Daily Mashriq

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا ڈرون حملہ

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا ڈرون حملہ

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 2روپے 49پیسے سے 5روپے 19پیسے تک کے اضافے کی منظوری کے بعد پٹرول 57.99فی لیٹر ، ہائی سپیڈ ڈیزل 84-59لائٹ ڈیزل 49روپے ۔ جبکہ مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت 53روپے ہوگئی ۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد لاگو ہونے والے پیٹرولیم مصنوعات کے نئے نرخوں پر نرم سے نرم الفاظ میںیہی عرض کیا جاسکتا ہے کہ پالیسی ساز بابوئوں نے زمینی حقائق اور عام آدمی کی قوت خرید کو ہمیشہ کی طرح نظر انداز کر کے محض حکومتی خزانہ بھرنے اور پٹرولیم کمپنیوں کے منافع کا تحفظ کیا ہے بجا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں کے دوران اضافہ ہوا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جنوبی ایشیاء کے ملکوں میں سے پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں پٹرولیم مصنوعات کی فی لیٹر قیمت میں شامل حکومتی ٹیکس سب سے زیادہ ہے ۔ اصولی طور پر ہونا یہ چاہیئے تھا کہ حکومت اپنے شرح منافع میں کچھ کمی کر لیتی بالخصوص اس صورت میں جب مہنگائی کی ابتر صورتحال نے عام آدمی کی کمر توڑ رکھی ہے ۔ پالیسی ساز بابوئوں کی اکثریت کی گاڑیاں حکومتی خرچے اور مراعات پر چلتی ہیں اس لئے انہیں یہ حقیقت کبھی سمجھ میں نہیں آسکتی کہ محض پیٹرولیم کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی بڑھتی ہے ۔ حالانکہ سیدھا سا معاملہ ہے پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے سے پبلک اور گڈ ز ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھتے ہیں اس اضافے کے دور تک اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ پھر یہ بھی بد قسمتی ہے کہ پچھلے ساڑھے چار برسوں میں وفاقی حکومت نے ایک بھی ایسا اقدام نہیں کیا جس سے مہنگائی کم ہو پائے ۔ آسمان کوچھوتی مہنگائی کے ہاتھوں ستائے شہریوں کے لئے پٹرولیم مصنوعات میں نیا اضافہ کسی ڈرون حملے سے کم نہیں ۔ حکومت کے اس فیصلے سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان بر پا ہو گا اور دووقت کی روٹی کے ترسے عام شہری کی زندگی اجیرن ہو جائے گی ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ حکومت فی لیٹر کے اپنے منافع میں کچھ کمی کر لیتی تاکہ آنے والے دنوں میں سفید پوش اور غریب طبقوں پر مہنگائی کا نیا بوجھ نہ پڑتا ۔
منگل کا سانحہ کابل
کابل کے انتہائی حساس اور سفارتی علاقے میں وزارت دفاع ، آسٹریلیا اور امریکی سفارتخانے کی عمارتوں سے کچھ فاصلے پر منگل کو ہونے والے خود کش حملے میں 15افراد جاںبحق اور 20کے قریب زخمی ہوگئے ۔ افغانستان میں تشدد کی حالیہ لہر کے دوران اب تک کے 11بڑے واقعات میں 200سے زیادہ شہری اور 125کے قریب سیکورٹی اہلکار جاں بحق ہو چکے ہیں منگل کے سانحہ کابل کی ذمہ داری بھی دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کی ہے ۔ سانحہ کابل پر اہل پاکستان کا غمزدہ ہونا فطری عمل ہے پاکستان کے عوام اپنے افغان بھائیوں کے دکھ اور خوشی دونوں کو اپنی ذاتی خوشی اور دکھ سمجھتے ہیں دہشت گردجس طرح افغانستان کے لوگوں کو خون میں نہلا رہے ہیں اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ دکھ اور مصیبت کی اس گھڑی میں ہم اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ ہیں اور افغانستان میں موجود عالمی طاقتوں سے مطالبہ کرنے میں حق بجانب بھی کہ وہ اپنے مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے افغانستان میں دیر پا امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے موثر کردار ادا کریں تاکہ افغانوں کے جنت نظیروطن میں زندگی کی حقیقی رونقیں بحال ہو سکیں اور تعمیر و ترقی کے دور کا آغاز ہو ۔
حقیقت پسندانہ فیصلہ
مسلم لیگ (ن) کے لندن میں منعقدہ مشاورتی اجلاس میں محاذ آرائی کی سیاست سے گریز اور جمہوری عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق رائے ایک مثبت اور حقیقت پسندانہ فیصلہ ہے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں وطن عزیزکسی قسم کی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام حکمران جماعتیں آئین و قانون کی بالادستی اور نظام سے تو اتر کے ساتھ چلنے کو یقینی بنانے کے لئے اپنا کردار موثر طریقے سے ادا کریں تاکہ آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ ، پر امن اور ترقی یافتہ پاکستان تعمیر کرنے کے خواب شرمندہ تعبیر ہو سکیں ۔ ہمیں امید ہے کہ نون لیگ کے ایڈونچر پسند اپنی جماعت کی اعلیٰ قیادت کے فیصلوں پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے جمہوری نظام کے استحکام کے لئے توانائیاں صرف کریں گے ۔

اداریہ