Daily Mashriq


وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب نہیں تھے

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب نہیں تھے

پرانے اور سیانے لوگ یہ بات دہرا دہرا کر کہتے آئے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ اور جو بات دہرا دہرا کر کی جاتی رہے اور سینہ بہ سینہ سفر کرکے نسل در نسل منتقل ہوتی رہے اسے ضرب المثل یا محاورہ کہتے ہیں۔ ضرب الامثال یا محاوروں میں سچائی کا عنصر بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے اور اسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ کم و بیش سو فی صد سچ ثابت ہوتی ہیں ایسی باتیں۔ جھٹلانے کے علاوہ ایسی باتوں کو آئندہ نسل تک پہنچانے سے روکا یا مٹایا بھی نہیں جاسکتا اس لئے انہیں پتھر پر کھنچی ہوئی لکیروں سے بھی تشبیہ دی جاتی ہے۔ پکی بات بھی کہا جاتا ہے۔ سچی بات بھی کہتے ہیں ، سانچ کو آنچ نہیں۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ چور کی داڑھی میں تنکا۔ چور مچائے شور، جیسے جملے ضرب الامثال کے رتبے پہ فائز رہنے والی باتیں ہیں اور ایسی سینکڑوں ہی نہیں ہزاروں باتیں ہیں جو پتھر پر کھنچی لکیر جیسی ہونے کی وجہ سے نسل در نسل چل کر ہم آپ تک پہنچی ہیں۔ ہمیں اسکول کے زمانے کی کتابوں میں یہ بات پڑھائی گئی تھی کہ اب تک دنیا میں جتنی ایجادات ہوئی ہیں ان میں’ پہیہ ‘ سر فہرست ہے جس کو دنیا کی سب سے بڑی ایجاد کہا گیا ہے کیونکہ جب سے گول گول چلنے والا پہیہ وجود میں آیا انسانی زندگی کے بہت سے کام آسان ہوگئے ہیں۔ اہرام مصر کی تعمیر کے دوران پہیہ ہی کی مدد سے پہاڑ جتنے بڑے بڑے پتھر ایک جگہ سے دوسری جگہ لڑھکائے جاتے رہے۔ پہلے پہل حضرت انسان سدھائے ہوئے گھوڑوں، ہاتھیوں اور اس قبیل کے دیگر جانوروں کی پیٹھ پر سوار ہوکر ایک مقام سے دوسرے مقام تک برق رفتاری سے پہنچ جا تا تھا ۔ لیکن پہیہ کی ایجاد نے رتھ اور بگھی جیسی سواری کو رواج دیا جو ایک یا ایک سے زیادہ گھوڑوں کی مدد سے بڑی آسانی سے کھینچے جانے لگی اور یوں نہایت آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا یا برد باری کرنا آسان سے آسان تر ہونے لگا۔ رتھ اور بگھی سے شروع ہونے والی پہیے کی کہانی بہت سی منزلیں طے کرتی ، ریل گاڑی ، موٹر کار اور ہوائی جہاز تک جاپہنچی ، پہیہ کی مدد سے صنعتی انقلاب کی راہیں کھلیں اور یوں ہاتھ سے بنائی جانے والی اشیاء پہیہ کی مدد سے چلنے والی مشینوں سے قدرے آسانی سے اور زیادہ مقدار میں تیار ہونے لگیں۔ گھومنے کے عمل کو سائیکل کہا جاتا ہے۔ اس لئے پہئے کے گھماؤکو بھی سائیکل کا نام دیا گیا ۔سائیکل ایک سستی سواری ہونے کی وجہ سے ہر دور میں مقبول رہی۔ اگر تین پہیوں والی سائیکل کو ٹرائیسائیکل کہا گیا تو دو پہیوں والی سائیکل کو بائی سائیکل کہہ کر پکارا گیا۔ سائیکل کے بعد موٹر سائیکل معرض وجود میں آیا ۔ پرانے زمانے کے لوگ موٹر سائکل کو فٹ فٹا کہتے تھے۔ شاید اس لئے کہ اگر کوئی جہاں جانا چاہے یہ اسے فٹا فٹ پہنچا دیتا تھا۔ دوم اس سواری کو فٹ فٹا اس لئے بھی کہتے تھے کہ جب یہ چلتا تو فٹا فٹ فٹا فٹ جیسی آوازیں نکالتا۔ آوازوں کو وجہ تسمیہ بنانے والے لوگ اسے فٹ فٹا کے علاوہ ’ڈگڈگا‘ بھی کہا کرتے تھے۔ لیکن آج کل اسے بائیک کے نام سے پکارا جاتا ہے ، وہ جو کسی نے ہر چلتی کا نام گاڑی ہے کہہ کر موٹر سائیکل اور گاڑیوں کی ذیل میں شامل کردیا ، ہم اس سواری کو سکہ رائج الوقت کی طرح اپنے شہروں اور دیہاتوں کی سڑکوں پر دندناتا دیکھ کر پکار اٹھتے ہیں کہ آبادی انسانوں کی نہیں بڑھ رہی، فٹ فٹ اور ڈگ ڈگ کرتے موٹر سا ئیکلوں کی تعداد میں دھڑ ا دھڑااضافہ ہورہا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے بہت پیارے اور غربت مارے ملک کی سڑکوں پر ٹریفک جام کرنے والی آٹو موبائل گاڑیوں کی قطاروں کی قطاریں گھنٹوں ٹریفک کھلنے کے انتظار میں کھڑی رہتی ہیں ، پر موٹر سائیکل یا بائیک نامی دو پہیوں کی سواری میں یہ کمال ہے کہ یہ جام ٹریفک کی صفوں کی صفیں چیر کر جام ٹریفک کا عذاب سہنے والی گاڑیوں پر قہقہوں کی بارش برساتی نکل جاتی ہے ، اس دن ہم ریڈیوپاکستان پشاور میں لائیو پروگرام کر کے ضلع پشاور کی حدود کو پار کرکے اپنے فٹ فٹ کرتے اکلوتے موٹر سائیکل پر سوار ضلع نوشہرہ کی حدود میں داخل ہونا چاہتے تھے ، ابھی دلہ زاک روڈ پر ہی تھے کہ ہمیں ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا، کسی کی کیا مجال جو ہمارے سامنے آئے ، بڑا زعم تھا ہمیں اپنی موٹر بائیک پر ، ہم نے ٹریفک کے قوانین کے احترام کو بالائے طاق رکھ کر جام ٹریفک کی صفیں چیرنا شروع کردیں ، ہمارے سامنے سے آتی ایک گاڑی نے ہمیں ایسی ٹکر ماری کہ ہماری بائیک اگر لڑھک کر ایک جانب گری تو ہم لڑھکتے لڑھکتے ایسی جگہ جا گرے جہاں ہمارے چودہ کے چودہ روشن طبق گھپ اندھیروں میں ڈوب کر رہ گئے ، جب ہوش ٹھکانے آئے تو ہم نے اپنے ارد گر د گروہ در گروہ فرشتوں کو کھڑے پایا جو میرے وجود کے ایک ایک انگ کو دبا کر پوچھ رہے تھے کہیں چوٹ تو نہیں آئی بابا ،بڑا غصہ آتا ہے اگر مجھے کوئی باباکہہ کر پکارے ، لیکن ہم اسے کڑوی دوائی سمجھ کر پی گئے ، لیکن اس وقت غصہ پہ ہر گز قابو نہ پاسکے جب اپنی جیب سے اپنے اکلوتے بٹوے کو غائب پاکر کاسہ سر کو پیٹ پیٹ کر توڑنے لگے کہ اس کے اندر سے بھوسہ جلنے کی بدبو آرہی تھی، خدار ا مجھے آئندہ ماہ کے لئے بک نہ کیجئے گا ، میں نے ریڈیو پروڈیوسر کو فون کرکے بتایا ، کیوں ؟ انہوں نے وجہ پوچھی جس کے جواب میں انہیں صرف اتنا ہی کہہ سکا کہ چھ سات مہینوں کا اعزازیہ ریڈیو پاکستان پشاور کے ذمہ واجب الادا ہے

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

متعلقہ خبریں