Daily Mashriq


نقیب اللہ قتل کیس:ضمنی چالان پیش،راوانوار مرکزی ملزم قرار

نقیب اللہ قتل کیس:ضمنی چالان پیش،راوانوار مرکزی ملزم قرار

ویب ڈیسک:انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کا ضمنی چالان منظور کرلیا ہے جس میں راؤ انوار کو جعلی پولیس مقابلے کا مرکزی کردار قرار دیا گیا ہے۔

نقیب اللہ قتل کیس میں جیل حکام نے راؤ انوار کا میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کرتے ہوئے ملزم کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیشی سے معذرت کر لی۔

انسداد دہشت گردی عدالت کراچی میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت شروع ہوئی تو کیس میں نامزد ڈی ایس پی قمر احمد سمیت 11 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا تاہم انتظار کے باوجود مرکزی ملزم راؤ انوار کو عدالت نہیں لایا گیا۔

سماعت کے دوران جیل حکام نے میڈیکل سرٹیفیکیٹ پیش کر تے ہوئے کہا کہ راؤ انوار کی طبیعت خراب ہے اس لئے ملزم کو پیش نہیں کیا جاسکتا، مرکزی ملزم راؤ انوار سب جیل ملیرکینٹ میں موجود ہیں تا ہم میڈیکل سرٹیفکیٹ سینٹرل جیل کےمیڈیکل افسر نے پیش کیا جس کے مطابق راؤ انوار شوگر، لوز موشن اور بخارمیں مبتلاہیں۔

عدالت نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کے خلاف چالان آج ہی پیش کیا جائے۔

تفتیشی افسر نے نقیب اللہ قتل کیس کا ضمنی چالان انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کردیا جسے عدالت نے منظور بھی کرلیا ہے۔

ضمنی چالان میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اب تک کی تفتیش سے مقتولین کو دہشتگرد قرار دیتے ہوئے جھوٹے پولیس مقابلے میں ہلاک کرنا ثابت ہوتا ہے، بادی النظر میں پولیس مقابلہ منصوبہ کے تحت کیا گیا، ڈی این اے رپورٹ کے مطابق ملزمان کو 1سے 5 فٹ کے فاصلے سے گولیاں ماری گئیں۔ سابق ایس ایس پی ملزم راؤ انوار، ڈی ایس پی قمر احمد سمیت 12 ملزمان گرفتار ہیں، جب کہ اے ایس آئی گدا حسین اور سب انسپیکٹر محمد شعیب عرف شعیب شوٹر سمیت 13 سے زائد ملزمان تاحال مفرور ہیں۔

ضمنی چالان میں بتایا گیا ہے کہ ملزم راؤ انوار جھوٹے پولیس مقابلے کا مرکزی کردار ہے،جیو فینسنگ رپورٹ کے مطابق ملزم راؤ انوار جائے وقعہ پر موجود تھا، واقعے کے بعد اور واقعے کہ وقت تمام ملزمان ایک دوسرے سے رابطے میں تھے، دوران تفتیش ملزم راؤ انوار اپنے ملوث نہ ہونے کے بارے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا اورمسلسل حقائق بتانے سے بھی گریز کرتارہا۔

متعلقہ خبریں