Daily Mashriq


چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی!

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی!

وطن عزیز میں جس تبدیلی اور بہتری کا مجھ سمیت پوری قوم کو شدت سے انتظار ہے اس جانب ابھی درست سمت میں سفر کا آغاز ہی نہیں ہوا لیکن حوصلہ افزاء امر یہ ہے کہ اب یہ توقع ہونے لگی ہے کہ ہمیں بہت جلد اس کا احساس ہوگا اور درست سمت میں سفر شروع ہوگا۔ تبدیلی کیلئے کسی سمت دیکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ ایک اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے۔ جیسے جیسے ہماری سوچ بدلتی جائے گی ہمارے انداز واطوار اور کردار بھی بدلتے جائیں گے، معاشرتی اصلاح شروع ہو جائے تبھی معاشی اصلاحات کی نوبت آئے گی، چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔ ایک اور منتخب حکومت اپنی مدت پوری کرنے جا رہی ہے نگران حکومت کا قیام اور عام انتخابات کا مرحلہ آیا ہی چاہتا ہے۔ رمضان المبارک کی بھی آمد آمد ہے، اس تناظر میں اس ہفتہ وار کالم میں بھی کچھ تبدیلی کا سوچ رہی ہوں۔ میرا خیال ہے کہ اس دورانئے میں قارئین سے کچھ ایسے سبق آموز اور مسائل ومشکلات کی نشاندہی کرنے والے تجربات مشاہدات اور آب بیتی وجگ بیتی قارئین سے اس کالم کے ذریعے اشتراک کرنے کی گزارش کروں، اس سے کالم میں تنوع کیساتھ کچھ ایسی عملی باتیں اور عوامل سامنے آسکتی ہیں جس سے معاشرے کی صورتحال اور عوامی مسائل نئے انداز میں اُجاگر ہوں۔ قارئین اختصار کیساتھ کسی ہسپتال، تعلیمی ادارے، تھانے، بجلی کمپنیوں وغیرہ وغیرہ میں اپنے ساتھ پیش آنیوالے تلخ وشیریں یادیں میسج کرسکتے ہیں۔ این ٹی ایس کے پورے نظام اور طریقہ کار میں شفافیت کے درجنوں مزید پیغامات ملے ہیں، کرک سے عبدالرشید خٹک نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ درس وتدریس کے شعبے سے طویل وابستگی اور معلومات کی روشنی میں وہ یقین سے اس امر کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ این ٹی ایس میں دو دو تین تین لاکھ روپے لئے جاتے ہیں۔ ان کا یہ استدلال بھی واقعی درست ہے کہ این ٹی ایس کے پیچیدہ ٹیسٹ میں کسی بھی اُمیدوار کیلئے سو میں سے ستانوے نمبر لینا ممکن ہی نہیں مگر اس قسم کی مثالیں سامنے ہیں کہ جس پرچے کا قبل از وقت علم ہونے یا پھر موقع پر حل شدہ پرچہ ملا ہو یا دیا گیا ہو۔ ان کا خاص طور پر یہ کہنا تھا کہ یہ جو میٹرک کے امتحانات میں معروضی سوالات اور طرز امتحان میں تبدیلی ہونے جارہی ہے اس میں چارہ دست، بالادست اور بااثر طلبہ کیلئے آسانی ہوگی۔ لکی مروت سے احسان نے اس بات کی گواہی دی ہے کہ ان کے ایک کلاس فیلو کے بھائی نے تین لاکھ روپے دے کر پرچہ آؤٹ کروایا اور ایک پرچے میں ان کے نوے نمبر آئے دوسرے میں اکیانوے۔ خیبر ایجنسی سے ایم ریاض نے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں متوقع نقل بازی پر لکھنے کا کہا ہے۔ اگر ہماری سمجھ میں بس اتنی بات آجائے کہ طالب علموں کیلئے نقل کرنا اور اساتذہ وعمال بورڈ کیلئے نقل کروانے کا موقع دینا بدترین خیانت، ناانصافی اور محنتی طالب علوں کیساتھ ظلم اوران کی حق تلفی ہے تو کوئی بھی نقل کرنے اور نقل کروانے میں ملوث نہ ہو مگر کاش کوئی سمجھے، اس موضوع پر کسی دن تفصیلی کالم پھر سہی۔ ہری پور سے ایم عمران نے بڑی اچھی تجویز دی ہے کہ ہر تعلیمی بورڈ کے تین سب سے زیادہ نمبر لینے والے طالب علموں کے پرچے سکین کر کے بورڈ کی ویب سائٹ پر ڈال دیئے جائیں تاکہ اولاً شکوک وشبہات کا ازالہ ہو۔ دوم طلبہ دیکھ سکیں کہ کس معیار کے پرچے پر کتنے نمبر ملتے ہیں جبکہ اساتذہ اور والدین اس نظیر کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے بچوں کی تیاری کروائیں۔ حافظ محمد شیراز نے ایک ایسے مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے جس کا تعلق ہر شخص کے خوراک جیسے بنیادی جز کے حوالے سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بازار میں جو آٹا آتا ہے اس سے سوجی، میدہ اور فائن آٹا نکال لیا جاتا ہے اس کے بعد ہی باقی آٹا بازار میں فروخت کیا جاتا ہے اور قیمت گندم کے آٹے کی وصول کی جاتی ہے حالانکہ یہ گندم کا آٹا نہیں بلکہ اس کا ایک حصہ ہی ہوتا ہے۔ یہ ایک دلچسپ نوعیت کی نشاندہی ہے، سمجھ میں آتی بھی ہے نہیں بھی۔ خیبر پختونخوا کے نوتشکیل شدہ فوڈ اتھارٹی کو اس معاملے کا جائزہ لینے اور اس حوالے سے اعتراض کی وضاحت کر لینی چاہئے تاکہ اگر یہ غلط فہمی ہے تو دور ہو اور اگر اس اعتراض میں وزن ہے تو قانون کے مطابق اقدام ہونا چاہئے۔ گومل یونیورسٹی سے حسن علی نے نکتہ اُٹھایا ہے کہ بی ایس ماسٹر کی مساوی ڈگری ہے مگر ماسٹر کے طالب علموں کو فیس کی واپسی اور رعایت ملتی ہے تو بی ایس کے طالب علموں کو اس سے محروم کیوں رکھا جارہا ہے۔بات میں وزن بھی ہے اور قابل توجہ بھی، ویسے بھی اب بی ایس ہی رائج ہے، ایم اے، ایم ایس سی میں خال خال ہی کوئی داخلہ لیتا ہے۔ ایک اور قاری جو عالم دین یا آئمہ میں سے ہوں گے اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے آئمہ کرام کو اعزازیہ دینے کا اعلان کیا تھا، آئمہ سے بنک اکائونٹ بھی کھلوائے گئے مگر کسی ایک کو بھی اعزازیہ نہ ملا، ان کا سوال ہے کہ کیا نگران حکومت اعزازیہ دیگی؟ ان کے اپنے الفاظ میں ان سے صریح جھوٹ بولا گیا ہے اور مولویوں کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ’ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ، دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گرکھلا‘‘ قسم کا اقدام نہیں کرنا چاہئے تھا۔ گزشہ مالی سال کے بجٹ میں ممکن نہیں تھا جس کا اعلان کیا گیا تھا۔ آئندہ سال کا بجٹ موجودہ حکومت کا پاس کردہ ہوگا مگر اس کا بجٹ نہ ہوگا۔ نگران حکومت کا تو کام ہی نہیں کہ وہ ایسا کرے۔ علماء اور آئمہ کو اگر اعزازیہ دینا ممکن تھا تو اب تک کیوں نہیں دیا گیا اور اگر مشکل تھا تو دعویٰ کیوںکیا گیا۔ جس دن حکمران سچ بولنے اور درست پالیسیاں بنانے لگیں تبدیلی اسی دن آئے گی اور بس۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں