Daily Mashriq


ایک بار پھر احتجاج اور دھرنے

ایک بار پھر احتجاج اور دھرنے

ایک اور احتجاج اور دھرنا ملک میں جگہ جگہ برپا ہے۔ یہ احتجاج سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ہو رہا ہے جس میں عدالت عظمیٰ نے آسیہ مسیح نامی ایک عیسائی خاتون کو توہینِ رسالت کے الزام سے بری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے سزائے موت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے۔ یہ فیصلہ 8اکتوبر کو محفوظ کیا گیا تھا اور 31اکتوبر کو سنایا گیا اس 34صفحات کے فیصلے کا مکمل متن جاری کر دیا گیا ہے جو بعض اخبارات نے شائع بھی کیا ہے۔ واقعہ آٹھ سال پہلے کا ہے جب کہا جاتا ہے کہ ایک گاؤں میں خواتین کے ایک گلاس پانی پر جھگڑے کے دوران ملزمہ نے مبینہ طور پر جرم کا ارتکاب کیا ۔سپریم کورٹ میں لاہور ہائی کورٹ کے سزائے موت کے فیصلہ کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران بھی اس معاملے پر تبصرے کیے جاتے رہے ہیں کہ بعض طاقتیں ملزمہ کی رہائی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں۔ عین ممکن ہے کہ ایسے بیانات اور ایسا تاثر سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی ملک بھر میں احتجاج اور دھرنوں کا باعث بنا ہو۔ تاہم ان دھرنوں کی وجہ سے عام لوگوں کے لیے مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ متعدد سڑکیں بند ہوگئی ہیں ۔ جگہ جگہ پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہے۔ دھرنے اور احتجاج کرنے والے اپنی جگہ پرجوش ہیں بلکہ غیظ و غضب کی حالت میں نظر آتے ہیں۔ خواہ ان میں شامل لوگوںکی ایک بڑی تعداد معاملے کی اصل نوعیت سے واقف ہے‘ خواہ نہیں ہے۔ پاکستان۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ ایک اسلامی ملک ہے۔پاکستان کا آئین جمہوری طریقے سے وجود میں آیا اور اس کی منظوری قانون ساز اسمبلی نے متفقہ طور پر دی تھی۔ اس اسمبلی میں مذہبی جماعتوں کے نمائندے بھی تھے جو آج بھی سب کے لیے قابلِ احترام سمجھے جاتے ہیں۔ اقلیتوںکی نمائندگی بھی اس اسمبلی میں تھی اور اس میں ایسی سیاسی جماعتیں بھی شامل تھیں جو پاکستان کے عوام کی بھاری اکثریت کی نمائندہ ہونے کے باوجود اپنے نام کے ساتھ مذہب کا نام شامل نہیں کرتی تھیں۔ اس متفقہ طور پر منظور کردہ آئین میںاقلیتوں کے حقوق اور انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ پھر جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں پاکستان کے تمام قوانین کا جائزہ اس نقطہ نظر سے لیا گیا کہ ان میں سے کوئی قانون اسلامی تعلیمات سے متصادم نہ رہے۔ ریاست پاکستان کے تمام ادارے اس آئین سے اپنا جواز حاصل کرنے میں اور پاکستان کی عدالتیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اسی آئین اور قوانین کے مطابق فیصلے کرتی ہیں اور عدل تقاضوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ لہٰذا کسی عدالت کے یا سپریم کورٹ کے کسی فیصلے کو تقاضائے دین سے متصادم شمار نہیںکیا جا سکتا اور نہ ہی ایسی بات کہی جانی چاہیے کہ یہ توہین عدالت اور توہین آئین کے مترادف سمجھی جا سکتی ہے۔ زیرِ نظر فیصلہ کے نہایت سرسری مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ سپریم کورٹ ‘ لاہور ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلوں کے جائزہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ مقدمہ کے گواہوںمیں آپس میں تضاد ہے ۔ اور استغاثہ اپنا مؤقف ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ یہ ہے کہ کمزور شہادتوں کی بنا پر دی گئی سزا کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ اس سے عدل کے تقاضے پورے نہیںہوتے۔فاضل عدالت کا یہ جملہ قابلِ غور ہے کہ توہین رسالت کے معاملہ میںجھوٹ بولنا یعنی جھوٹی گواہی دینا خود توہین رسالت ہے۔ اس نکتہ پر صدق دل سے غور کیا جاناچاہیے۔ اس بات پر بھی غور کیا جانا چاہیے کہ ایک ملعون توہین رسالت پر مبنی کارٹون شائع کرتا ہے ۔ اس کا مقصد عالم اسلام میں اضطراب پیدا کرنا ہوتا ہے اور اس کے بعد اس کا سارا کام عالم اسلام کرنے لگتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران مسلمان ممالک میں بے شمار ایسے احتجاج ہو چکے ہیں جن میں تشدد بھی ہوا اور بہت سے بے گناہ خلوص دل والے مسلمان شہید بھی ہوئے ۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ ایسی حرکتوں کے مقاصد سیاسی ہوتے ہیں۔ ایسی حرکتوںکا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ یورپ کے بے راہرو معاشرے سے تنگ آ کر وہاں کے جو لوگ اسلام کی اعلیٰ اقدار پر مبنی تعلیمات کی طرف رجوع کرتے ہیںانہیں اسلام قبول کرنے سے روکا جائے۔ ایسی حرکتوں سے مسلمانوں میں اشتعال پھیلا کر اس مشتعل رویے کو اسلام کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ اگر تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ ایسی حرکتوں سے پہلے امریکہ اور یورپ میں جتنے لوگ اسلام قبول کر رہے تھے اب ان کی تعداد حالیہ برسوںمیںکم ہو گئی ہے۔ اس معاملے پر سارے عالم اسلام کے اکابرین کو غور کرنے کی ضرورت ہے جس میں ایسی راہ نکالی جائے جس سے اسلام کے دشمن مسلمانوں کے دلوں میں رسول پاکؐ کی بے پناہ محبت کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔ آج جو لوگ دھرنا دے رہے ہیں ان کا مقصد ہر گز یہ نہیں شمار کیا جا سکتا کہ ملک میں توڑ پھوڑ ہو اور لاشیں گریں۔ وہ محض اپنے پرخلوص جذبات کا اظہار کر رہے ہیں لیکن اس جذبے کوفہمیدہ اور شعوری رویے میںمنتقل ہونا چاہیے۔ اگر کسی کے نزدیک سپریم کورٹ کے فیصلے میںکوئی کمی ہے تو وہ اس پر نظرثانی کی درخواست دے سکتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے دھرنا دینے والوں کو ریاست کی طاقت کی دھمکی دے کر ناسمجھی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہیں دھرنے والوںکو سیاسی مقاصد کا طعنہ نہیں دینا چاہیے تھا۔ دھرنے میںہزاروں بلکہ لاکھوں نیک دل اور پرخلوص مسلمان شامل ہوں گے جنکے کوئی سیاسی مقاصد نہیںہوں گے۔ فرض کیجئے ان کی دھمکی کام کر جاتی ہے تو کیا اس کامطلب یہ ہو گا کہ مسلمان طاقت کے استعمال کی دھمکی سے سے مرعوب ہو کر توہین رسالت کے خلاف احتجاج ختم کر دیتے ہیں۔ اگر وزیراعظم کے اس بیان سے اشتعال پھیلتا ہے تو سب کو معلوم ہے کہ مسلمان اس سوال پر مرنے مارنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ اگر وہ ریاستی طاقت سے ٹکرا جاتے ہیں تو نقصان کس کا ہو گا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا۔

متعلقہ خبریں