Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ جب سلیمان بن عبدالمالک کی وفات کے بعد خلیفہ بنے تو آپ نے وقت کے بہت بڑے عالم‘ فقیہ و پارسا‘ زاہد و عابد‘ متقی‘ حضرت حسن بصریؒ (متوفی 110ھ) کی خدمت میں ایک خط کے ذریعے امام عادل کے اوصاف دریافت کئے۔ حضرت بصریؒ نے جواب تحریر فرمایا: اے امیر المومنین! امام عادل چرواہے کی طرح ہے جو اپنے جانوروں پر نہایت شفیق اور مہربان ہوتاہے۔ ان کے لئے عمدہ چراگاہ تلاش کرتاہے‘درندوںسے بچاتا ہے‘ گرمی سردی کی تکلیفوں سے بچاتاہے۔ اے امیر المومنین! امام عادل باپ کی مانند ہے جو اپنی اولاد کی ہر طرح دیکھ بھال کرتا ہے ‘ اولاد چھوٹی ہوتی ہے تو اس کے لئے دوڑ دھوپ کرتاہیْ جب اولاد سمجھدار ہو جاتی ہے تو اس کو تعلیم دیتاہے‘ ساری زندگی اس کے لئے کماتے ہے‘ مرتے وقت سب کچھ اپنی اولاد کے لئے چھوڑ کرچلا جاتاہے۔ اے امیر المومنین! امام عادل شفیق اور مہربان ماں کی طرح ہوتاہے جس نے اپنے بچے کو بڑی شفقت کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور پھر بڑی تکلیف کے ساتھ اس کو جنا‘ بچپن سے اس کو اس طرح پالتی ہے کہ اس کے بیدار ہونے سے پہلے خود بیدار ہوجاتی ہے‘ اس کے سکون سے سکون پاتی ہے۔ اے امیر المومنین! امام عادل یتیموںکامحافظ‘ ناداروں کے لئے مال کا انتظام کرنے والا اور ان کی باقی ماندہ اولاد کی پرورش کرنے والاہوتاہے۔ جبکہ ان کے بڑوںکے نان نفقے کابار اٹھانے والا ہوتا ہے۔ امام عادل پسلیوں میں دل کی حیثیت رکھتاہے۔ چنانچہ اس کے درست ہونے سے تمام اعضا درست رہتے ہیں اور اس کے خراب ہونے سے تمام اعضا خراب ہو جاتے ہیں۔ امام عادل انسانوں کو اللہ کی اطاعت کی طرف لاتا ہے‘ خود بھی اللہ و رسولؐ کا مطیع و فرمانبردار ہوتاہے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتا ہے۔ لہٰذا اے امیر المومنین! اللہ تعالیٰ نے آپ کوجن چیزوں کامالک بنایا ہے ان میںاس غلام کی طرح نہ ہو جانا جس کو آقا نے امانتدار سمجھ کر اپنے مال کی حفاظت پر مامور کیا لیکن اس نے سارا مال بکھیر دیا۔اے امیر المومنین! موت کے بعد مصیبتوں اور اس موقع پر بے یار و مدد گار ہونے کو یاد کرو اور ان مصائب کے آنے سے پہلے ان کے لئے زادراہ تیار کرلو اور یاد رکھو جس گھر میںتم اب ہو اس کے علاوہ بھی تمہارا ایک گھر ہے جہاں ایک عرصے تک تمہیں رہنا ہوگا۔ تمہیں دوست‘ احباب اور رشتہ دار سب اس گھر میں اکیلا چھوڑ کر واپس آجائیں گے۔ بس وہ سامان تیار کرلو جو اس وقت تمہارے کام آسکے۔ اے امیر المومنین! میری آخری بات سن لو کہ حکومت ہمیشہ ساتھ نہیں دیتی ‘ آج یہ تمہیں حاصل ہے کل کسی اور کو حاصل ہو جائے گی۔ لہٰذا اپنی رعایا کے ساتھ برتائو میں انصاف اور عدل کے پیمانے کو برقرار رکھو۔ آخرت کے دن کے شرمندہ ہونے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ تم آج اپنی اصلاح کی فکر کرلو اور رعایا کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے رہو تاکہ اس دن تمہیں کوئی شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔ (کچھ دیر اہل حق کے ساتھ)

متعلقہ خبریں