Daily Mashriq


غزنی کا محاصرہ اور قیامِ امن کا خواب

غزنی کا محاصرہ اور قیامِ امن کا خواب

تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو غزنی شہر کو ہمیشہ سے کابل کا دروازہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں افغان طالبان کی جانب سے غزنی کے محاصرے اور پھر قبضے کے بعد کابل میں خطرے کی گھنٹیاں بجنی شروع ہو گئی ہیں۔ یاد رہے کہ اس محاصرے اور قبضے کے دوران کئی قیمتیں انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ غزنی اور افغانستان کے دیگر علاقوں میں ہونے والی حالیہ خونریزی افغانستان کے حوالے سے امریکی پالیسیوں کی مکمل ناکامی کے ساتھ ساتھ افغان سیکورٹی فورسز کی اہلیت پر بھی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ 2014ء میں جب امریکہ نے افغانستان سے اپنی براہِ راست مداخلت کے خاتمے کا علان کیا تھا تو اس وقت امریکی حکام کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ افغان سیکورٹی فورسز دہشت گردوں کے حملوں کو روکنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں لیکن گزشتہ چار سالوں میں اس دعوے کی حقیقت کئی بار کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ اس حوالے سے شمالی شہر قندوز پر طالبان کا بار بار قبضہ افغان سیکورٹی فورسز کی ناکامی کی سب سے بڑی مثال ہے۔ امریکہ کی جانب سے افغان سیکورٹی فورسز کی معاونت کے لئے فضائی حملوں میں اضافے سے بھی کوئی مثبت نتائج حاصل نہیں کئے جاسکے۔ غزنی پر طالبان کے محاصرے اور حملے کے آغاز سے لے کر اب تک پانچ سو قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں ، انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے اور انسانی جانیں بچانے والی ادویات ختم ہو چکی ہیں۔ اس جنگ کے آغاز سے لے کر آج تک غزنی کا مرکزی ہسپتال بجلی اور پانی کے بغیر کام کررہا ہے۔عین اس وقت جب غزنی کے رہائشی ملبے میں سے اپنے پیاروں کی لاشیں اور زخمی تلاش کررہے تھے ، کابل کے شیعہ اکثریتی علاقے دشتِ برچی پر خود کش حملہ کیا گیا جس میںپچاس سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ مندرجہ بالا واقعات سمیت دہشت گردی کے دیگر کئی واقعات امریکہ کی افغانستان میں کامیابی کے دعوئوں کی نفی کرتے ہیں ۔اس سال افغانستان میں سویلین ہلاکتیں گزشتہ سالوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوئی ہیں جن کو نہ صرف افغانستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک حساس معاملے کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ امریکی دعوئوں کے برعکس پورے افغانستان میں افغان سیکورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں اور ان حملوں میں اپنے دفاع کی ناکامی سے افغان سیکورٹی فورسز کی صلاحیت کی قلعی کھل گئی ہے۔ اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی'سائوتھ ایشیاء سٹریٹجی' مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ اس سٹریٹجی کے تحت ٹرمپ انتظامیہ نے نہ صرف مزید فوج تعینات کی تھی بلکہ فیلڈ کمانڈرز کو بھی کسی ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے زیادہ اختیارات دیئے گئے تھے۔ ان تمام اقدامات کے باوجود بھی افغانستان میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جاسکے بلکہ ان اقدامات سے طالبان کے لڑنے کے جذبے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ غزنی کے محاصرے کے دوران عسکریت پسندوں کی ایک قلیل تعداد نے جدید امریکی اسلحے اور امریکی فضائی معاونت سے لیس 1500 افغان سیکورٹی فورسز کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا جس کے بعد امریکی اسلحے اور ٹریننگ پر سوالیہ نشان اٹھائے جا رہے ہیں۔ غزنی کی شکست کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر محمد حنیف اتمار کو اپنے عہدے سے ہٹا دیا تھا اور ان کی جگہ امریکہ میں افغان سفیر حمداللہ محب کو نیشنل سیکورٹی ایڈوائز بنا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وزیرِ داخلہ ویس احمد برمیک، وزیرِ دفاع طارق شاہ بہرامی اور انٹیلی جنس چیف معصوم سٹینکزئی نے بھی شدید تنقید کے بعد اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے لیکن صدر نے ان کے استعفے منظور کرنے کی بجائے ان کو اپنا کام جاری رکھنے اور ملک کے شہروں کی حفاظت میں اضافے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے افغانستان میں مفاہمت کی پالیسی کی حمایت کرتا رہا ہے اور اس حوالے سے پاکستان کی جانب سے سنجیدہ کوششیں بھی کی گئی ہیں لیکن افغان حکومت کی جانب سے ان کوششوں کو زیادہ پذیرائی نہیں دی گئی کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان ہمیشہ سے اعتماد کا فقدان دیکھنے میں آیا ہے۔ افغانستان سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان طالبان رہنمائوں پر دبائو ڈالے تو ان کو مذاکرات کی میز پر لایا جاسکتا ہے۔ ان میں سے کئی طالبان رہنمائوںکے خاندان کوئٹہ اور پشاور میں رہائش پذیر ہیں۔ افغان سویلین اس وقت امن کے خواہاں ہیں اور ہر قسم کی دہشت گردی سے نجات چاہتے ہیں ۔ حال ہی میں دانشوروں، اساتذہ اورمختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ملک میں جنگ کے خاتمے اور امن کے لئے پیدل مارچ بھی کیا تھا۔ ان مظاہرین نے جوتے بھی نہیں پہن رکھے تھے جس کا مقصد جنگ کے بھیانک پہلوئوں کو اجاگر کرنا تھا۔ افغان طالبان اور امریکی حکام کے درمیان مذاکرات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے جس میں پاکستان بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کو اپنی پرانی افغان پالیسی تُرک کرکے مدد کا ہاتھ بڑھانا ہوگا تاکہ ان مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے آسکیں۔ قریبی ہمسایہ ہونے کے ناطے ایک مضبوط اور مستحکم افغانستان ہی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہوسکتا ہے ۔افغان طالبان، افغان حکومت اور امریکہ بھی یہ بات جان چکے ہیں کہ افغانستان میں قیامِ امن مذاکرات سے ہی ممکن ہے ۔

(ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں