Daily Mashriq


حکومت کے پنگے‘ آخر کیوں؟

حکومت کے پنگے‘ آخر کیوں؟

پی ٹی آئی کی انتخابی مہم سے لے کر آج تک دو بڑی سیاسی جماعتوں اور ایک مذہبی سیاسی جماعت کے ساتھ جو کشمکش جاری ہے وہ روز بروز بڑھ رہی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران عمران خان نے جوش خطابت اور انتخابات جیتنے کی غرض سے عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لئے جو وعدے کئے ان میں سے بعض کو روایتی سبز باغ ہی کے ذیل میں شمار کیا جاسکتا ہے اور بعض پر عمل درآمد کے لئے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے لیکن بعض وعدے ایسے ہیں جو بہت غیر منطقی یعنی اس پر عمل درآمد یا اس کا نصف بھی پایہ تکمیل تک پہنچانا مشکل نہیں‘ نا ممکن نظر آرہا ہے۔ مثلاً پانچ برسوں (اگر حریف سیاسی جماعتوں نے پانچ برسوں تک صبر کرکے موقع دیا تو) میں ایک کروڑ لوگوں کو روز گار مہیا کرنا ایک ایسا وعدہ ہے جو چھچھوندر کی مانند دکھائی دیتا ہے کہ نہ نگلا جائے اور نہ اُگلا جائے۔ یہی حال پچاس لاکھ گھروں کا ہے۔لیکن معاشی بد حالی کے سبب یہ بڑے منصوبے تو ایک طرف۔ گزشتہ ستر دنوں میں جو نان ایشوز‘ ایشوز کی صورت میں پی ٹی آئی گورنمنٹ نے خود پیدا کئے ہیں وہ منزل کی طرف ان کے سفر کی راہ میں رکاوٹیں حائل کر رہے ہیں۔ پنجاب پولیس کے آئی جی کا معاملہ ہو یا اس کے نتیجے میں سابق آئی جی ناصر درانی کے استعفیٰ کا‘ ڈی پی او پاک پتن کے تبادلے کا مسئلہ ہو یا اب اعظم سواتی کی انا کی تسکین کے نتیجے میں ایک گائے بمقابلہ موجودہ حکومت کا معاملہ‘ سب کے سب مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کے لئے حکومت پر تنقید کرنے کے آسان مواقع فراہم کرنے کے علاوہ عوام بالخصوص پی ٹی آئی کے ہمدردوں کے دلوں میں بھی تذبذب پیدا کرنے کا سبب بنے ہیں۔قومی اور پنجاب کی صوبائی اسمبلیوں میں بعض وزراء اور بالخصوص وزیر اطلاعات کی اپوزیشن میں سے بعض اراکین پر بغیر کسی ٹھوس ثبوت و دلیل کے اعتراضات و تنقید اور ایسے الفاظ کا استعمال کہ اس سے بہتر ایسے الفاظ موجود ہوتے ہیں جن کی کاٹ بھی تیز ہوتی ہے اور بیک بائونس بھی نہیں ہوتے۔جب اپوزیشن احتجاج کرکے اسمبلی سے واک آئوٹ کرلیتی ہے اور حکومتی بنچوں کے بزرگ اور اہم افراد ان کو منانے اور اسمبلی میں لانے کے لئے ترلے اور منتیں کرتے ہیں اور پھر معافیاں مانگ کر حکومت کو شرمسار ہونے پر مجبور کرلیتے ہیں۔ عمران خان بے شک کسی کو این آر او نہ دیں‘ بے شک جرم ثابت ہونے پر سزا دلوائیں۔ لیکن اسمبلی کے فلور پر یا قوم سے خطاب کے دوران گفتگو کا لہجہ بہر حال ایسا ہونا چاہئے کہ کوئی الفاظ کی ہیرا پھیری کے ساتھ اس کو حکومت کے خلاف استعمال تو نہ کرسکے۔ وزیر اعظم عمران خان نے بجا کہا ہے کہ اپوزیشن کے بڑے بڑے سیاستدانوں کے خلاف جو مقدمات نیب وغیرہ میں چل رہے ہیں اس میں موجودہ حکومت کا کوئی ہاتھ ہی نہیں اور نیب کا چیئر مین بھی گزشتہ حکومت اور اپوزیشن کا متفقہ طور پر متعین کردہ فرد ہے۔ لیکن حکومت پر نیب کے اپوزیشن کے خلاف استعمال کرنے کے جو الزامات عائد کئے جا رہے ہیں اس کا بروقت اور بر جستہ جواب نہیں دیا جاتا جس کی بناء پر عوام کے دلوں میں اپوزیشن کے ڈس انفارمیشن کی وجہ سے شکوک و شبہات سر ضرور اٹھاتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس قسم کے پنگے لینے سے گریز کرے اور اپنی بھرپور توجہ دو باتوں پر دے۔ ایک یہ کہ عوام کے ساتھ سو دن کی کارکردگی کے جو وعدے ہوئے ہیں ان کے ایفاء کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے۔ پچاس فیصد وعدے بھی پورے ہوئے تو عوام مطمئن ہو جائیں گے۔ عوام کو بہترین حکمرانی کے جوہر دکھانے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت اپوزیشن اور حکومتی اداروں کے کلیدی مناصب پر فائز ان لوگوں سے جو دو بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کے طفیل ان بلند عہدوں پر پہنچے ہیں اور آج بھی اپنے ’’آقائوں‘‘ کے مفادات کے تحفظ کے لئے حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تصادم اور ٹکرائو سے گریز کرتے ہوئے حکمت کے ساتھ ان لوگوں کو آگے لائیں جو میرٹ اور دیانتداری کے سبب گزشتہ حکومتوں میں کھڈے لائن لگائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر جانبدار اور غیر سیاسی افسروں کو اعتماد دلا کر ملک و قوم کی خدمت کا موقع دیں۔پی ٹی آئی حکومت یعنی عمران خان اور وزراء با تدبیر کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ اگر بعض اداروں کے افراد اور سر براہان کی اصلاح ضروری ہو تو قانون کی کڑی پاسداری کے ساتھ ان کو پہلے مرحلے میں فہمائش‘ دوسرے میں وارننگ اور تیسرے میں قانونی تادیب سے گزارا جائے۔اس وقت حکومت نے بہت زیادہ محاذ کھول رکھے ہیں۔ دانا لیڈر تصادم اور ٹکرائو سے حتی الوسع گریز کرتے ہیں۔ لیکن اگر کہیں نا گزیر ہو جائے تو بیک کئی محاذ کھولنے کے بجائے مرحلہ و ار اور بتدریج ایک ایک محاذ کھولتے ہوئے اصلاح کرتے ہیں ورنہ خدشہ اور خوف لاحق ہوتا ہے کہ کہیں متعین دور محدود مدت مخالفین کے ساتھ اپوزیشن ہی میں کٹ کر نہ رہ جائے۔

متعلقہ خبریں