Daily Mashriq


لوڈشیڈنگ کا ختم نہ ہونے والا عذاب

لوڈشیڈنگ کا ختم نہ ہونے والا عذاب

گزشتہ دنوں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اکتوبر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ مکمل ختم کردی جائے گی۔ اب جبکہ گرمی ختم ہونے کی وجہ سے بجلی کے استعمال میں کمی آئی ہے مگر اس کے باوجود بھی خیبرپختونخوا اور بالخصوص ضلع صوابی بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ کی زد میں ہے۔ خیبرپختونخوا اور صوابی میں لوڈشیڈنگ کا کوئی وقت متعین نہیں۔ میں چھٹیاں گزار نے آبائی گاؤں صوابی آیاہوں۔

صبح 8 بجے بجلی چلی جاتی ہے اور 3 بجے تک بند ہو تی ہے۔ اس کے بعد بھی ہر30 اور 40 منٹ کے وقفے سے بجلی آنے اور جانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ لوڈ شیڈ نگ کا کوئی شیڈول نہیں۔ اس وقت خیرپختونخوا کو جتنی بجلی کی ضرورت ہے وہ1200 سے 1500 میگاواٹ کے درمیا ن ہے جبکہ خیبرپختون خوا میں تعمیر شدہ ڈیموں سے بجلی کی پیداوارتقریباً 4300 میگاواٹ ہے۔ میں خیبرپختون خوا کی حکومت اور حکمران اتحادی جماعتوں کے لیڈران سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ کم از کم صوبے میں تو لوڈشیڈنگ منصفانہ کریں۔ کم ازکم بجلی لوڈ شیڈنگ تو اس وقفے اور ترتیب سے ہو کہ اگر کسی کے پاس یو پی ایس اور جنریٹر کی سہولت ہے وہ تو اس سے استفادہ کر سکے۔ جب 6 تا7 گھنٹے مسلسل لوڈشیڈنگ ہوگی تو اس میں یو پی ایس اور جنریٹر کیسے کام کرے گا۔ بجلی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے لوگوں کے اخراجات میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہو اہے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے قائدین ہر چھوٹے اور بڑے جلسے میں ہمیشہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو وطن عزیز میں بجلی اور گیس لوڈشیڈنگ کو بالکل ختم کر دیں گے مگر بدقسمتی سے خیبر پختون خوا میں ناروا لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ لوڈ شیڈنگ کے باوجود ایک غریب ترین صارف کا بجلی بل ساڑھے تین اور چار ہزار سے کم نہیں آتا۔ اس سلسلے میں جب علاقے کے ایکس ای این اوورسیئر انجینئر سے رابطہ کرنے کی کو شش کی تو انہوں نے فون اٹھانا گوارا نہیں کیا۔ بعد میں مجھے ایک اور اہلکار سے پتہ چلا کہ علاقے میں بجلی چوری سے جو نقصان ہوا اس کی کمی کو پورا کرنے کے لئے بجلی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔ یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ خیبر پختون خوا کے اکثر علاقوں اور ضلع صوابی میں 96 فیصد لوگ بجلی بل جمع کرتے ہیں جہاں تک بجلی چوری کا مسئلہ ہے وہ بھی نہیں ۔ واپڈا اہلکاروں اور خا ص طور پر میٹر ریڈرنگ حضرات کی پو سٹیں خالی پڑی ہیں اور جو ہیں وہ احسن طریقے سے بجلی میٹر چیک نہیں کر سکتے اور اسی طرح یہ انرجی لاسسز یا چوری کے زمرے میں آتا ہے۔ لہٰذا پہلے تو واپڈا کی خالی آسامیاں پر کی جائیں اور اس کے بعد اگر انرجی لاسسز یا بجلی چوری ہو تو اس پر قابو رکھنا واپڈا کی ذمہ داری بنتی ہے۔ تحریک انصاف حکومت جب تک بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ پر قابو نہیں پائے گی یا کے پی کے میں اس کو کم کرنے کے لئے اقدامات نہیں کرے گی اس کی پوزیشن مستحکم نہیں ہوگی۔

جہاں تک خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی اور مرکز میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومتوں کا تعلق ہے ان کی مقبولیت میں روز بروز کمی آرہی ہے اور لوگ کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ اس ناروالوڈ شیڈنگ کے خلاف آواز کیوں نہیں اُٹھاتی۔ بجلی کے وفاقی وزیر کبھی ایک صوبے کے لوگوں کو بجلی چور سمجھتا ہے اور کبھی دوسرے صوبے کے۔کبھی لائن لا سسز اور کبھی کمزور ٹرانسمشن لائن جیسے بہانے بناتے ہیں۔ آخر کب تک اس قسم کے بہانے چلتے رہیں گے۔ اگر ہم واپڈا کے کل صارفین پر نظر ڈالیں تو واپڈا کے کل صارفین کی تعدادکروڑوں میں ہے جن میں باالترتیب سب سے زیادہ صارفین پنجاب ، کے پی،سندھ اوربلوچستان سے ہیں اور تقریباً 3 لاکھ کا تعلق قبائلی علاقہ جات سے ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس کے مطابق پنجاب کے چاروں ریجنز جس میں لاہور، ملتان، فیصل آباد اورگوجرانوالہ شامل ہیں مجموعی طو ر پر 58 فیصد بجلی چوری ہو رہی ہے۔

یعنی وفاقی وزیر بجلی کے آبائی صوبے میں2 کروڑ 13 لاکھ صا رفین میں سے ایک کروڑ 28 لاکھ بجلی چوری میں ملوث ہیں۔ خیبر پختون خوا میں بجلی کے کل صارفین کی تعداد میں سے یہاں پر 32فیصد بجلی چوری ہو رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں پر7 لاکھ صارفین بجلی چوری میں ملوث ہیں۔ سندھ اور حیدر آباد میں بجلی کے کل صارفین کی تعداد 16لاکھ ہے، جس میں کراچی شامل نہیں اور یہاں پر35 فیصد بجلی چوری ہو رہی ہے نتیجتاً یہاں پر6 لاکھ صارفین بجلی چوری میں ملوث ہیں۔ بلوچستان کے کل بجلی صارفین کی تعداد 5 لاکھ کے لگ بھگ ہے اور جس کا مطلب یہ ہے کہ بلوچستان میں ڈیڑھ لاکھ صارفین بجلی چوری میں ملوث ہیں۔ اب وفاقی وزیر توانائی بتا ئیں کہ وہ جس صوبے کو بجلی چور سمجھتے ہیں ا س سے زیادہ تو ان کا آبائی صوبہ بجلی چوری میں ملوث ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک میں بجلی کی چوری کی شرح اور لائن لاسز مختلف ہیں۔ مثلاً ترقی یافتہ ممالک جس میں امریکہ، برطانیہ اور ڈنمارک شامل ہے وہاں پر بجلی چوری اور ٹرانسمیشن لاسز 6 فیصد جبکہ پاکستان میں اوسط بجلی چوری اور لائن لاسز 22 فیصد ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ واپڈا اہلکار ڈیوٹی میں غفلت برتنے اور لوگوں کو تنگ کرنے کے لئے خود وفاقی حکومت اور سرمایہ داروں کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ واپڈا کی نجکا ری کریں۔

متعلقہ خبریں