Daily Mashriq


کابل سے قندھار تک بہتا لہو

کابل سے قندھار تک بہتا لہو

کو کابل وقندھار میں تین خودکش حملوں کے نتیجے میں 10صحافیوں سمیت 55افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ کابل میں ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری موٹر سائیکل کو افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس کے مرکزی دفتر کے باہر اُڑایا جبکہ دوسرے خودکش بمبار نے امدادی سرگرمیوں کے دوران کیمرہ مین کے روپ میں حملہ کیا جس سے جانی نقصان بڑھ گیا۔ کابل کے شہداء میں 10صحافی بھی شامل ہیں جو پہلے خودکش حملے کے بعد پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کیلئے موقع پر پہنچے تھے۔ قندھار میں نیٹو کے قافلے پر حملہ سے دو طلباء سمیت 16افراد شہید ہوئے۔ افغان خفیہ ادارے کے مرکزی دفتر کے باہر ہونیوالے خودکش حملوں سے ایک بار پھر سیکورٹی کی صورتحال اور داخلی اُمور پر مختلف حلقوں کی طرف سے سوال اُٹھائے جارہے ہیں۔ خاک وخون میں غلطاں افغانستان کیلئے ہر نیا دن نئے المیئے کیساتھ آتا ہے اور معصوم افغان شہری گاجر مولی کی طرح کٹ جاتے ہیں۔ افغان صوبے خوست میں ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کیساتھ منسلک سینئر صحافی احمد شاہ کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ننگرہار میں ریموٹ کنٹرول بم پھٹنے سے 2افرادجاںبحق ہوئے اور متعدد زخمی۔ دنیا بھر کے ماہر جاسوسوں کی افغانستان میں موجودگی، اتحادی افواج کا کروفر اور خود افغان حکومت، دہشتگردی کے بڑھتے واقعات میں معصوم شہریوں کا رزق ہونا سب کیلئے سوالیہ نشان ہے۔ آزاد ذرائع کے بقول ابھی تک کسی نے سوموار کے واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن اگر ہم کابل میں ہفتہ بھر قبل ووٹر رجسٹریشن سنٹر پر خودکش حملہ کرنیوالی عالمی دہشتگرد تنظیم کے ترجمان کے اس حملہ کے بعد کے بیان کو دیکھیں تو کم ازکم سوموار کے سانحہ کابل کے ذمہ داری کے تعین میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔

دہشتگردی (یاد رکھئے ہمہ قسم کی دہشتگردی مقصودہے) سے سسکتے افغانستان کا اور افغانوں کا نوحہ سننے کو کوئی بھی تیار نہیں۔ چند مذمتی بیانات، ایک دو بلند وبانگ دعوے اور پھر اگلے سانحہ کے ظہور تک خامشی افغانوں کا لہو ہے کہ بہہ رہا ہے۔ اجسام چیتھڑوں میں بٹ کر اُڑ رہے ہیں۔ سہاگنوں کے سہاگ اور خاندانوں کے کفیل موت کا رزق بنتے جا رہے ہیں۔ بہت ادب کیساتھ اگر یہ کہا جائے کہ افغانستان آج جن حالات کا شکار اور المیوں سے دوچار ہے اس کی ذمہ داری ان تمام قوتوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے افغان سرزمین پر امریکہ سوویت یونین جنگ لڑی اور مقاصد کے حصول کے بعد وہ قوتیں کہ پتلی گلی سے چلتی بنیں مگر افغان عوام کے دُکھ، غم اور زخم کم ہونے کی بجائے بڑھتے جارہے ہیں۔ حد ادب سے تجاوز نہ سمجھا جائے تو یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ افغانوں کی نسل کشی کا سب سے بڑا ذمہ دار امریکہ ہے۔ افغان سرزمین پر موجود دہشتگردوں کا شاید ہی کوئی ایسا گروپ ہو جسے کبھی اپنی ضرورت اور مقاصد کیلئے امریکیوں نے جنا اور پالا پوسا نہ ہو۔ پچھلے چار عشروں کی علاقائی تاریخ کے اوراق اُلٹ کر دیکھ لیجئے ہر صفحے پر شہریوں کے قتل عام کے ذمہ داروں کی شناخت واضح لکھی ہے۔ بدقسمت تو ہم سارے مسلمان ہیں جو دہشتگردی کا روگ لگانے والے عطار کے لونڈے سے دوا لیتے پھرتے ہیں۔ ان سطور میں القاعدہ کے بعد داعش کو افغانستان پہنچانے، اسے افرادی قوت اور وسائل فراہم کرنے میں امریکہ کے مرکزی کردار بارے تفصیل کیساتھ عرض کرتا چلا آرہا ہوں۔ امریکنوں کا یہ دوغلہ پن محض افغانستان میں ہی ظاہر وثابت نہیں ہوا، شام وعراق اور دوسرے نسلوں میں بھی سب پر عیاں ہے بدقسمتی یہ ہے کہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان جیسے معاملات تو امریکی واتحادی چٹکی بجاتے ہوئے حل کر لیتے ہیں لیکن معاملہ مسلم ملک کا ہو تو خونریزی کو مزید بڑھاوا دلوایا جاتا ہے۔

بہرطور امریکنوں کی کج ادائیوں اور مفادات پر بحث کیا، مسلم دنیا کے لوگوں کو اپنے معاملات پر بھی ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ انسانیت، امن اور اسلام کے دشمنوں کو کرائے کے سپاہی ہماری صفوں سے آسانی کیساتھ دستیاب ہو جاتے ہیں؟۔ دہشت گردی سے متاثرہ مسلم دنیا کے ممالک کو ہنگامی بنیادوں پر نہ صرف حکمت عملی وضع کرنا ہوگی بلکہ اپنے تعلیمی، اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں ایسی اصلاحات بھی کرنا ہوں گی جن سے جہالت، غربت اور گھٹن کا خاتمہ ہو، نورعلم کی رشنی پھیلے، غربت کم ہو، سیاسی شعور پروان چڑھے تاکہ انسانیت کے دشمن اور ان کے سرپرست مسلمان نوجوانوں کو گمراہ کرکے اپنے ہی بھائیوں کا خون بہانے کے جہادی کاروبار پر نہ لگا سکیں۔ سوموار کو کابل میں ہونیوالے دو خودکش حملوں میں پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہونیوالوں نے بدترین حالات میں فرائض کی انجام دہی سے منہ نہیں موڑا، یہ ان کی اپنے پیشے سے لگن تھی مگر یہ بھی سچ ہے کہ وہ گھروں سے شہید ہونے کیلئے نہیں روزگار کیلئے نکلے تھے۔ ہم دکھ کی اس گھڑی میں اپنے افغان بھائیوں خصوصاً افغان صحافیوں کیساتھ ہیں۔ حرف آخر یہ ہے کہ دہشتگردی افغانستان میں ہو یا پاکستان میں یہ قابل مذمت ہے لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ دونوں حکومتوں کو مذمتی بیانات پر اکتفا کرنے کی بجائے اپنے لوگوں کو سکھ، سلامتی، امن اور تحفظ کی فراہمی میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں