Daily Mashriq


کسی کو فکر نہیں قوم کے مسائل کی

کسی کو فکر نہیں قوم کے مسائل کی

خدا نخواستہ کیا تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرا رہی ہے؟ 1970ء کے انتخابات کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے سابق مشرقی پاکستان جاکر اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے والوں کی ٹانگیں توڑنے کی دھمکیاں دیکر کہا تھا جو وہاں جا کر قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے لئے یکطرفہ ٹکٹ کٹوالیں، یعنی انہیں واپسی کے بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہئے۔ اس قسم کے بیانات پر اس زمانے کے ایک اخبار روزنامہ آزاد میں مشہور اخبار نویس اظہر عباس مرحوم نے ایسی کمال سرخی جمائی کہ وہ آج تک پیپلز پارٹی کا پیچھا نہیں چھوڑتی، سرخی تھی ’’اُدھر تم اِدھر ہم‘‘۔ اب کراچی سے اٹھنے والی آوازیں تقریباً اسی قسم کی صورتحال کی غماز نظر آتی ہیں جب گزشتہ روز ایم کیو ایم پاکستان نے اپنے جلسے میں ’’سندھ آدھا تمہارا آدھا ہمارا‘‘ کا نعرہ لگا کر ملک کے سنجیدہ فکر حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس پر ایک ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں بحث کرتے ہوئے ایاز امیر نے کہا کہ ایم کیو ایم کا نعرہ سن کر دل دہل گیا ہے، ایم کیو ایم کی حیثیت کم ہوگئی، لیکن ان کے دل سے شر نہیں گیا۔ ایم کیو ایم چاہے گی کہ سندھ تقسیم ہو، حیدر آباد اور کراچی الگ صوبہ بنے جس میں ان کا غلبہ ہو، اگر وہ یہ کرلیں گے تو سندھی کہاں جائینگے، انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کی تقسیم پنچاب اور کے پی میں تو ہو سکتی ہے لیکن سندھ میں نہیں، اسی پروگرام میں ایک اور سینئرتجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا کہ ایم کیو ایم والے کوئی ہنگامہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، وہ ڈرے ہوئے لوگ ہیں تشویش اس بات سے ہوتی ہے جب لوگوں کو انصاف نہیں ملتا اور وہ عدم تحفظ محسوس کرتے ہیں، ایوب خان اور بھٹو کے ادوار میں اردو بولنے والوں کیساتھ زیادتیاں ہوئیں، اس بات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ صوبے اگر ایک جگہ بنے تو ہر جگہ بنیں گے، زمین کسی کی نہیں، جہاں تک ایم کیو ایم کے تازہ بیانئے کا تعلق ہے اس بات کی شہ چند روز پہلے محولہ چینل کی جانب سے شائع ہونیوالے اخبار کے سینئر گروپ ایڈیٹر اور سینئر صحافی نذیر ناجی کے ایک تجزئیے سے ملی ہے جس میں موصوف نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ کراچی کو کراچی والوں کے حوالے کردو تو سارے مسائل حل ہو جائینگے اب موصوف کا تجزیہ کس حد تک درست تھا اس پر سوچنا ضرور چاہئے تاہم صورتحال پر ایم کیو ایم کے ماضی کے حوالے سے سوچا جائے تو بات مزید واضح ہو جاتی ہے کہ

فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا

یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں چاک

ماضی میں جھانکتے ہوئے ہمیں اس سوال کا جواب تلاش کرنا پڑے گا کہ کیا جو لوگ اب بھی اپنے آپ کو مہاجروں کی اولاد ہونے کے ناتے اسی منصب ’’مہاجر‘‘ پر فائز ہونے پر مُصر ہیں، کیا وہ حقیقت میں مہاجر کہلانے کے مستحق ہیں بھی یا نہیں؟ اگر تو وہ خود کو اب بھی مہاجر ہی کہلوانے پر تلے ہوئے ہیں تو خود ان کی پاکستانیت پر سوال اٹھیں گے، کیونکہ جو لوگ مہاجر بن کر آئے تھے وہ اور ان کی اولاد یعنی بیٹے بیٹیاں بھی دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اور موجودہ اردو بولنے والوں کو کسی بھی طور مہاجر تسلیم نہیں کیا جا سکتا، کہ یہ ہجرت کرکے آنے والوں کی تیسری بلکہ چوتھی نسل ہے جو اب پانچویں نسل پیدا کر رہی ہے۔ اس لئے انہیں ابھی تک لفظ مہاجر کا لبادہ اوڑھنے اور اس لفظ کے پیچھے چھپنے کا کوئی حق نہیں ہے، یعنی اگر یہ ابھی تک پاکستانی نہیں بن سکے اور اب بھی مہاجر ہی کا لبادہ اوڑھنے پر بضد ہیں تو انہیں خود اپنی ’’حیثیت‘‘ کا تعین کرنے کی ضرورت ہے اور اگر یہ خود کو پاکستانی تسلیم کرتے ہیں تو پھر کراچی، حیدر آباد، سکھر اور دوسرے شہروں جہاں ان اردو بولنے والوں کی اکثریت ہے، کو علیحدہ کرنے کی زہریلی سوچ سے جان چھڑانا ہوگی۔ وگرنہ جس سوچ کا اظہار ایم کیو ایم کے حالیہ منعقد ہونے والے جلسے میں کیا گیا ہے یعنی سندھ آدھا تمہارا آدھا ہمارا کا جو نعرہ سامنے آیا ہے اصولی طور پر یہ بھی کوئی نیا نعرہ نہیں ہے بلکہ اس بیانئے کو لیکر تو ایم کیو ایم کے بانی نے ہندوستان جا کر یہاں تک کہہ دیا تھا کہ پاکستان بنانا ہمارے بزرگوں کی غلطی تھی اور اب بھی وہ لندن میں بیٹھ کر اسی سوچ کو آگے بڑھا رہے ہیں حالانکہ وقتی طور پر یا پھر مصلحتاً اس کی پارٹی کئی دھڑوں میں تقسیم ہوگئی تھی جس پر سیاسی حالات کا عمیق نظروں سے تجزیہ کرنے والوں نے کبھی اعتبار نہیں کیا کہ واقعی ایم کیو ایم کی یہ تقسیم ’’حقیقی‘‘ ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ خاص طور پر ذوالفقارعلی بھٹو کے دور میں ممتاز بھٹو جب سندھ کے وزیراعلیٰ تھے تو کراچی میں غیرسندھیوں کیخلاف زبان کی بنیاد پر کریک ڈاؤن کیا گیا تھا جس نے غیرسندھیوں اور خصوصاً اردو بولنے والوں کے دلوں میں نفرتیں اور کدورتیں بھر دی تھیں اور جب ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کو برطرف کر کے اقتدار پر قبضہ کیا تو پیپلز پارٹی کی طاقت ختم کرنے کیلئے اس نے اردو بولنے والوں کے انہی جذبات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایم کیو ایم کو تخلیق کیا، اس کے بعد یہ جماعت ہمیشہ اقتدار کے سرچشموں کیساتھ دست تعاون کو مطمح نظر بنائے ہوئے زندہ ہے اور وقتی طور پر پسپائی اس وقت اختیار کرتی ہے جب یہ اقتدار کی غلام گردشوں سے دور ہو، اب ایک بار پھر یہ مرکز میں اقتدار سے متمتع ہو رہی ہے تو اس سے تعلق رکھنے والے وزیرقانون ملک میں صدارتی نظام کے بیانئے کو آگے بڑھا رہے ہیں اور ریفرنڈم کی تجویز دے رہے ہیں جبکہ کراچی میں یہ ’’آدھا سندھ‘‘ کے نظریئے کی نوید بن گئی ہے۔ توکیا خدا نخواستہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے؟

کسی کو فکر نہیں قوم کے مسائل کی

ریا کی جنگ ہے بس حاشیہ نشینوں میں

متعلقہ خبریں