Daily Mashriq

دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہرہونے تک

دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہرہونے تک

سکول کے زمانے میں ہم حساب کے مضمون میں طاق تو نہیں تھے لیکن اتنے کمزور بھی نہ تھے ، پھر بھی یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آرہی ہے اس لئے اگر کوئی زیادہ سیانا ہماری مدد کر سکے تو ہم اس کی شکر گزاری میں بخل سے کام ہر گز نہیں لیں گے۔ اب وہ مسئلہ بھی سن لیجئے جس نے ہمیں تھوڑا سا متذبذب کررکھا ہے ، یعنی یہ جو مولانا فضل الرحمن مد ظلہ نے کہا ہے کہ حکومت کیلئے 6ماہ بہت ہیں ، یہ 3ماہ میںگر جائے گی۔ اس سے پہلے خود حکومت نے اپنے لئے سو دن یعنی 3ماہ دس دن کی مہلت طلب کی تھی اور اب تک اس میں تقریباً2 ماہ تو گزر چکے ہیں ، تو ذراکوئی حساب کتاب لگا کر وضاحت کردے کہ اس کلیئے کے مطابق جو مولانا فضل الرحمن نے پیش کیا ہے ، حکومت کے مزید کتنے دن رہ گئے ہیں یعنی اگر حکومت کے اپنے ہی تین ماہ سے وقت کا تعین کیا جائے تو کیا مزید صرف ایک ماہ دس دن، یا پھر جو دوماہ حکومت نے گزار لئے ہیں اس کے بعد کے تین ماہ میں حکوگرنے کی پیشگوئی کو ذہن میں بٹھا لیا جائے جن میں حکومت کو گرنا ہے ، اس کے بعد مولانا موصوف نے جو چھ ماہ کی بات کی ہے تو اسے کس کھاتے میں رکھ دینا چاہیئے ، یوں خود حکومت کے اپنے لیئے مقرر کردہ سودن یا تین ماہ کے بعد بقول مولانا موصوف مزید تین ماہ کا عرصہ تو چھ ماہ بن جاتا ہے اور اگر ان کے دئیے ہوئے چھ ماہ بہت ہیں کو ذہن میں رکھا جائے تو پھر مزید تین ماہ درکار ہوں گے یوںکل ملا کر 9ماہ بن جاتے ہیں اور اگر اب تک حکومت کے نکالے گئے دوماہ کو بھی شامل کرلیا جائے تو پھر گیارہ ماہ کا عرصہ بن جائے گا، تو یہ سارا طلسم آخر ہے کیا؟ ہم تو خاصے کنفیوزڈ ہیں ، اس لئے اگر کوئی درست حساب کتاب کرکے ہماری رہنمائی کرے تو ہم ان کیلئے دعا کرنے میں ذرا سابخل سے کام نہ لیں گے ۔ اس سے پہلے حکومت کے گرنے کی اس قسم کی پیشگوئیاں سابقہ یعنی لیگ(ن)حکومت کے دور میں بھی کی جاتی تھیں ، مگر ایک ٹارگٹ ڈیٹ گزر جاتی تو نئی تاریخ دے دی جاتی ، تاریخیں دیتے دیتے یار لوگ تھک گئے تھے مگر حکومت نے اپنی مدت پوری کر ہی لی ، اگرچہ حکومت تو نہیں البتہ نوازشریف بطور وزیراعظم ضرور گر گئے اور ابھی تک اٹھ نہیں سکے ، اور عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں ، عدالت عظمیٰ نے ان کے گلے میں تاحیات نااہلی کا طوق ڈال کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بٹھا دیا ہے ، جبکہ وزیراعظم اپوزیشن رہنمائوں کو این آر او کے طعنوں سے چھلنی کر رہے ہیں ، این آر او کون مانگ رہا ہے ، کیوں مانگ رہا ہے ، کب اس قسم کی درخواست کی گئی ہے ، کس کے ذریعے کی گئی ہے ، پہلے اس حوالے سے بڑے میاں نے بیان دے کر وضاحت مانگی جس کے بعد لیگ (ن) کے رہنمائوں نے انہی مطالبات کو قوال پارٹی کے ہمنوائوں کی طرح اہے وا، اہے وا کی طرح دہرانا شروع کیا ، اور گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے این آر او پر لعنت بھیجتے ہوئے وزیراعظم کو چیلنج کردیا اور ایوان کو گواہ بناتے ہوئے کہا کہ یا تو وزیراعظم اپنے الفاظ کی لاج رکھتے ہوئے بتادیں کہ این آر او کس نے مانگا، اور یہ الزامات ثابت نہ کرسکیں تو معافی مانگیں ، انہوں نے این آر او کے الزامات سچ ثابت ہونے پر ہمیشہ کیلئے سیاست چھوڑنے کی بھی بات کی۔ گویا شہباز شریف نے دھوپی پلٹا مارتے ہوئے وزیراعظم کو الٹی زقند مارنے پر اعلان کردیا ہے اور عین ممکن ہے کہ وزیراعظم ایک بار پھر یوٹرن لینے کے بارے سوچنے پر مجبور ہوجائیں ۔ تو دیکھتے ہیں کہ وزیراعظم کونسا نیا بیانیہ لا کر اس صورتحال سے نبرد آزما ہوتے ہیں یعنی

دام ہر موج میں ہے حلقہ صد کام نہنگ

دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک

الزامات اور جوابات کے ہنگام پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ اور سابق صدرآصف علی زرداری کی حالت دیدنی ہے جن کے بارے میں کچھ بھی اچھانہیں ہے کہ خبریں تیزی سے گردش کررہی ہیںیہاں تک کہ ان کی ایک بار پھر گرفتاری کی اطلاعات نے ملکی سیاسی فضا میں ارتعاش پیدا کررکھا ہے۔ بعض تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مختلف حوالوں سے ان سے جو کام لیا جانا مقصود تھا وہ پایہ تکمیل تک پہنچ چکا ہے اور اب جو خطرات سامنے دکھائی دے رہے ہیں ان میں مولانا فضل الرحمن کی اے پی سی سے آصف علی زرداری کو دور رکھنے کی حکمت عملی کے پیش نظر نیب کو مبینہ طور پر متحرک کر دیا گیا ہے ، جس کے بعد لیگ(ن) کے دونوں بڑوں کی طرح انہوں نے بھی اے پی سی میں (جواب ملتوی کردی گئی)سربراہان کی سطح پر شرکت سے انکارکر دیا گیا ، میاں صاحبان نے تو مولانا فضل الرحمن کو عدم شرکت کی جو وجوہات بتائی ہیں وہ ان کے گلے شکوے ہیں جن کے بارے میں میڈیا پر اطلاعات سامنے آچکی ہیں ۔ تاہم آصف علی زرداری نے تو اب وزیراعظم کے ساتھ چلنے اور عمران خان کو اگلے پانچ سال تک آرام سے حکومت کر نے کی پیشکش بھی کر دی ہے تاہم ساتھ ہی اس’’تعاون‘‘ کو یہ کہہ کر تڑکا لگا دیا ہے کہ انصاف کے ساتھ چلو اور زیادتی نہ کرو، اس لئے آگے بڑھنے کیلئے مذاکرات ضروری ہیں، سو اب دیکھنا ہوگا کہ آنے والے دنوں میں عمران خان اس پیشکش کا کیا جواب دیتے ہیں ، یہ الگ بات ہے کہ لاہور کے ایک جنتری مرتب کر کے مستقبل کے بارے میں پیشگوئیاںکرنے والے نے آصف زرداری کیلئے آنے والے دنوں میں تشویشناک صورتحال کی اطلاعات فیس بک پر وائرل کروادی ہیں ، گویا ان حالات کے بطن سے برآمد ہونے والی صورتحال میں مولانافضل الرحمن کی 3اور 6ماہ والی پیشگوئیوں کی اہمیت ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ بقول نذیر قیصر

سبھی مہرے ہٹائے جا چکے ہیں

بساط حکمرانی رہ گئی ہے

متعلقہ خبریں