Daily Mashriq


غلط یا ٹھیک مجھے مشورہ تو دیتا ہے

غلط یا ٹھیک مجھے مشورہ تو دیتا ہے

ملک میں جاری سیاسی ہلچل کے پس منظر کو اگر نگاہوں میں لایا جائے تو ایک تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے جس کے خدوخال نئے انتخابات کی گہما گہمی سے عبارت دکھائی دیتے ہیں ۔ خاص طور پر جب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کا عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے ، بعض سیاسی رہنماء بہت بے صبر ے ہوئے جارہے ہیں اور وہ ایک ایسا بیانیہ سامنے لا رہے ہیں جس کا مقصد موجودہ حکومت کو دبائو میں لا کر اسے اس بات پر مجبور کرنا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طور ملک میں نئے انتخابات کے انعقاد کا اعلان کردے ، اس بیانیہ میں ٹیکنو کریٹ حکومت کے قیام کابھی تذکرہ ہوتا رہتا ہے ، کچھ اور لوگ مزید دور کی کوڑی لاتے ہوئے ایک بار پھر پارلیمانی نظام کی ناکامی کا شور مچاتے ہو ئے ملک کیلئے صدارتی نظام کی تجویز بھی آگے بڑھا رہے ہیں ، تاہم ان سارے معاملات میں جو اڑچن ہے وہ چند روز پہلے ڈائر یکٹر جنرل آئی ایس پی آر کا وہ واضح ، دوٹوک غیر مبہم بیان ہے جس میں انہوںنے کہا تھا کہ ملک میں کوئی بھی تبدیلی آئین اور قانون کے مطابق ہی آسکتی ہے ، اصولی طور پر اس بیان کے بعد جو لوگ ٹیکنو کریٹ حکومت یا پھر صدارتی نظام کی افواہیں پھیلا رہے ہیں ان کو خاموش ہوجانا چاہیئے تھا مگر اسے کیا کہا جائے کہ ایسے لوگ اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے روز کوئی نہ کوئی نیا نکتہ تراش کر اپنا بیانیہ آگے بڑھاتے رہتے ہیں ، حالانکہ بعض غیر جانبدار تجزیہ کار یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ جب آئین میں کسی ٹینکوکریٹ حکومت یا پھر صدارتی نظام کی گنجائش ہی نہیں ہے تو اس قسم کے فضول سوال بار بار کیوں اٹھائے جارہے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی لندن میں ایک میڈیا نمائندے کے اس سوال پر یہی جواب دیا کہ آئین میں ٹیکنوکریٹ حکومت کے حوالے سے کہا ں لکھا ہے۔ ادھر شیخ رشید احمد ایک بار پھر نیا پٹارہ کھول کر اس میں سے ایک لسٹ نکال کر لے آتے ہیں جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ان لوگوں کے ناموں پر مشتمل لسٹ ہے جو بقول انکے لیگ (ن) سے تعلق رکھتے ہیں اور جلد ہی علیحدگی اختیار کر لیں گے ۔ تاہم ان کی اس لسٹ میں مبینہ طور پر علیحدہ ہونے والوں کی تعداد میں ہر گز رتے دن کے ساتھ اضافہ یا کمی ہوتی رہتی ہے ، بعض اینکر حضرات بھی اسی قسم کے دعوے کرنے میں آگے آگے ہیں مگر ابھی تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آسکے ، دراصل اس طرح کے دعوئوں کے پیچھے مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والوں کا عمومی کردار بھی ہے کیونکہ ماضی میں بقول شخصے اس جماعت کے حصے بخرے ہوتے رہے ہیں اور پارٹی کے اندر سے کئی پارٹیاں جنم لے کر وقت کے مقتدروں کے اقتدار کو مضبوط کرنے کا باعث بنتی رہی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ موجودہ لیگ یعنی نون لیگ ابھی تک استقلال کابھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جگہ ڈٹی ہوئی ہے اور نظر بہ ظاہر ( تادم تحریر) اس کے حصے بخرے ہونے یا اس میں دراڑ یں پڑنے کے آثار دور دور تک نظرنہیں آرہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت کو گرا کر وقت سے پہلے نئے انتخابات کے انعقاد کی خواہش رکھنے والوں کی صفوں میں مایوسی دکھائی دے رہی ہے۔ کالم کے آغاز میں بعض حلقوں کی جانب سے جلد از جلد نئے انتخابات کے انعقاد کے لئے بے صبری کے مظاہرے کا جو تذکرہ کیاگیا ہے وہ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی سیاست کے حوالے سے اختیار کی گئی حکمت عملی سے واضح ہوتی ہے۔ سیاسی جلسوں میں تیزی اور خصوصاً حالیہ دنوں میں بعض قومی اور صوبائی حلقوں میں ضمنی انتخابات کے سلسلے میں منعقدہ جلسوں اور ریلیوں سے بھی اس بات کو تقویت مل رہی ہے کہ 2018ء کے انتخابی معرکے کی ر یہر سل ابھی سے شروع کردی گئی ہے۔ پشاور کے حلقہ این اے 4 کے ضمنی انتخابات میں جہاں ایسی ہی سرگرمی دیکھنے کو ملی وہیں بعض سیاسی جماعتوں نے اس حلقے میں اپنے امیدواروں کو دست بردار کراکے دوسری جماعتوں کی حمایت کا راستہ اپنایا جبکہ 2018ء کے انتخابات میں بھی سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے اورپورے ملک میں نہ صرف قومی اسمبلی بلکہ صوبائی اسمبلیوں میں بھی جیتنے والوں کی چھان پھٹک کے بعد ہی سیاسی جماعتیں ہر حلقے میں نہایت سوچ بچار کے بعد ہی اتحاد کر کے متبادل حلقوں میں اپنے امید وارں کیلئے تعاون کی طلبگار ہوں گی ۔ اس حوالے سے اے این پی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات سینیٹرز اہد خان نے اپنے تازہ بیان میں البتہ یہ کہا ہے کہ ان کی جماعت عام انتخابات میں کسی پارٹی سے اتحاد نہیں کرے گی ۔ 

اس حوالے سے اگر اے این پی کے حلقے گزشتہ انتخابات سے پہلے سیاسی تجزیوں کا جائزہ لیں تو انہیں یہی مشورہ اس وقت بھی راقم نے دیا تھا خصوصاً پشاور شہر کے قومی اور صوبائی حلقوں کے بارے میں واضح طور پر ہم نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ وہ جن جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے جارہی ہے وہ جماعتیں کسی بھی صورت میں اے این پی کو ووٹ نہیں دیں گی بلکہ ان پارٹیوں کے کارکن منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بظاہر تو پولنگ سٹیشنوں پر سرگرم دکھائی دیں گے تاہم ووٹ اے این پی کے امیدواروں کے خلاف استعمال کریں گے اور ہماری بات سوفیصد درست ثابت ہوئی ، اس لئے اگر اے این پی نے کسی بھی جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو اس فیصلے پر اسے ڈٹ جانا چاہیئے کہ یہی اس کے حق میں بہتر ہوگا ۔ اسی طرح بعض دوسری سیاسی جماعتوں کیلئے بھی یہی مشورہ ہے جس کا ذکر آئندہ کسی کالم میں کیا جائے گا ۔

غلط یا ٹھیک مجھے مشورہ تو دیتا ہے

وہ زندہ رہنے کا کچھ حوصلہ تو دیتا ہے

متعلقہ خبریں