Daily Mashriq

جذبات کا اظہارحدود وقیودمیں رہ کر کیا جائے

جذبات کا اظہارحدود وقیودمیں رہ کر کیا جائے

رسالت کے مبینہ ارتکاب کی ملزمہ کی زیر یں عدالتوں سے ہونے والی سزائے موت کو کالعدم قرار دے کرسپریم کورٹ سے بری کئے جانے کا فیصلہ جہاں ایک جانب ملک کے بڑی عدالت کا فیصلہ ہے وہاں دوسری جانب اس فیصلے سے ہمارے عقائد اور عقیدت کی وابستگی ہے ۔ اہل اسلام کی جذباتیت اور احتجاج بھی فطری امر ہے ۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں ذہن واضح طور پر تقسیم اور عقل وہوش پوری طرح منقسم ہے جہاں ایک جانب شریعت اور قوانین کے تقاضے ہیں تو دوسری جانب ہر رشتے اور ہر چیز سے بالاتر ایسا نازک معاملہ کہ اس بارے اظہار خیال کے خیال سے جسم پر جھرجھری طاری ہوتی ہے کہ کوئی ایسا خیال یا ایسی تحریر سرزدنہ ہو جو پکڑ میں آنے کا باعث ہو ۔ اس معاملے میں جیدسے جید علمائے کرام بھی صورتحال کے حوالے سے پوری طرح اظہار خیال اور لوگوں کی رہنمائی کے فریضے میں محتاط دکھائی دے رہے ہیں بنا بریں اس معاملے کو پیش آمدہ صورتحال اور حالات ہی تک محدود رکھنا بہتر ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں آسیہ مسیح کیس میں عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے سامنے ریاستی موقف پیش کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کو آئین کے مطابق قرار دیا اور انتشار پھیلانے والوں کو خبردار کیا کہ وہ ریاست کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور نہ کریں۔اپنے مختصر خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آسیہ مسیح سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ملک میں ایک چھوٹے سے طبقے نے اپنا رد عمل دیا اور ججز کو قتل کرنے اور فوج اور ریاست کے خلاف بغاوت کے لیے شہریوں کو اکسانے کی کوشش کی۔پاکستان کا قانون قرآن اور سنت کے منافی نہیں ہے، ججز نے آسیہ مسیح سے متعلق جو فیصلہ دیا وہ آئین کے مطابق ہے اور پاکستان کا آئین قرآن اور سنت کے ماتحت ہے۔وزیراعظم عمران خان کے خطاب اور عدالتی فیصلے پر احتجاج بلکہ عوام کا اپنے جذبات کا اظہار کرنے سے قطع نظر عدالت نے جن نکات پر اس مقدمے کا فیصلہ سنایا اس سے آگاہی اور اس کااعادہ اس لئے ضروری ہے کہ جذبات کی بجائے ٹھنڈے دل سے ان نکات پر غور کیا جائے اور عدالتی فیصلے بارے رائے قائم کی جائے گو کہ عدالتی فیصلہ ایک طویل بحث اور نکات پر مبنی ہے لیکن چند ایک چیدہ چیدہ اور عام فہم نکات پر غور ضروری ہے۔ عدالتی فیصلے کے چیدہ چیدہ نکات کے مطابق ملزمہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے میں پانچ دن کی تاخیر کی گئی جس سے شک ہوتا ہے کہ اس دوران اپیل کنندہ کے خلاف ایک منظم سازش تیار کی گئی۔ عدالت نے اس بارے میں استغاثہ کی یہ وضاحت مسترد کر دی کہ ایف آئی آر میں تاخیر اس لیے ہوئی کہ اس بارے میں حقائق کو پرکھا جا رہا تھا۔عدالت نے ماضی کے بعض اہم فوجداری مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں ایک گھنٹے کی بھی بلا جواز تاخیر شک کو جنم دیتی ہے۔ عدالت نے تاخیر کے لیے استغاثہ کے عذر کو مسترد کر دیا۔اس کے علاوہ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ جب مدعی سے پوچھا گیا کہ اس ایف آئی آر کے لیے درخواست کس نے تحریر کی تو اس نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر کے لیے درخواست ایک وکیل نے لکھی تھی جس کا نام انہیں یاد نہیں۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ یہ امر بھی اس ایف آئی آر کی سچائی پر سوال اٹھاتا ہے۔گواہوں کے بیانات میں تضادات بھی اس فیصلے کے اہم نکات ہیں۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ استغاثہ کے گواہوں کی جانب سے حقائق کی جو تفصیل بتائی گئی ہے اس میں تضاد پایا جاتا ہے جس سے استغاثہ کی ساری کہانی مشکوک ہو جاتی ہے۔عدالت نے کہا ہے کہ استغاثہ کی دونوں گواہ یعنی معافیہ بی بی اور اسما بی بی کے دفعہ 161 کے تحت دیے گئے بیان اور جرح کے دوران دیے گئے بیانات میں فرق پایا گیا۔ کہیں انہوں نے بتایا کہ آسیہ مسیح نے ایک ہزار لوگوں کے سامنے اقبال جرم کیا اور کہیں یہ ذکر حذف کر دیا۔اسی طرح جائے وقوعہ کے بارے میں بیانات تبدیل ہوتے رہے۔ اسی طرح مدعی قاری محمد سلام نے بھی اپنے بیانات میں ردوبدل کیا۔ کہیں بتایا گیا کہ پانچ مرلے کے مکان میں 100 لوگ جمع تھے، کہیں یہ تعداد 1000 بتائی گئی کہیں 200۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ ان سارے بیانات سے اس کہانی میں جو شکوک پیدا ہوتے ہیں ان میں یہ طے نہیں ہو سکا کہ اس واقعے کے بارے میں مدعی کو اطلاع کس نے دی؟۔آسیہ مسیح کے اقبال جرم کے وقت وہاں کون کون موجود تھا؟۔یہ عوامی اجتماع جس میں آسیہ مسیح نے مبینہ اقبال جرم کیا، کہاں وقوع پذیر ہوا اور اس وقت کتنے لوگ موجود تھے؟۔اجتماع گاہ جائے وقوعہ سے کتنی دور تھی اور آسیہ مسیح کو وہاں تک کون لے کر گیا؟عدالت نے کہا ہے کہ یہ تضادات استغاثہ کی جانب سے بتائے گئے حقائق کی صداقت پر شک پیدا کرتے ہیں اور اصول اور قانون کی رو سے اس شک کا فائدہ اپیل کنندہ کو لازماً پہنچنا چاہیے۔ عدالت نے کہا ہے کہ استغاثہ نے گواہوں کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ آسیہ مسیح نے ایک مجمعے کے سامنے تسلیم کیا کہ اس نے پیغمبر اسلام کے بارے میں نازیبا الفاظ ادا کیے ہیں جبکہ اپیل کنندہ نے دفعہ 342کے تحت دیے گئے بیان میں اس مبینہ بیان کی تردید کی اور یہ بھی کہا کہ اس نے توہین آمیز الفاظ ادا نہیں کیے تھے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے آسیہ مسیح کے مجمعے کے سامنے اقبال جرم کے بارے میں گواہوں کی شہادت پر انحصار کیا ہے جبکہ موجودہ عدالت اس اقبال جرم کو اہمیت نہیں دے سکتی کیونکہ اس کے بارے میں گواہوں نے یہ تفصیل نہیں بتائی کہ یہ اقبال جرم کس وقت، کہاں اور کس طرح کیا۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ عدالت سے باہر کیا گیا اقبال جرم ایک کمزور شہادت ہے جسے ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ آسیہمسیح کا اس مقدمے کی چشم دید گواہ خواتین کے ساتھ پانی نہ پلانے کے معاملے پر جھگڑا ہوا تھا جو ملزمہ کے خلاف اس مقدمے کی اصل وجہ بنا۔جبکہ تیسرے گواہ جو اس کھیت کا مالک ہے جس میں جھگڑا ہوا، نے ٹرائل کورٹ کو بتایا کہ اس نے حقائق جاننے کی کوشش کی تو اسے صرف یہ ہی معلوم ہوا کہ ملزمہ اور گواہوں کے درمیان پانی پلانے کے معاملے پر جھگڑا ہوا تھا۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ملزمہ اور گواہوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا اس لیے موقع پر ملزمہ اور ان گواہوں کی موجودگی توہین رسالت کا جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ تفصیلی فیصلے میں لکھا ہے اس کے علاوہ اس جگہ پر تیس سے پینتیس خواتین موجود تھیں جو اس معاملے میں گواہی کے لیے سامنے نہیں آئیں اور ایک تیسری گواہ بھی بعد میں مقدمے سے الگ ہو گئیں۔ محمد ادریس نے بھی توہین آمیز الفاظ نہیں سنے۔ یہ سب استغاثہ کی کہانی کے متعلق شکوک پیدا کرتا ہے۔عدالت نے جن نکات پر فیصلہ دیا اس حوالے سے اتناہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کا جذبات کی بجائے ٹھنڈے دل سے جائزہ لیا جائے ۔ اس تمام صورتحال میں تشویشناک امر یہ ہے کہ یہ صورتحال ملک میںسخت بے چینی اور بدامنی کا باعث بن رہی ہے ۔ احتجاج کے باعث خود مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہورہی ہے۔ اس ضمن میں گزارش یہی کی جا سکتی ہے کہ جذبات کا اظہار اس انداز سے کیا جائے کہ دوسرے مسلمان متاثر نہ ہوں اور ملک وقوم کا نقصان نہ ہو۔

متعلقہ خبریں