Daily Mashriq


بلوچ عوام کا قابل ستائش کردار

بلوچ عوام کا قابل ستائش کردار

بھارت کے سر پر ’سی پیک ‘بری طرح سوار ہو چکا ہے ۔ مودی سرکار نے ’’ را‘‘ کے تحت ایک علیحدہ خصوصی سیل قائم کر دیا ہے، جس کا مشن یہ ہے کہ ’’ بلوچستان میں تخریب کاری اور فرقہ واریت کی وارداتوں کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچ عوام کو پاکستان سے متنفر کیا جائے اور سی پیک کے منصوبوں کو نشانہ بنایا جائے۔‘‘ پاکستان میں تعینات چینی سفیر پر حملے کے لیے آنے والے ’’ ایسٹ ترکستان اینڈیپنڈنٹ موومنٹ ‘‘کے مبینہ دہشت گرد عبد الویلی کے پیچھے بھی ممکنہ طور پر ’’را‘‘ کا یہی خصوصی سیل کارفرما ہے، جو اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے اپنے ناپاک عزائم پورے کرنا چاہتا ہے۔’’را‘‘ کے تحت بننے والے اس خصوصی یونٹ کو بھارت کی طرف سے بنائی گئی بلوچوں کی علیحدگی پسند تنظیموں کا چارج بھی دے دیا گیا ہے۔ بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کی ایماء پر بلوچستان میں جو علیحدگی پسند درجن کے قریب تنظیمیں ہیں ان تمام تنظیموں کے مجموعی ممبران کی تعداد بھی پانچ ہزار سے زائد نہیں ہے۔ ان سب کو ’’را‘‘ سے براہ ِ راست فنڈز ملتے ہیںاور یہ سب جتھے ’’را‘‘ کے بنائے ہوئے خاکوں میں رنگ بھرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔انہی تنظیموں نے ’’فری بلوچستان موومنٹ ‘‘ کے نام سے ایک اتحاد تشکیل دیا ہے، جس کے تحت یہ پوری دنیا میں پاکستان کے خلاف میٹنگز ، جلسے ، ریلیاں اور سیمینار منعقد کرتے ہیں ۔اس سلسلہ میں گزشتہ ماہ امریکی فرینڈز آف پاکستان کے نام سے ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس کی صدارت حسین حقانی نے کی ۔ اس سیمینار میں براہمداغ بگٹی ، کریمی بلوچ ، احمر مستی خیل ، مہران مری اور حمال حیدر نے بھی شرکت کی ۔ سیمینار میں بلوچوں کو گمراہ کرنے اور سی پیک کو متنازعہ بنانے کے لیے یہ جھوٹ بھی بڑی ڈھٹائی سے بولا گیا کہ ’’پرویز مشرف کے دور میں سی پیک کا منصوبہ سامنے آچکا تھا اور اس کے راستے میں نواب اکبر بگٹی رکاوٹ تھا ، لہٰذا نواب اکبر بگٹی کو چین نے قتل کرکے سی پیک کا راستہ ہموار کیا ۔‘‘عالمی سطح پر پاکستان اور ’سی پیک‘ کے خلاف اس طرح کی پروپیگنڈہ سرگرمیاں تیزی سے بڑھائی جارہی ہیں لیکن یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ہونے والے ان سازشیوںکے کسی بھی جلسے ، ریلی یا سیمینار میں 50سے زائد سے افراد نے آج تک شرکت نہیں کی ، جو اس بات کا ایک بین ثبوت ہے کہ ان کٹھ پتلیوں کو بلوچ قوم کی ایک فیصد بھی تائید و حمایت حاصل نہیں ہے۔ بلوچستان میںانتشار پھیلا کر’ سی پیک‘ کو ختم کرنے کے سلسلہ کی ایک اور کڑی یہ بھی ہے کہ بھارت نے بلوچستان میں اپنی سازشوں کو پروان چڑھانے کے لیے 20جون 2017ء کو ’’ ہند بلوچ فورم ‘‘ کے نام سے ایک نئی تنظیم کی بنیاد رکھی ہے۔ 

یہ تنظیم دنیا بھر میں موجود ان بلوچوںکو منظم کرے گی ، جو بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی چاہتے ہیں۔اگرچہ آزاد بلوچستان کے حامی بلوچ دنیا بھر میں چند سو سے زائد نہیںلیکن ان کو منظم کر کے ’’ ہند بلوچ فورم ‘‘ کے بینر تلے ایک مربوط پراپیگنڈہ مہم چلانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ اس فورم کو فنڈز براہ ِ راست ہندوستانی حکومت فراہم کر رہی ہے جبکہ ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ’’ را‘‘ کا سابق اہلکار کرنل آر ایس سنگھ کی اس ’ہند بلوچ فورم ‘میںشمولیت ثابت کر رہی ہے کہ ’’را‘‘ بھی اس منصوبے میں پوری طرح ملوث ہے۔ ’ہند بلوچ فورم ‘ نے بلوچوں سے اپنی ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے یہ اوپن آفر کر رکھی ہے کہ ’’ جو بلوچ سمجھتے ہیں ، ان کی زندگی کو پاکستان میں خطرات لاحق ہیں،وہ ہندوستان میںسیاسی پناہ کی درخواست دیںتو فوری طور پر ان کی درخواست حکومتِ ہندوستان سے منظور کر وا لی جائے گی ۔‘‘اس فورم کی تشکیل کے بعد ہندوستان کے صوبہ راجھستان میں جو پہلا اجلاس ہوا ، اس کا موضوع تھا’’ بھارت ، بلوچستان کی آزادی میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟‘‘اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس ’’ ہندو بلوچ فورم‘‘ کے مقاصد کیا ہیں ۔صد آفرین ہے بلوچستان کے محب وطن بلوچ عوام پر کہ انہوں نے آج تک بھارت کی ایسی ہر سازش کو ناکام کیا اور پاکستان کے استحکام کے لیے سیسہ پلائی دیوار کی طرح بھارت کی ہر چال کے راستے میں کھڑے ہوتے آرہے ہیں۔ سی پیک اور بلوچستان کے خلاف بھارت اور امریکا کی طرف سے جاری مشترکہ سازشی اقدام اب کوئی راز نہیں رہے۔ ان کا ہدف واضح ہو چکا ہے کہ یہ کسی صورت نہیں چاہتے کہ ’سی پیک ‘کے ذریعے گوادر پورٹ کا 3000کلومیٹر فاصلے پر موجود چین کے تجارتی مرکز کاشغر سے رابطہ مکمل ہو۔بھارت اور امریکا اچھی طرح جانتے ہیںکہ اگر چین اور پاکستان مل کر’ سی پیک‘ کو مکمل کرنے میں کامیاب ہو گئے توچین،امریکا کی جگہ دنیا کی نئی سپر پاور بن جائے گا جبکہ پاکستان ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے انقلابی دور میں داخل ہو جائے گا، جہاں اسے پھر امریکا سمیت دنیا کے کسی ملک کے آگے کشکول لے جانے کی کبھی ضرورت نہیں پڑے گی۔

متعلقہ خبریں