Daily Mashriq


’’می ٹو‘‘

’’می ٹو‘‘

19اپریل، 2018 ء کو گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے کی جانیوالی ایک ٹویٹ نے پاکستان کی میڈیا کی ساری توجہ اپنی جانب مبذول کرالی اور یہ ٹویٹ ہیڈ لائنز بننے کے بعد کئی ٹی وی ٹاک شوز کا موضوع بھی بنی۔ مذکورہ ٹویٹ میں میشا شفیع نے نامور پاکستانی گلوکار علی ظفر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا جس کے بعد وہ بھی پوری دنیا اور خاص طور پر مغرب میں پذیرائی حاصل کرنے والی ’’می ٹو‘‘ مہم کا حصہ بن گئیں۔ میشا شفیع کے بعد دیگر تین خواتین نے بھی علی ظفر پر اس قسم کے الزامات عائد کئے جس کے بعد ان الزامات کے حق اور ان کی مخالفت میں سوشل میڈیا پر ایک جنگ کا سماں پیدا ہوگیا۔ اس بات میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ ’’می ٹو‘‘ مہم وقت کی اہم ضرورت ہے اور پوری دنیا میں مقبول ہونیوالی بڑی سوشل میڈیا تحریکوں میں شامل ہے لیکن ہیش ٹیگ کا غلط استعمال نہ صرف اس مہم کی مقبولیت میں کمی کا سبب بنے گا بلکہ جنسی ہراسگی کا شکار ہونیوالے حقیقی افراد پر بھی منفی انداز میں اثرانداز ہوگا۔ جہاں جنسی ہراسگی کا نشانہ بننے والے لوگ میشا شفیع کے دکھ کو سمجھ سکتے ہیں وہیں پر اس سے محفوظ رہنے والوں کیلئے اس درد کو سمجھنا انتہائی مشکل ہے۔ دوسری طرف جس پر جنسی ہراسگی کا غلط الزام عائد کیا جائے گا اس کی اذیت وکرب کو سمجھنا بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس وقت ملٹی نیشنل کمپنیوں سمیت ہم سب کی نظریں ان الزامات کے درست ثابت ہونے یا نہ ہونے اور مستقبل میں پیش آنیوالے نتائج پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر علی ظفر پر لگائے جانے والے الزامات میں تھوڑی بھی صداقت ثابت ہوجاتی ہے تو وہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کیساتھ کئے جانیوالے کروڑوں کے معاہدوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ کچھ لوگ تو ابھی سے کہنا شروع ہوگئے ہیں کہ علی ظفر کا کیرئیر ختم ہو گیا ہے۔ نیوز رپورٹس کے مطابق علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کو قانونی نوٹس بھیجا گیا ہے جس کا جواب 14 دنوں میں دیا جانا ضروری ہے۔ اس نوٹس کے تحت اگر میشا شفیع علی ظفر پر لگائے جانیوالے الزامات واپس لینے کے علاوہ سرِعام معافی نہیں مانگتیں تو یہ معاملہ عدالت میں چلا جائے گا۔ اب ہم علی ظفر اور میشا شفیع والے معاملے پر واپس آتے ہیں جس پر اٹھائے جانے والے سوالات میں سے سب سے بڑا سوال یہ کہ میشا نے اس وقت آواز کیوں نہیں اٹھائی جب یہ واقعہ پیش آیا تھا؟ اور جب انہوں نے مذکورہ ٹویٹ کی تو اس وقت ایسا کیا ہوا تھا جس نے میشا کو ساری صورتحال دنیا کو بتانے کی ضرورت محسوس ہوئی؟ خواتین کو ہراسگی سے بچانے اور ایسے واقعات کے بعد ان کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کیلئے پاکستان پینل کوڈ میں 15 سیکشن موجود ہیں۔ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا تھا تو میشا شفیع علی ظفر کو ان قوانین کے تحت عدالت میں گھسیٹ سکتی تھیں اور اس وقت انصاف کے تقاضے بہتر طور پر پورے کئے جاسکتے تھے۔ سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ صرف میشا شفیع کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹ علی ظفر پر ہراسگی کا الزام کیسے ثابت کرتی ہے؟ اب جبکہ الزامات عائد ہوچکے ہیں تو بال اس وقت علی ظفر کے کورٹ میں ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر لگائے جانیوالے الزامات کا کیسے جواب دیتے ہیں۔ علی ظفر کے پاس ایف آئی اے کے پاس ٹوئٹر کے غلط استعمال کی شکایت درج کروانے کا آپشن بھی موجود ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان الزامات کے بعد علی ظفرکی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے کیونکہ وہ پاکستان کے ان چند فنکاروں میں شامل ہیں جن کو بین الاقوامی سطح پر پہچانا جاتا ہے۔ جنسی ہراسگی کے کسی بھی واقعہ کی پُرزور مذمت کی جانی چاہئے اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کیس کی شفاف انداز میں تحقیق کرکے ایسا فیصلہ سنایا جانا چاہئے جس سے دوسروں کو عبرت حاصل ہو۔ ایسے مقدمات کی ایف آئی آر درج کروانا ہی انتہائی مشکل کام ہے لیکن اگر میشا واٹس ایپ میسیج کے ذریعے ایف آئی آر درج کروا بھی لیتی ہیں تو ان کو اپنے الزامات کی حمایت میں ٹھوس ثبوت بھی فراہم کرنے ہوں گے۔ ا س کے علاوہ دونوں فنکاروں کے کروڑوں فینز کی جانب سے بھی ان سے سوالات پوچھے جائیں گے جن میں یہ بھی شامل ہوں گے کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا تھا تو اس کے بعد میشا نے اپنے خاندان کے کسی فرد یا کسی دوست کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔ ہم سب صرف یہ امید ہی کرسکتے ہیں کہ میشا شفیع اپنے الزامات کو ثابت کرسکیں اور اس کے بعد علی ظفر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کی بحالی کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات کریں۔ ہم سب پاکستانی اس کیس کی شفاف تفتیش اور درست فیصلہ چاہتے ہیں کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ’’می ٹو‘‘ جیسی مہم کو ہائی جیک کیا جائے۔ ’’می ٹو‘‘ ایک ایسی مہم ہے جو کہ ہراسانی کے بہت سے متاثرین کو انصاف دلا سکتی ہے اسلئے اس معاملے کی شفاف تفتیش ہونی چاہئے۔

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون، ترجمہ: اکرام الاحد)