Daily Mashriq


کھا کھا کے قرض سارا مہینہ گزر گیا

کھا کھا کے قرض سارا مہینہ گزر گیا

قرض محبت کی قینچی ہے۔ یہ جملہ ہم نے پرچون کی ان دکانوں پر لکھا دیکھا ہے جو اپنے گاہکوں کو قرض یا اُدھار پر سودا سلف دینا نہیں چاہتے۔ قرض مانگ کر شرمندہ نہ کریں۔ نقد بڑے شوق سے اُدھار اگلے چوک سے۔ اُدھار قطعی بند ہے وغیرہ وغیرہ قسم کے جملے ایک ہی مفہوم کی ترجمانی کرتے ہیں کہ دکاندار قرض پر چیزیں فروخت کرنے کا روادار نہیں، جب ہم نے ان جملوں کو دکان پر لکھ کر آویزاں کرنے کی وجہ پوچھی تو ہمیں بتایا گیا کہ لوگ قرض لینے کے بعد واپس نہیں کرتے بلکہ دکان کی طرف سے گزرنا بھی چھوڑ دیتے ہیں اور جب قرض واپس مانگنے کا تقاضا کیا جاتا ہے تو مقروض لوگ نت نئے بہانے کرنے لگتے ہیں یا لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات تو نوبت گالم گلوچ سے ہوتی ہوئی ہاتھا پائی تک جاپہنچتی ہے۔ واقعی لین دین کا یہ مرحلہ بڑا گمبھیر ہوتا ہے لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ ہم جیسے کم آمدن والوں کا گزارہ اُدھار یا قرض کے بغیر چل ہی نہیں سکتا

بحر حیات سے یوں سفینہ گزر گیا

کھا کھا کے قرض سارا مہینہ گزر گیا

کہتے ہیں کہ زرکثیر کمانے کی غرض سے کچھ لوگ ہی نہیں بنک اور مالی ادارے سود پر قرضہ د یکر پیسہ کمانے کا دہندہ کرتے ہیں۔ بنکوں میں تو یہ کاروبار منظم طریقے پر ہوتا ہے اور قرضہ لینے والا بنکوں کے فارموں پر دستخط کرنے اور ضابطے کی دیگر کارروائیاں پوری کرنے کے بعد اپنے آپ کو مقروض کر کے سالہا سال تک قرضہ اُتارنے کے مرحلے طے کرتا رہ جاتا ہے اور بعض اوقات تو قرضہ نہ اُتار سکنے کے جرم میں اسے اپنی اور اپنے متعلقین کی جائیداد تک سے ہاتھ دھونے پڑجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری دینی تعلیمات میں سود کا کاروبار کرنیوالوں کو گناہ کبیرہ کا مرتکب گردانا ہے۔ اللہ بچائے! ہمارے معاشرے کے کسی فرد یا گھرانے پر قرض مانگنے کا برا وقت اس وقت آتا ہے جب وہ روپے پیسے خرچنے کے معاملے میں بے پرواہی کرتا ہے۔ اپنی محنت کی کمائی کو خرچتے وقت چادر کے اندر پاؤں رکھنا کسر شان سمجھتا ہے۔ ہم سب نے ناچنے گانے والوں پر دھن دولت کی بارش کرنے والوں کا تماشا کیا ہوگا۔ سمجھ نہیں آتی کہ اپنی جمع پونجی کو یوں لٹانے والے کن نفلوں کا ثواب کما رہے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے ایسی حرکتیں وہی کرسکتا ہے جس کے پلے حرام کی کمائی ہو جو لوٹ کھسوٹ کا عادی مجرم ہو یا جو پوری قوم کو لاحق ہونیوالی غربت اور مفلسی جیسی بیماری کا شکار نہ ہوا ہو، یا ذہنی مریض ہو، اے کاش کہ ایسے دھن دولت والے تعلیمات اسلام پر عمل کرتے ہوئے اپنی فالتو دولت زکواۃ خیرات اور صدقات کی مد میں خرچتے ہوئے ناداروں میں تقسیم کرتے تو ملک میں قرضہ نامی بھیک مانگنے والے نہ رہتے مگر اس کا کیا کیا جائے کہ غربت کی لکیر سے نیچے سسک سسک کر زندگی گزارنے والے ہی نہیں پورا ملک قرضوں کی دلدل میں پھنس کر اپنا آپ گنوا چکا ہے۔ آپ اس غریب ملک کی کسی بھی ٹریفک جام شاہراہ پر نکل جائیں آپ ہر کس وناکس کو مہنگی ترین موٹرکاروں میں سفر کرتا دیکھیں گے۔ اپنے ہم وطنوں کا یہ کروفر دیکھ کر ہم بھی خوشی سے پھولے نہ سماتے لیکن ہماری نظر موٹر کے شیشوں پر دستک دے کر پھولوں کے گجرے بیچنے والی دھول میں اٹی حسن سراپا ناریوں پر پڑتی ہے تو دل لہو کے آنسو رونے لگتا ہے۔ ننھے ننھے ہاتھوں میں چھوٹے چھوٹے وائپر تھامے موٹروں کے شیشے صاف کرنیوالے پھول اور کلیوں جیسے بچے دیکھ کر کس کا دل نہیں پسیجتا ہوگا۔ نہایت معذرت کیساتھ عرض کرونگا، یہ جو ہیں نا بھک منگے بچے، ہمارے کرتوتوں کا ثمر ہیں، یہ بھکاریوں کے بچے نہیں، ہمارے بچے ہیں اور ہم کسی بھکاری سے کم نہیں۔ ہم جو پی رہے ہیں نا زندگی کی سانسیں اسد اللہ خان غالب کے بقول قرض لیکر پی رہے ہیں،

پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

کتنے فاقہ مست لوگ ہیں ہم سب، کم ازکم ایک لاکھ تیس ہزار روپے فی کس کے حساب سے مقروض ہیں ہم اور عالم یہ ہے کہ کسی سیمی بدن کو تھرکتا دیکھ کر لٹا دیتے ہیں اپنی جمع پونجی۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ذمے غیر ملکی قرضے اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر 89 ارب ڈالر ہو گئے ہیں ، رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال بیرونی قرضوں میں 13 ارب 13 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ طویل المدتی قرضوں کا حجم 59 ارب 45 کروڑ ڈالر ہے۔ جبکہ آئی ایم ایف کے قرضوں کا حجم 5 ارب 91 کروڑ ڈالر ہے۔لیکن کچکول توڑنے کے دعوے داروں کے کچکول کا حجم کتنا بڑا ہے اس کی نہ کوئی حد ہے اور نہ حساب ، قرض مانگنا اور بھیک مانگنا ایک ہی قسم کی دو قباحتیں ہیں ، ہماری گاڑیاں ، بنگلے، ٹیپ ٹاپ ، عیش و عشرت ، کرو فرسب پہاڑ جتنے بھاری بھرکم قرضوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور ہمیں خبر ہی نہیں کہ ہم سے روزانہ ہمارے خون پسینے کی کمائی کو الٹی چھری کیساتھ کاٹا جارہا ہے، ہر سال پیش ہونیوالے بجٹ میں نت نئے ٹیکس عائد کردئیے جاتے ہیں، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی خبریں سنائی جاتی ہیں ۔ مہنگائی، چور بازاری ، ذخیرہ اندوزی، رشوت خوری، فیسیں ، بل، جیسے کتنے ہی زہر کے پیالے ہیں جو پی پی کر ہم زندہ رہنے کی کوشش میں مر رہے ہیں

اب تو گھبرا کر یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

متعلقہ خبریں