Daily Mashriq


وزیر اعظم کے وعدے اور ہدایات

وزیر اعظم کے وعدے اور ہدایات

100روزہ حکومتی پلان پر عملدرآمد اور دیگر امور پر منعقدہ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے وزراء کو ہدایت کی کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے۔ حکومتی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جائے۔ جائزہ اجلاس میں وزیر اعظم کی ہدایات بجا طور پر درست ہیں البتہ ضروری تھا کہ جناب وزیر اعظم وفاقی محکموں اور اداروں کی پچھلے ایک ماہ کی کار گزاری کے ساتھ مہنگائی کی صورتحال اور ان دوسرے معاملات پر بھی ایک رپورٹ طلب کرتے جن کی وجہ سے عوام پریشان ہیں۔ مثال کے طور پر اتوار کے دن وزیر اعظم عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی ہدایت کر رہے تھے اور اس روز سی این جی کی قیمتوں میں 15روپے فی کلو اضافے کا فیصلہ سامنے آیا۔ اس طرح انتخابی عمل اور حکومت سازی کے مراحل کے درمیان اور حکومتوں کی تشکیل کے بعد سے بجلی اور پٹرولیم کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا جس کی بدولت پیدا ہونے والی مہنگائی کی نئی لہر نے عام آدمی کے مسائل میں اضافہ کردیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ تحریک انصاف اپوزیشن کے دنوں میں بجلی اور پٹرولیم سمیت چند دیگر چیزوں کی قیمتوں کے تعین پر حکومتی کنٹرول کی مخالف تھی اس کے رہنمائوں کا موقف ہوتا تھا کہ حکومت کا کام محض ملکی خزانہ بھرنا نہیں بلکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینا ہوتا ہے۔ پچھلے ایک ماہ کے دوران مختلف شعبوں میں ہوئے اقدامات اور بجلی و گیس اور پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے سے پیدا ہونے والی صورتحال کے تدارک کے لئے موثر اقدامات نہیں کئے گئے۔امر واقعہ یہ ہے کہ وسائل کے مقابلہ میں اخراجات زیادہ ہونے سے صرف ادارے متاثر نہیں ہوتے بلکہ اس سے عام شہری بھی متاثر ہوتا ہے۔ اصولی طور پر حکومت وقت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ پالیسیاں بناتے وقت عمومی صورتحال کو بھی مد نظر رکھے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ عمومی صورتحال کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے اس حوالے سے ایک مثال صوبہ پنجاب میں اینٹیں بنانے والے بھٹوں کو اکتوبر سے دسمبر تک کے 3 ماہ میں بند رکھنے کے حکم کا اجراء ہے۔ اس نادر شاہی حکم کے اجراء کا مقصد تبدیل ہوتے موسم کے ان تین مہینوں کے د وران فضا کو آلودگی سے محفوظ رکھنا ہے تاکہ سموگ کی وجہ سے مسائل پیدا نہ ہوں۔ فیصلہ سازوں نے اس پابندی کے عمومی نقصانات کا بغور جائزہ لینے کی زحمت نہیں کی۔ ہزاروں کی تعداد میں اینٹیں بنانے والے بھٹوں کی تین ماہ کے لئے بندش سے ان بھٹوں پر کام کرنے والے ایک لاکھ افراد بیروزگار ہوں گے۔ سرکاری و نجی تعمیرات متاثر ہوں گی' روز مرہ مزدوری سے زندگی کا بھرم قائم رکھے مزدوروں کی زندگی عذاب بنے گی۔ تعمیرات کے شعبہ سے منسلک دوسرے تمام کاروبار متاثر ہوں گے۔ ایک عام اندازے کے مطابق اس پابندی سے متاثر ہونے والوں کی تعداد کسی بھی طور چھ سات لاکھ سے کم نہیں۔ تین ماہ تک اگر چھ سات لاکھ افراد کا ذریعہ آمدنی ہی کچھ نہیں ہوگا تو ان کے خاندان سنگین مسائل سے دو چار ہوں گے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ بھٹہ خشت کی تین ماہ کے لئے بندش سے صرف پنجاب متاثر نہیں ہوگا بلکہ پنجاب سے ملحقہ آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقے بھی متاثر ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ذمہ دار حکام بھٹہ مالکان کو آلودگی کم کرنے کے لئے اقدامات تجویز کرتے مگر یہاں معاملہ الٹ ہوا۔ اندریں حالات جب وزیر اعظم عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی بات کرتے ہوئے ہدایات دیتے ہیں تو عام شہری سوچنے لگتا ہے کہ کیا وزیر اعظم اپنی حکومت کے نا بغوں کی ان پالیسیوں اور احکامات سے یکسر نا واقف ہیں جو ریلیف کی بجائے مصائب میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں؟ بلاشبہ یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ منفی اثرات سے اپنے لوگوں اور ماحول کو محفوظ رکھنے کے لئے اقدامات کرے لیکن یہ بھی حکومت کا فرض ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ جس تبدیلی اور اصلاح احوال کے ایجنڈے کو روشن دنوں کی نوید قرار دیا جاتا تھا وہ کیا ہوئے۔ 100روزہ حکومتی پلان پر اب تک ہوئے عملدرآمد کی صورتحال کیا ہے کچھ اس حوالے سے بھی عوام کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اہل اقتدار کو سمجھنا ہوگا کہ حکومت کی کارکردگی محض ٹیکس بڑھانے کسی نجے شعبہ پر تین ماہ کے لئے روز گار کے دروازے بند کردینے یا پچھلی حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہراتے رہنے کا نام نہیں' سابقہ حکمران جماعتوں کو اپنی پالیسیوں سے پیدا شدہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ لمحہ موجود کی ضروریات مختلف ہیں۔ تبدیلی کے وعدوں کے ساتھ اقتدار سنبھالنے والی حکومت سے لوگ توقع کرتے تھے کہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ریلیف ملے گا۔ بجا ہے کہ جو مسائل ورثے میں ملے ہیں ان کا علاج بھی حکومت نے ہی کرنا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جن بعض حکومتی فیصلوں سے مہنگائی اور دوسرے مسائل بڑھے ہیں ان کا تدارک کیسے کیاجائے گا۔ فی الوقت تو عوام بجلی' گیس' پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی چاہتے ہیں ان کی خواہش ہے کہ حکومت ہر سطح پر مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کے لئے موثر اقدامات اٹھائے۔ بے روز گاری کے پھیلائو میں کمی کرے تاکہ شہریوں کے گھروں میں دو وقت چولہا جل سکے۔ ہمیں امید ہے کہ وزیر اعظم اپنی حکومت کی کارکردگی کا تواتر کے ساتھ جائزہ لینے کے عمل میں ایک نظر عمومی صورتحال اور عوام کی حالت زار پر بھی ڈال لیا کریں گے تاکہ وہ جان سکیں روز مرہ کے مسائل میں کمی ہوئی ہے یا یہ بڑھ رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں