعلقہ خبریں