قومی اسمبلی کی نشستوں میں رد و بدل کا فیصلہ

قومی اسمبلی کی نشستوں میں رد و بدل کا فیصلہ

سپیکر قومی اسمبلی کی صدارت میں منعقد ہونے والے پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہی اجلاس میں آئندہ عام انتخابات نئی حلقہ بندیوں کے تحت کروانے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ اس حوالے سے آئینی ترمیم اگلے چند دنوں میں قومی اسمبلی میں پیش کردی جائے گی جبکہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے صوبوں کی قومی اسمبلی کے لئے نشستوں میں رد و بدل پر اتفاق کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے موجودہ حلقوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ بھی کیاگیا۔ قومی اسمبلی کی صوبائی نشستوں میں رد و بدل سے پنجاب سے قومی اسمبی کی 7جنرل اور دو خصوصی نشستیں کم ہوں گی جبکہ خیبر پختونخوا کے لئے قومی اسمبلی کی 4جنرل اور ایک خصوصی نشست میں اور بلوچستان کی 2جنرل اور ایک خصوصی نشست میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی بھی ایک جنرل نشست بڑھ جائے گی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کا آئینی تقاضا پورا کئے بغیر انتخابات کی قانونی حیثیت پر تنازعہ کھڑا ہو سکتا تھا۔ دستور اس حوالے سے صاف سیدھی رہنمائی کرتا ہے کہ مردم شماری کے بعد قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نئی حلقہ بندیاں کی جائیں۔ اس دستوری ضرورت کو مردم شماری کے لئے جاری کئے گئے نوٹیفیکیشن میں جس طرح نظر انداز کیاگیا تھا اس پر قانونی اتفاق سے گو ایک بحران ٹل گیاہے مگر یہ سوال اب بھی اپنی جگہ اہمیت کاحامل ہے کہ مردم شماری پر سامنے آنے والے اعتراضات اور سنگین نوعیت کی شکایات سے آنکھیں پھیرنے سے کیا مسائل حل ہو جائیں گے؟ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ چھوٹے صوبوں کی بیدار مغز قیادتوں نے ملکی حالات کے پیش نظر مردم شماری پر اپنا احتجاج تو ریکارڈ کروایا مگر ایسے عمل سے گریز کیا جس سے ماحول میں تنائو پیدا ہوتا۔ سیاسی قیادتوں کا یہ طرز عمل لائق تحسین ہے۔ لیکن وفاقی حکومت کے ذمہ داران کا بھی فرض تھا کہ وہ مردم شماری کے حوالے سے سامنے آنے والی شکایات پر ایک پارلیمانی کمیٹی بنا کر اس کاجائزہ لیتی کیونکہ مردم شماری فقط انتخابی عمل کے لئے نئے اقدامات کی متقاضی نہیں ہوتی بلکہ اس کی بنیاد پر صوبوں میں وسائل کی تقسیم کے ساتھ وفاقی ملازمتوں میں حصہ اور چند دیگر معاملات بھی طے ہوتے ہیں۔ یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جس کی وجہ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ صوبوں کے لئے قومی اسمبلیوں کی نشستوں میں رد و بدل کے فارمولے پر اتفاق رائے سے اصل میں بنیادی نوعیت کے سنگین مسائل اور شکایات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ آخر مردم شماری کے نتائج پر اٹھنے والے اعتراضات سے یکسر منہ کیوں موڑاگیا۔ کیا صوبائی حکومتوں کا یہ حق نہیں تھا کہ ان کی شکایات دور کی جائیں؟ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس حساس مسئلہ کی کسی کو پرواہ نہیں اور محض انتخابی عمل کے متاثر ہونے کا ہوا کھڑا کرکے قومی اسمبلی کی صوبائی نشستوں میں رد و بدل پر اتفاق رائے حاصل کرلیاگیا ۔ یہاں ایک سوال اور ہے وہ یہ کہ مردم شماری پر اعتراضات کی موجودگی میں مستقبل میں اس کی بنیاد پر طے ہونے والے معاملات کا کیا ہوگا۔ کیا چھوٹے صوبوں کے حق مالیات اور دوسرے معاملات میں اضافہ کیا جائے گا؟ ہماری دانست میں اس سوال کو نظر انداز کرنے کی بجائے حقیقت پسندی کے مظاہرے کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انتخابات کے عمل کے آغاز سے قبل ہی اس معاملے کو کسی فورم پر طے کروائے۔ اسکے لئے دو راستے ہیں اولاً یہ کہ وزیر اعظم اور چاروں وزرائے اعلیٰ پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی معاملے کو دیکھے اور ثانیاً قومی اسمبلی کی ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی۔ یہاں اس امر کی طرف توجہ دلانا بھی از بس ضروری ہے کہ صوبوں کے لئے قومی اسمبلی کی نشستوں میں رد و بدل سے کیا اس اہم مسئلہ کا حل تلاش کرلیا جائے گا کہ انتخابی حلقہ کے رائے دہندگان میں اضافے سے ابہام پیدا ہوں گے۔ مثلاً ایک ایسے ملک میں جہاں بلدیاتی ادارے موجود تو ہوں مگر یہ ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے دست نگر رہیں۔ اس حوالے سے پنجاب‘ سندھ اور بلوچستان کے بلدیاتی قوانین دیکھے جاسکتے ہیں جہاں یہ ادارے نمائشی ہیں اور فنڈز آج بھی ارکان اسمبلی کی مرضی سے فراہم اور خرچ ہوتے ہیں۔ کیا ہی اچھاہوتا کہ مستقبل کے حوالے سے ارکان اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز کی بدعت سے بھی نجات دلوا دی جاتی اور بلدیاتی ادارے اپنا حقیقی کردار ادا کر پاتے۔بہر طور مسائل سے دو چار حکومت کے لئے پارلیمانی پارٹیوں اور دیگر قوتوں نے مزید کوئی مسئلہ پیدا نہ کرنے کی روش اپنا کر جمہوریت کے تسلسل کے لئے جس جذبہ کا مظاہرہ کیا ہے اس کی ستائش لازمی ہے۔ صوبوں کے لئے قومی اسمبلی کی نشستوں میں رد و بدل کے بعد یہ امید کی جانی چاہئے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے حصے میں آنے والی قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں سے ان صوبوں کے ان علاقوں کی داد رسی ہو پائے گی جہاں دوسرے حلقوں کے مقابلہ میں حلقہ بندی دو فیصد تک زیادہ دائرے کی ہے۔ خیبر پختونخوا میں ڈیرہ اسماعیل خان اور بلوچستان میں کوئٹہ اس کی مثال ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ نئی حلقہ بندیوں کے مرحلہ میں الیکشن کمیشن مشرف دور کے پیمانے استعمال کرتے ہوئے پسند و نا پسند کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے کھلواڑ سے گریز کرے گا اور ہر ممکن طریقے سے اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ حلقہ بندیاں قانونی و آئینی تقاضوں کے مطابق ہوں۔ ماضی کی طرح سیاسی مداخلت پر نہ ہوپائیں کہ مکان کا نچلا حصہ ایک حلقہ میں اور بالائی منزل کسی دوسرے انتخابی حلقہ میں شامل ہو۔ قومی اسمبلی کے موجودہ 272 حلقوں کو برقرار رکھتے ہوئے صوبوں کی نشستوں میں رد و بدل سے خدا کرے مسائل اور بحران پر قابو پالیا جائے اور انتخابات مقررہ وقت پر ہوں۔

اداریہ