Daily Mashriq


ایک اور حادثہ اور پاک امریکہ تعلقات

ایک اور حادثہ اور پاک امریکہ تعلقات

اسلام آباد پولیس نے گزشتہ رات امریکی سفیر کی گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہونیوالے موٹرسائیکل سواروں کیخلاف لاپرواہی سے گاڑی چلانے کا مقدمہ درج کر لیا۔ خیال رہے کہ گزشتہ رات اسلام آباد کے تھانہ سیکریٹریٹ کی حدود میں امریکی سفارت خانے کے اہلکار چاڈریکس کی گاڑی نے موٹر سائیکل سواروں کو ٹکر مار دی تھی جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوگئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ رات ہونیوالا حادثہ متاثرہ شخص نزاکت اسلام کی لاپرواہی کے باعث پیش آیا۔ اسی تھانے میں امریکی سیکنڈ سیکریٹری کی گاڑی سے ٹکر کے معاملے پر امریکی سفارتخانے کے سکیورٹی آفیسر تیمور پیرزادہ کیخلاف اس بنا پر مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمے میں کہا گیا کہ چیف سکیورٹی افسر نے ایس ایچ او سمیت دیگر اہلکاروں کو دھکے دیئے اور حملہ کرنے کی کوشش کی۔ ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ چیف سکیورٹی آفیسر نے حملہ کرکے گاڑی اور ڈرائیور کو موقع سے فرار کرانے کی کوشش کی تھی۔ یاد رہے کہ 7اپریل کو اسلام آباد میں تھانہ کوہسار کے علاقے میں امریکی سفارت خانے کے ملٹری اتاشی کی گاڑی کی ٹکر سے ایک موٹر سائیکل سوار جاں بحق جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔ گاڑی امریکی ملٹری اتاشی کرنل جوزف ایمانوئیل خود چلا رہے تھے۔ تازہ واقعے میں پاکستانی شہریوں کا عدم احتیاط سامنے آیا ہے جبکہ گزشتہ سنگیں واقعے میں امریکی عہدیدار کی سراسر غلطی تھی لیکن حالیہ دنوں میں پیش آنیوالے واقعات اس بناء پر حادثات سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے کے سفارتکاروں کو محدود کرنے کے معاملات چل رہے ہیں تازہ واقعے میں حادثے کے برعکس امریکی عہدیداروں کے نامناسب اور خلاف قانون روئیے پر ان کیخلاف مقدمے کا اندراج سے پاکستانی حکام کی سنجیدگی کا احساس ہوتا ہے وگرنہ قبل ازیں اس قسم کے معاملات میں امریکیوں کو چھوٹ مل جایا کرتی تھی۔ قانون پر عملدر آمد کرنا اور کرانا بہتر اور باوقار فیصلہ ہے ایسا کرکے ہی ہم غیر ملکیوں کو اس امر کا احساس دلا سکیں گے کہ پاکستان میں قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔ ایک پاکستانی شہری اگر اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے اور اگر کوئی غیر ملکی ایسا کرے تو ان کیخلاف بھی کارروائی سے گریز نہیں کیا جانا چاہئے۔

پولیو انجکشن سے ہلاکتیں، تحقیقات کے مطابق فیصلہ کیا جائے

خیبر پختونخوا کے درالحکومت پشاور میں انسداد پولیو مہم کے دوران انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ پولیو ویکسین کے استعمال کے بعد تین بچوں کی ہلاکت سے مقامی لوگوں میں خوف وہراس پھیل جانا فطری امر ہے۔ پولیو وائرس کیخلاف بچوں کی قوت مدافعت بڑھانے کے لئے انہیں پولیو کی انجیکشن ویکسین دی گئی تھی۔ مقامی لوگوںکا دعویٰ ہے کہ ویکسی نیشن کے باعث بچوں کی طبیعت خراب ہوئی۔ پولیو کے سینئرکوآرڈینیٹر کے مطابق انجیکشن سے لگائی گئی ویکسین کا ردعمل30منٹ کے اندر ہوتا ہے لیکن بچے کئی گھنٹوں اور دنوں کے بعد بیمار ہوئے تھے۔ ویکسین دینے کے معاملے میں اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ اسے باآسانی دیا جائے اور بچوں کو محفوظ رکھا جائے۔ محولہ واقعے کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ شکایت سامنے آئی ہے کہ بچوں کی اموات کی وجہ پولیو کے انجیکشن ہی ہیں۔مقام اطمینان امر یہ ہے وطن عزیز میں پولیو کا خاتمہ ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اس مہم کی نہ صرف مختلف سطح پر مخالفت ہوتی ہے بلکہ کئی مرتبہ جان لیوا حملوں میں پولیو ورکرز جان کی بازی بھی ہار جاتے ہیں۔ بہرحال اب اس طرح کی صورتحال تو نہیں رہی اس مہم کی مخالفت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی اسی قسم کا دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس ویکسین سے 3بچے ہلاک ہوئے جبکہ تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ایک بے بنیاد افواہ تھی۔ ماہرین کے مطابق یہ ویکسن عالمی ادارہِ صحت بلکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان سے بھی تصدیق شدہ ہے۔ پولیو ویکسین کے حوالے سے غلط فہمی کی بنیا د پر عدالت سے بھی رجوع کیا گیا تھا اور عدالت نے ماہرین سے آراء طلبی اور شواہد کی روشنی میں اس غلط فہمی کو رد کر دیا تھا۔ بہرحال ان تمام امور کے باوجود بھی جن بچوں کے والدین نے شکایت کی ہے ان کے شکایت کی پوری تحقیقات ہونی چاہئے اور طبی بنیادوں پر ان بچوں کے اموات کی وجوہات کا پتہ لگا لینا چاہئے تاکہ غمزدہ والدین کی تشفی ہوجائے اور اگر واقعی پولیو انجکشن ہی ہلاکتوں کا باعث تھے تو ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں