Daily Mashriq


انتقال انتظام محتاط طریقے سے منتقل کیا جائے

انتقال انتظام محتاط طریقے سے منتقل کیا جائے

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ قبائلی عوام کو ترجیحی بنیادوں پر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ شمالی وزیرستان ایجنسی کے ہیڈکوارٹر میرانشاہ میں قبائلی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے گا اور اس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتیں سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرانشاہ کو ترقی دی جائے گی کیونکہ یہ وسطی ایشیا کا داخلی دروازہ ہے۔ دہشتگردی سے پاک کرنے کے لئے قربانیاں دی گئی ہیں، اس سلسلے میں پاک فوج کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، فوج نے اپنا کام کر دیا ہے، اب آگے پولیٹیکل ایجنٹس اور مقامی انتظامیہ کا کام ہے۔ وزیراعظم نے علاقے میں کئی ترقیاتی منصوبوں کا بھی افتتاح کیا جن میں نیا تعمیر شدہ بازار، ایک بس ٹرمینل اور غلام خان نیشنل لاجسٹکس سیل ٹرمینل شامل ہیں۔ ان منصوبوں سے ایجنسی میں تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس موقع پر بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ، گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا اور کورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ بھی موجود تھے۔ وزیراعظم، آرمی چیف، گورنر خیبرپختونخوا اور کورکمانڈر پشاور کا میرانشاہ کے اہم دورے کے موقع پر وزیراعظم کا فاٹا کے معاملات کو فوج سے لیکر سول انتظامیہ کو منتقلی کا اعلان بروقت، اہم اور وقت کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں بعض عناصر جو فضا پیدا کرنے کی سعی میں ہیں ان گندم نما جو فروشوں کو پروپیگنڈہ کا موقع نہ دینے کیلئے ضروری ہے کہ بعض ممکنہ اقدامات جلد سے جلد اٹھائے جائیں۔اس مقصد کیلئے زیادہ اہم یہ ہوگا کہ سیاسی قائدین وقبائلی عمائدین سمیت دانشوروں اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی پاک فوج کی قیادت کیساتھ ایک مشاورتی اجلاس کا انعقاد ہونا چاہئے تاکہ ایک ایسا لائحہ عمل وضع کیا جاسکے کہ پیچیدگیاں پیدا نہ ہوں اور ہر فریق اعتماد میں رہے۔ اس بارے دورائے نہیں کہ جو عناصر انتشار، تعصب اور مخصوص مقاصد اور عزائم کیساتھ میدان میں آئے ہیں ان سے تو کسی کو اتفاق نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ان سے کسی قسم کی بات چیت ممکن دکھائی دیتی ہے لیکن دوسری جانب اس عناصر کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے سے وہ بعض ایسی باتوں کو سامنے رکھ کر عوامی توجہ حاصل کرسکتے ہیں جس کے ضمن میں اقدامات کی گنجائش ہے، ان کو اس کی آڑ میں پروپیگنڈے کا موقع نہ دینا ہی حکمت وبصیرت اور قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ قبل ازیں دیر اور چترال میں آرمی چیک پوسٹیوں کا خاتمہ کرکے بندوبستی علاقوں میں فوج کو اضافی سیکورٹی کے فرائض سے سبکدوش کرنے کی ابتداء کی گئی جہاں پر سول انتظامیہ احسن طریقے سے ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے لیکن بندوبستی علاقوں کے برعکس قبائلی علاقہ جات میں انتظامی معاملات کو سول انتظامیہ کی حوالگی قدرے احتیاط کا متقاضی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ معاملات کو پولیٹکل انتظامیہ کی حوالگی کے باوجود ایک حفاظتی چھتری کا بندوبست تیار رکھنا ہوگا تاکہ اچانک فوج کے ہٹائے جانے کے بعد ذمہ داریاں سنبھالنے والی پولیٹکل انتظامیہ پر دباؤ نہ آئے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس عمل کا بتدریج ہونا اسلئے بھی ضروری ہے کہ جو عناصر فوج کی موجودگی میں دم مارنے کی ہمت نہ رکھتے تھے اور وہ موقع کی تاک میں تھے ان کو موقع نہ ملے۔ جہاں تک قبائلی علاقہ جات میں فوج کی موجودگی کا تعلق ہے اسے مسئلہ گرداننے کا کوئی جواز نہیں، فوج تو پورے ملک میں ہے اور ایک دائرہ کار کے تحت مصروف عمل ہے، جن جن علاقوں میں خصوصی حالات میں فوج کو خصوصی کردار دیا گیا تھا اب اس ضمن میں امن وامان کی مکمل بحالی اور سول انتظامیہ کو معاملات سونپ دینے کا مرحلہ آگیا ہے تو بھی احتیاط کے مظاہرے میں مضائقہ نہیں۔ پولیٹیکل انتظامیہ کو اختیارات کی منتقلی سے قبل اس امر کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ قبائلی عوام کو ایک مرتبہ پھر بدعنوان عناصر کے رحم وکرم پر نہ چھوڑا جائے۔ قبائلی عوام کا مسئلہ صرف چالیس ایف سی آر کا قانون اور پولیٹیکل انتظامیہ کی ستم رانیاں نہیں تھیں بلکہ قبائلی عوام دیگر قسم کے مختلف مسائل کا بھی شکار ہیں جن پر توجہ کی ضرورت ہے۔ یہ درست ہے کہ عدالتی نظام کی فاٹا تک توسیع عمل میں لائی گئی ہے مگر اس سلسلے میں ابھی تک ایسی عملی پیشرفت میں وقت لگ سکتا ہے ایسے میں اس عبوری اور درمیانی مدت میں جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ کیا جائے، بہتر ہوگا کہ قبائلی عوام کو ایک مرتبہ پھر اس فرسودہ نظام میں واپس دھکیلنے کی بجائے عدالتی نظام کی فعالیت اور فاٹا اصلاحات کے دیگر ضروری واہم نکات کو ممکن بنانے کے بعد معاملات کو فوج سے سول انتظامیہ کی طرف منتقل کیا جائے۔ البتہ عوام کے اصرار اور مطالبے پر فوج کو چیک پوسٹوں سے ہٹا کر چیک پوسٹیں سول انتظامیہ کی نگران میں دیئے جائیں جہاں تک میران شاہ کی کاروباری مرکز کے طور پر بحالی اور اسے دوبارہ خطے میں کاروبار کا ایک منبع بنانے کا تعلق ہے اس ضمن میں موزوں بنیادی اساس کی تعمیر اور بحالی ہو چکی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ علاقے میں امن وامان کی صورتحال پر کڑی نظر رکھتے ہوئے کاروبار اور روزگار کے مواقع سے عوام کو فیضیاب ہونے کا پورا موقع دیا جائے تاکہ میران شاہ کی کاروباری رونقیں لوٹ آئیں۔ دہشتگردوں سے خالی کرائے گئے علاقوں کو سول انتظامیہ کے سپرد کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ استحکام اور ترقیاتی کوششوں کے نتیجے میں امن کے فوائد ہر صورت عوام تک پہنچیں۔

متعلقہ خبریں