Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

مولانا مفتی عزیزالرحمنؒ متوفی1347ھ دارالعلوم دیوبند کے سب سے پہلے باضابطہ مفتی تھے ، آپ کے دل پر فکر آخرت کے تسلط کا یہ عالم تھا کہ تفسیر جلالین شریف کے درس میں ایک دن خود ہی یہ واقعہ ارشاد فرمایا کہ میں ایک شب سونے کے لیے لیٹا تو اچانک قلب میں درد ہوا کہ قرآن کریم نے یہ دعویٰ فرمایا ہے کہ’’انسان کے کام اسی کی سعی آئے گی‘‘ اس کا واضح مطلب یہ نکلتا ہے کہ آخرت میں کسی کے لیے غیر کی سعی کا ر آمد نہ ہوگی اور حدیث نبویؐ میں ایصال ثواب کی ترغیب آئی ہے ، جس سے تخفیف عذاب ، رفع عقاب اور ترقی درجات کی صورتیں ممکن بتلائی گئی ہیں ۔ نیز شفاعت انبیاء، شفاعت حفاظ وشہداء سے رفع عذاب،نجات اور ترقی درجات کا وعدہ دیا گیا ہے، جس سے تو صاف اور نمایاں ہے کہ آخرت میںغیر کی سعی بھی کار آمد ہوگی۔ پس یہ آیت وروایت میںکھلا تعارض ہے ، فرمایا کہ اس کا حل سوچتا رہا ، مگر ذہن میں نہ آیا ، بالآخر سوچتے سوچتے یہ خوف قلب پر طاری ہوا کہ جب آیت وروایت میں یہ تعارض ذہن میں جا گزیں ہے اور حل ذہن میں نہیں ہے تو گویا اس آیت پر میرا ایمان سست اور مضمحل ہے اور اگر اس حالت میں موت آگئی تو میں قرآن کی ایک آیت میں خلجان اور ریب(شک) کی سی کیفیت لے کر جائوں گا اور ایسی حالت کے ساتھ حق تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گا کہ قرآن کے ایک حصے پر میرا ایمان سست اور مضحمل ہوگا تو میر اانجام کیا ہوگا؟ اس دھیان کے آتے ہی فکر آخرت اس شدت سے دامن گیر ہوئی کہ میں اس چار پائی سے اٹھ کھڑا ہوا اور سیدھا گنگوہ کی راہ لی ۔ مقصد یہ تھا کہ راتوں رات گنگوہ پہنچ کر حضرت علامہ رشید احمد گنگوہیؒ سے یہ اشکال حل کروں گا تاکہ میرا ایمان صحیح ہو اور حسن خاتمہ کی توقع ہو ۔حالانکہ آپ پیدل چلنے کے عادی نہ تھے اور وہ بھی گنگوہ جیسے لمبے سفر کے لیے جو دیوبند سے بائیس کوس کے فاصلے پر ہے ، یعنی تقریباً تیس میل اور وہ بھی رات کے وقت ، لیکن جب کہ خوف آخرت نفس کا حال بن چکا تھا تو اس میں وساوس کی کہاں گنجائش تھی، اس جذبہ سے عزم پیدا ہوا، صبح صادق سے پہلے گنگوہ پہنچے ۔ حضرت مفتی اعظم نے سلام کیا ، فرمایا کہ کون؟عرض کیا کہ عزیزالرحمن ، فرمایا تم اس وقت کہاں؟ عرض کیا کہ حضرت ایک علمی اشکال لے کر حاضر ہوا ہوں ، جس میں مبتلا ہوں آپ نے ساری صورتحال بتادی۔ حضرت نے وضو کرتے ہوئے برجستہ فرمایاکہ آیت میں سعی ایمانی مراد ہے ، جو آخرت میں غیر کے کار آمد نہیں ہوسکتی کہ ایمان تو کسی کا ہو اور نجات کسی کو ہو جائے ، ایسا نہیں ہو سکتا اور حدیث میں سعی عملی مراد ہے ، جو ایک دوسرے کے کام آسکتی ہے ، اس لیے کوئی تعارض نہیں ۔ فرمایا کہ ایک دم میری آنکھ کھل گئی ،جیسے کوئی پردہ آنکھ کے سامنے سے اٹھ گیا ہو اور علم کا ایک عظیم دروازہ کھل گیا۔فکر آخرت نے اتنے بے چین کر دیا کہ وقت ضائع کئے بغیر اس الجھن سے نکلے کیلئے روانہ ہوئے۔ (سنہرے واقعات)

متعلقہ خبریں