Daily Mashriq


موجودہ حالات میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے

موجودہ حالات میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کہتے ہیں کہ فوج اور عدلیہ ہمارے پیچھے کھڑے ہیں۔ حکومت اور ادارے ایک ساتھ نہ ہوں تو معاملات میں بہتر ی لانا مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کا مڈل کلاس طبقہ ہماری سیاست کا محور ہے۔ نیک نیتی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ وزیر اطلاعات کی خدمت میں یہ عرض کرنا از بس ضروری ہے کہ حکومت اور ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی بجا طور پر امور مملکت کے لئے ضروری ہے مگر بنیادی طور پر ادارے دستور میں دئیے گئے کردار کی ادائیگی کے پابند ہیں اور انہیں یہ تاثر ہر گز نہیں دینا چاہئے کہ ادارے حکمران جماعت کی پالیسیوں کے ساتھ ہیں۔ دستورمیں حکومت' فوج' عدلیہ اور دیگر اداروں کا کردار و دائرہ اختیار طے شدہ ہے۔ اس طرح دستور ایک عام شہری کے لئے اس کے فرائض طے کرتا ہے تو اس کے حقوق کی نشاندہی کے ساتھ اس امر کو بھی یقینی بناتا ہے کہ شہریوں کو حقوق کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ قومی تعمیر نو' انصاف کی فراہمی اور دیگر امور پر ریاست کے تمام دستوری اداروں میں ہم آہنگی بہت ضروری ہے نا اتفاقی اور دوریوں کے نتائج بھی ہمارے سامنے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے اتوار کے روز لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ماضی میں روا رکھے گئے طرز حکمرانی پر تنقید کرتے ہوئے عام شہریوں کو درپیش مسائل پر بھی اپنے خیالات کااظہار کیا۔ لاریب ایک ترقی پذیر ملک کے اہل اقتدار نے ماضی میں جس طرز حکمرانی اور بھاری بھر کم اخراجات کو رواج دیا وہ کسی بھی طرح درست نہیں تھا۔ اب معاملہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت کو آگے کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایسی پالیسیاں وضع کرنا ہوں گی جن سے نئے حکمران ماضی کے حکمرانوں سے تو قدرے ہی مختلف دکھائی دیں۔ وزیر اعظم ہائوس اور دیگر اداروں کے اخراجات میں کمی خوش آئند بات ہے اصل مسئلہ یہ ہے کہ بعض بنیادی ایشوز سے صرف نظر کیا جا رہا ہے۔ جناب فواد چوہدری کو چاہئے کہ وہ اپنے حکومتی ساتھیوں کی توجہ اس امر کی طرف دلائیں کہ زمانہ اپوزیشن اور دور حکومت کے تقاضے ہی نہیں انداز تکلم بھی مختلف ہوتے ہیں۔ یہ امر باعث مسرت ہوگا اگر نئی حکومت شہریوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے ٹھوس اقدامات کے ساتھ انصاف کی فراہمی' وسائل کی منصفانہ تقسیم کو بھی یقینی بنا سکے۔ سیاسی عمل میں ایک دوسرے پر تنقید ہوتی رہتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ تنقید کرتے وقت سماجی روایات کا احترام اور سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ تمام فریق کریں تاکہ نئے دورکی بنیاد رکھی جاسکے۔

آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے ہیلی کاپٹر پر بھارتی فائرنگ

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جاری بربریت کسی سے مخفی نہیں اور نہ ہی خطے کے لوگ پاک بھارت سرحد اور کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی چیرہ دستیوں سے ناواقف ہیں۔ عددی اور عسکری قوت کے زعم کا شکار بھارتی قیادت مسلسل ایسے اقدامات میں مصروف ہے جس سے عدم توازن اور نفرتوں کو بڑھاوا ملے۔ وزیر خارجہ نے دو دن قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارت کے امن دشمن کردار' پڑوسیوں اور بالخصوص پاکستان سے معاندانہ طرز عمل اپنانے اور مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم سے عالمی برادری کو آگاہ کیا مگر ایسا لگتا ہے کہ بھارت کو علاقائی امن اور دیگر ضرورتوں سے کوئی دلچسپی نہیں اسی لئے مقبوضہ کشمیر پر قابض بھارتی افواج کی جانب سے اتوار کی دوپہر پونچھ سیکٹر میں آزادکشمیر کی حدود میں پرواز کرتے وزیر اعظم آزاد کشمیر کے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایاگیا۔ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم بھارتی فائرنگ کے وقت ہیلی کاپٹرمیں سوار تھے۔ ہیلی کاپٹر کو بحفاظت اتارلیاگیا۔ غور طلب امر یہ ہے کہ ایک سول ہیلی کاپٹر پر کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ سے پیدا شدہ صورتحال پر عالمی ادارے خاموش کیوں ہیں۔ بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں جاری سفاکی و بربریت کی انسانی تاریخ میں بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔ اتوار کو جس طرح آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایاگیا اس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ملی خفت سے بوکھلا کر اب ایسے اقدامات پر اتر آیا ہے جس سے بڑے تصادم کا راستہ کھلے اور مودی سرکار اس ایشو کو لے کر اپنے داخلی مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے ساتھ ساتھ آنے والے مرکزی انتخابات میں ایک بار پھر ہندو توا اور پاکستان سے نفرت بھری انتہا پسندی کا سودا فروخت کرکے بی جے پی کے لئے حکمرانی کی ایک اور مدت حاصل کرسکے۔ اتوار کے افسوسناک واقعہ کا عالمی برادری اوربالخصوص اقوام متحدہ کو کسی تاخیر کے بغیر نوٹس لینا چاہئے۔

متعلقہ خبریں