Daily Mashriq


زندگی اتنی ارزاں نہیں

زندگی اتنی ارزاں نہیں

ول ڈیوراں(Will Durrant)نے کہا کہ قومیں کبھی آزادی کے خلا میں زندہ نہیں رہتیں انہیں زندہ رہنے کے لئے ترجیحات ترتیب دینا پڑتی ہیں ۔ اس طرح اس آزادی کا ہاتھ تعلیم کو تھامناپڑتا ہے لیکن اس تعلیم کا مطلب محض روزگار کی تلاش نہیں ہو سکتا ۔ یہ الگ بات ہے کہ کئی بار ہم اپنی ترجیحات کو بنا سوچے سمجھے تبدیل کر رہے ہوتے ہیں ۔ شاید اس نے ٹھیک ہی کہا تھا کیونکہ مجھے یاد ہے ہر برٹ سپنسر(Herbert Spencer)نے اپنی ایک کتاب میں جو اس نے تعلیم کی افادیت کے حوالے سے لکھی تھی کچھ اس طرح اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ جوانی کے سالوں کا نیم مردہ زبانوں ، مردہ ثقافتوں کو پڑھتے ہوئے گزار دینے کا کچھ فائدہ نہیں ۔ وہ جوانوں کو اس وقت کے تقاضوں ، معیشت کی ترجیحات اور سیاسی تبدیلیوں کے حوالے سے تعلیم دینا چاہتا تھا ۔ شاید سوچ کی یہ تبدیلی تھی جو ہمیں پاکستان کے قیام کے بعد ستر کی دہائی میں والدین کے رویوں میں دکھائی دی ۔ انگریزوں کے اس ملک سے ، برصغیر سے چلے جانے کے بعد بھی اس علاقے کے لوگوں کے ذہنوں سے انگریزوں کے حوالے سے حیرت اور خاموش پذیرائی ختم نہ ہو سکی ۔ ان کے تصور میں وہ حیرانی اور پسندیدگی کا ایک ملغوبہ خواہشات کو اس سمت راغب کرتا رہا جہاں انہوں نے یہ سمجھا کہ شاید معیشت کی بہتری کا مطلب انگریزوں کی طرح مکمل طور پر ہو جانا ہے ۔ یہ سوچ کی تبدیلی تھی جس نے ادب میں گورے رنگ کی محبت کو روشناس کروایا اور معیشت میں طبقاتی فرق کو نئے نام دیئے ۔ متوسط طبقے میں یہ آس پیدا کی کہ وہ تعلیم کے زور پر معیشت کے بے لگام گھوڑے کو اپنی مرضی کے تابع کر سکتے ہیں اور ایسی ترقی کر سکتے ہیں جن سے وہ ان انگریز حکمرانوں کی برابری کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں جنہیں اس ملک کو چھوڑ کر گئے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا ۔ اس خواہش نے تقسیم سے پہلے برصغیر میں اینگلوانڈین طبقہ پیدا کیا تھا اور تقسیم کے بعد مکمل انگریز ہو جانے کی خواہش کو جنم دیا تھا ۔ اس صورتحال کا تقاضا تھا کہ لوگ آزاد ملکوں میں بھی غلام ہی رہتے ۔ وہ نہ اپنی زبان سے محبت کرتے ، نہ ہی اپنی روایات کی حقیقت کو سمجھتے ۔ سو ایسا ہی ہوتا رہا ۔ انگریز کی موجودگی میں حکمرانوں کی نفرت نے ان روایات کو مقامی لوگوں کے پیروں سے باندھ کر رکھا تھا ۔ لوگ اطمینان کو ، سکون کو اپنے نفس کی ترجیحات کا منبع رکھتے تھے ، اسی لیے خواہش بہت منہ زور نہ تھی ۔ قناعت ہی زندگی کا حاصل تھی ۔ لیکن جب انگریز حکمران چلے گئے تو ایک عرصے کے غلام لوگوں کے دلوں میں ایک نئی پریشانی نے جنم لیا ۔ ان لوگوں کی زندگیوں کا رُخ متعین کرنے کے لیے اب نہ بادشاہ موجود تھے اور نہ ہی انگریز باقی رہے تھے ۔ جمہوریت کا جو خیال انگریزہی ان کے دلوں میں پیدا کر گئے تھے وہ اس علاقے کے لوگوںکے لیے بہت حیران کن تھا ۔ کبھی یہ بھی ہوا ہے کہ لوگ اپنے مفاد کے حوالے سے خود اپنی زندگیوں ، اپنے مستقبل کے فیصلے کرسکیں ، سو جمہوریت اور ملوکیت کے درمیان ایک رسہ کشی ہوتی رہی اور ساتھ ہی ساتھ متوسط طبقے میں امیر ہوجانے انگریز ہوجانے کی خواہش منہ زور ہوتی چلی گئی ۔ اس سب کے اثرات گزشتہ کئی سالوں میں دیکھے ہیں ۔ اور اس کشمکش نے جہاں تعلیم کا معاشرے میں کردار بدلا ، وہاں لوگوں کی ترجیحات ایسے بدل دیں کہ تعلیم صرف روزی کمانے کا ذریعہ بن کر رہ گئی ۔ اس وقت تعلیم حاصل کرنے کی خواہش میں صرف سکوں کی کھنکھناہٹ سنائی دیتی تھی ۔ وہ لوگ جو پہلے اس لیے ڈاکٹر بنا کرتے تھے تاکہ انسانیت کے غموں کا مداوا کرسکیں ، اس لیے ڈاکٹربننے لگے کیونکہ اس میں بہت اچھے پیسے ملتے تھے ۔ شام کی پریکٹس سے اور بھی کمائی میں اضافہ کیا جا سکتا تھا ۔ پھر باہر کی ڈگریاں مریضوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانے کے لیے نیون سائن کا کام کرنے لگیں ۔ اب ہمارے بچے مہنگے سکولوں میں اس لیے تعلیم حاصل کرتے ہیں کہ وہاںڈگریاں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بچے ایک گروہ کا حصہ بن جاتے ہیں ، یہ گروہ ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں ، معاشرے میں اپنے جیسوں کی پشت پناہی کرتے ہیں ، انجینئر ، کمپیوٹرسائنٹسٹ ، سائنسدان اور ہر ایک تعلیمی شعبے کا تول ان سکوں سے کیا جاتا ہے جو وہ کمانے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ اس دوڑ میں ہمارا مقصدآج بھی یہی ہے ، ہم آج بھی اپنے آپ کو ان کے برابر کرنا چاہتے ہیں ، بل گیٹس بننا چاہتے ہیں ، مارک زکربرگ بننا چاہتے ہیں ۔ کوئی بچہ نہ اشفاق احمد بننا چاہتا ہے ، نہ بانوں قدسیہ ، کسی کو نہ محمد علی جناح میں کوئی بات دکھائی دیتی ہے نہ علامہ اقبال میں ، نہ کوئی علی برادران کو جانتا ہے نہ کہیں سرسید کا ذکر ہے ۔ ایک دوڑ ہے اور ہم سکوں کی جھنکار سننے کو دوڑے چلے جا رہے ہیں ، اندھے ، گونگے ، بہرے ہو چکے ہیں۔ تبھی اس معاشرے میں نہ بچے محفوظ ہیں ، نہ عورت ،تبھی ہم مسلسل دوڑ رہے ہیں ۔ اور جانے کب سمجھیں گے کہ زندگی اتنی ارزاں نہیں جتنی ہم نے بنا رکھی ہے ۔

متعلقہ خبریں