Daily Mashriq


تحریک انصاف کا ایجنڈا

تحریک انصاف کا ایجنڈا

تحریک انصاف کے گیارہ نکاتی ایجنڈے میں اگرچہ بہت کچھ ہے تاہم بہت کچھ نہیں بھی ہے۔ مثال کے طور پر خارجہ پالیسی پر بات نہیں کی گئی ۔ ہمارے ارد گرد دنیا بدل رہی ہے۔ دنیا یک قطبی سے پھر کثیر القطبی کی طرف پلٹ رہی ہے ۔ اس دنیا کو پرامن رکھنے کی ذمہ داری اب سب کی ہے۔ سب کو انسانیت کی بقاء اور فلاح کے لیے کام کرنا ہے ، اس لیے خارجہ تعلقات دنیا بھر میں اہمیت اختیار کر چکے ہیں اور پاکستان چونکہ ایک ایسے محل وقوع کا حامل ہے جو بہت سی طاقتوں کی دلچسپی کا باعث ہے اسلئے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حقیقت پسندانہ اور آزاد ہونا ضروری ہے۔ ہمسایوں سے پاکستان کے تعلقات اہمیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر بھارت کیساتھ جو پاکستان کی طرح ایٹمی قوت ہے۔ مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جس کے سارے خطے کی خارجہ پالیسی پر اثرات مرتب ہوتے ہیں ، اسلئے خارجہ پالیسی کے بارے میں اصول واضح کئے جانے چاہئیں تھے۔ خطے کی بات کریں تو دہشت گردی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کیخلاف جنگ میںپاکستان نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے لیکن اس کامیابی کو دنیا پر کماحقہ واضح نہیں کیا جا سکا اس کے باوجود یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔

پاکستان دوسرے ممالک کو کیا فراہم کر سکتا ہے اور کیا حاصل کر سکتا ہے اس حوالے سے پوٹینشل کو تقویت دینے کی ضرورت ہے۔ ففتھ جنریشن وار کے زمانے میں جس میں معیشت اور سماجی بنت کو دیمک لگانے یا ایسے زخم لگانے کی کوشش کی جاتی ہے جن سے خون رستا رہے ، ہم اپنے معاشرے اور اپنی معیشت کے تحفظ اور تقویت کے لیے کیا کر سکتے ہیں اس پر بات ہونی چاہیے۔ بدلتی ہوئی دنیا میں موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث اور بھارت کی پانی پالیسی کے باعث بین الاقوامی ادارے بھی پاکستان میں قحط سالی کا انتباہ کرتے سنائی دے رہے ہیں جب کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ پاکستان کو کتنے نئے ڈیموں کی ضرورت ہے ‘ یہ ڈیم کب تک ساتھ دے سکیں گے۔ پانی کے مناسب استعمال کے لیے اس ملک میں کیا کرنا ہو گا جہاں اسی فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، ان مسائل پر بات ہونی چاہیے۔ جب گیارہ نکاتی پروگرام یہ اعلان کرتا ہے کہ ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے تو اسے صنعتی پالیسی پر بھی متوجہ ہونا چاہیے۔ ہماری ٹیکسٹائل کی صنعت ہجرت کر چکی ہے ۔ ہماری کپاس خریداروں کی منتظر رہتی ہے ۔ ملک میں مربوط صنعتی پالیسی کی ضرورت ہے جس میں نئی صنعتوں کے پوٹینشل کو تقویت دینے اور روایتی صنعتوں کو فروغ دینے کے امکانات اجاگر کیے جانے چاہئیں۔ کسی مربوط صنعتی پالیسی کے بغیر ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کا وعدہ خواب ہی ثابت ہو سکتا ہے ۔ پاکستان میں پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس کے انجذاب کے لیے صنعتی ‘ کاروباری اداروں کی تعداد میں متناسب اضافہ ضروری ۔ پاکستان صنعتی ملک نہیں تھا، ایوب خان کے زمانے میں صنعت کو فروغ دیا گیا لیکن اس قدر تیزی اور بے احتیاطی سے کہ سرکاری اداروں سے قرضے لے کر کارخانے لگائے گئے اور سرکاری عمال سے گٹھ جوڑ کر کے ٹیکس بچائے گئے۔ ٹیکس وصولی میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت پر توجہ دی جانی ضروری ہے جن میں صنعتکاروں کی انجمنیں بھی ٹیکس کی ادائیگی کی ذمہ داری میں حصہ دار ہوں۔ ہاؤسنگ پالیسی کے بارے میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وہ اقتدار میں آ کر پچاس لاکھ نئے گھر بنائیں گے ۔ یہ مسئلہ پچاس لاکھ نئے گھروں سے حل ہونے والا نہیں ہے۔ عام آدمی کو اس لائق ہونا چاہیے کہ وہ اپنی استعداد سے اپنے لیے گھر حاصل کر سکے۔ قابل غور وہ ہاؤسنگ کالونیاں ہیں جو زراعت کے رقبے پر بنگلے اُگا رہی ہیں۔ ان کے خلاف عام لوگوںکو لوٹنے کی شکایات بھی عام ہیں۔ ملک میں سرمایہ کاری کے ایسے امکانات ہونے چاہئیں کہ سرمایہ اس طرف جائے نہ کہ بڑے بنگلوں میں سرمایہ کاری کی جائے ۔زرعی زمینوں کو بچانے کے لیے طرز بود و باش میں تبدیلی کے امکانات پر غور کرنا چاہیے۔ عمران خان نے زراعت کے بارے میں کہا ہے کہ وہ ملک میں زرعی ایمرجنسی لگا دیں گے ۔ اس سے کیا مراد ہے ، یہ واضح نہیں کیا ، وہ کاشتکاروں پر کوئی پابندیاں لگانے کی بات کر رہے ہیں یا انہیں سہولتیں اور مراعات دینے پر آمادہ ہیں۔ لاہور سے سرحد پار بھارتی پنجاب کے کسانوں کی طرف دیکھ لیں تو معلوم ہو جائے گا کہ وہاں کاشتکاروں کو کیا سہولتیں اور مراعات حاصل ہیں جن کی بنا پر بھارت کا صوب پنجاب کم و بیش سارے ملک کی گندم کی ضرورت پوری کر رہا ہے۔

سیاسی جماعت کا انتخابی پروگرام محض اہداف کا مجموعہ ہونے کے بجائے ایسا پروگرام ہونا چاہیے جو عام آدمی کو قائل کر سکے کہ یہ اہداف قابل حصول ہیں اور مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کا طریقہ کار یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اعلیٰ قیادت سے پالیسی اور اہداف نچلی سطحوں پر زیر بحث آتی ہوئی بنیادی سطح کی تنظیموں تک پہنچتے ہیں اور بنیادی سطح کے جو مسائل بیان کیے جاتے ہیں ، جو اظہار رائے ہے اعلیٰ سطحوں تک اس پر جو بحث ہوتی ہے اس کے نتائج اعلیٰ قیادت کو موصول ہوتے ہیں۔ اس طرح اہداف ،پالیسی اور تدابیر اختیار کی جاتی ہیں اس طریقہ کار کے باعث مسائل کی صحیح صورت سامنے آتی ہے ، ترجیحات طے کی جا سکتی ہیں۔ پاکستان میں طرز سیاست میں بھی رفتہ رفتہ تبدیلی آ رہی ہے ۔ انفرادی ، شخصی قیادت کی بجائے اجتماعی قیادت اور اجتماعی فعالیت کا زمانہ آ رہا ہے۔ تحریک انصاف کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پڑھے لکھے نوجوان ملکی سیاست میں اس جماعت کے ذریعے اپنا کردار دیکھ رہے ہیں۔ اس جماعت کی قیادت کا فرض ہونا چاہیے کہ وہ پاکستان کے عوام کو ایک ایسا ویژن دے جس کا حصول انہیں ممکن نظر آئے اور جسکے حصول کیلئے وہ اپنا حصہ ڈالنے پر آمادہ ہو ں۔

متعلقہ خبریں