Daily Mashriq


ڈھائی ارب روپے کی جھلک اور فالودہ فروش

ڈھائی ارب روپے کی جھلک اور فالودہ فروش

اب خدا جانے یہ جو ڈھائی ارب روپے کی رقم اچانک فالودے والے کے اکائونٹ میں نکل آئی ہے یہ اسے ملے گی بھی یا یہ بھی پرانے دور کی ایک پاکستانی فلم سات لاکھ کی مانند ہوگی جس میں ایک بہت بڑے سیٹھ کے مرنے کے بعد اس کی اکلوتی وارث اور ان کی بیٹی کو سیٹھ کا وکیل آکر بتاتا ہے کہ ترکے میں تمہارے والد نے جو کچھ چھوڑا ہے اس پر تمہارا حق تب بنے گا جب تم شادی کرلوگی۔ اس شرط کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ موصوفہ شادی کے جھمیلوں میں نہیں پڑنا چاہتی اور آزاد رہ کر زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ مرحوم سیٹھ اپنی وصیت میں اسی لئے یہ شرط عائد کردیتا ہے کہ اس کے بعد اس کی بیٹی کسی غلط راہ پر گامزن نہ ہو جائے۔ سیٹھ کی وصیت کے الفاظ بڑے خوبصورت ہوتے ہیں اور انہی پر پوری فلم کی کہانی کھڑی ہے۔ وکیل بتاتا ہے کہ تمہارے باپ نے جو کچھ چھوڑا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ سات لاکھ روپے کی جائیداد جس میں تم رہ سکتی ہو کرایہ وصول نہیں کرسکتی۔ سات لاکھ روپے کی موٹر کاریں جن میں تم سفر کرسکتی ہو کسی کو دے نہیں سکتی۔ سات لاکھ روپے کے ہیرے جوہرات جنہیں تم دیکھ سکتی ہو استعمال نہیں کرسکتی'سات لاکھ روپے نقد جنہیں تم گن سکتی ہو خرچ نہیں کرسکتی۔ یہ سب کچھ تمہارا تب ہوگا جب تم شادی کرکے گھر بسالوگی تب تک تمہیں صرف معمولی جیب خرچ ہی ملتا رہے گا اور اگر تم شادی نہیں کرو گی تو یہ سب کچھ ایک ٹرسٹ کو دے دیا جائے گا اور تم کنگال ہوجائو گی۔ اس دور میں شاعر نے یہ فلمی گیت چونکہ تخلیق نہیں کیا تھا کہ

چاندی جیسا رنگ ہے تیرا سونے جیسے بال

ایک تو ہی دھن وال ہے گوری باقی سب کنگال

اس لئے وہ بے چاری اپنے والد کا چھوڑا ہوا ترکہ حاصل کرنے کے لئے جو فیصلہ کرتی ہے وہ فلم دیکھنے والے بخوبی جانتے ہیں۔ مگر اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو دینے والا جب بھی دیتاہے' دیتا چھپر پھاڑ کے مصداق لکشمی دیوی غریب فالودے والے پر سایہ کئے ہوئے ہے۔ یہ مستقل بنیادوں پر ہے یا پھر اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے والی صورتحال بن جائے گی۔ فالودے والے نے تو حیرت زدہ ہو کر کہہ دیا ہے کہ میں تو انگوٹھا چھاپ ہوں' دستخط تو کر نہیں سکتا' مجھے کیا معلوم اتنی زیادہ دولت کہاں سے میرے پاس آگئی۔ تاہم بے چارہ دل ہی دل میں ضرور کہہ رہا ہوگا واہ مولا دولت دینی تھی تو صرف دکھاوے کی حد تک تو نہ دیتے اس سے تو بہتر ہوتا کہ کہیں سے ایک ہی نمبر کے چالیس ہزار والے پرائز بانڈ ہی راستے میں پڑے مل جاتے اور پھر ان پر پہلا انعام بھی نکل آتا تو انعام میں جو کچھ ملتا وہ میرا اپنا تو ہوتا۔ مگر کہاں یہ تو صرف ایک جھلک دکھلا کر محروم کرنے والی صورتحال بن گئی ہے۔ اگرچہ ایسے موقعوں پر اکثر میڈیا والے دورکی کوڑی لاتے ہوئے جس قسم کی درفنطنیاں مارتے ہیں وہ بھی نظر آرہی ہے اور خبر ایجنسی نے زیب داستان کے لئے خبر کو تڑکا لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے بے نامی اکائونٹس کو چلانے کے لئے جس کے نام پر اکائونٹ ہوتا ہے اسے رقم دی جاتی ہے۔ ان الفاظ کے بعد بے چارہ فالودہ فروش مصیبت میں بھی گھر سکتا ہے۔ شاید اسی لئے اس کی حفاظت کے لئے پولیس کو اس کے گھر ڈیوٹی دینے بھیج دیاگیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں اس بے چارے فالودہ فروش کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔ ایک طرف اداروں کی جانب سے پوچھ گچھ کہ یہ اتنی دولت کہاں سے لائے ہو، اور وہ بے چارہ ہکا بکا حیران و پریشان ہو کر آسمان کی طرف منہ اٹھا کر شکوہ بہ لب ہو جائے کہ اے رب کریم دولت دینی تھی تو یوں سراب سے تو سامنا نہ ہوتا جو میری نہیں ہے اس کا حساب کتاب مجھ سے مانگا جا رہا ہے۔ میں فالودہ بیچ کر بچوں کے لئے رزق کمائوں یا پیشیاں بھگتوں اور دوسری جانب ان لوگوں کی جانب سے بھی اسے خطرہ لاحق ہونے کے خدشات ہیں جنہوں نے اس کے نام پر بے نامی اکائونٹ میں اربوں جمع کرکے دولت چھپائی ۔ کہیں وہ اسے نقصان پہنچا کر کسی مشکل میں نہ ڈال دیں۔ شاید اسی وجہ سے اس کے گھر پولیس کا پہرہ بھی لگا دیاگیا ہے مگر وہ جو کہتے ہیں کہ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی اس کیس کا جو بھی انجام ہو فیصلہ ہو جانے کے بعد اگر فالودے والے کو بعد میں بے یار و مدد گار چھوڑ دیاگیا اور یہ جو ڈھائی ارب روپے اس کے نام نکل آئے ہیں اسے سرکاری تحویل میں لے کر اسے پھر سے کنگال کردیاگیا تو جن کی دولت ان سے چھین لی جائے گی وہ اپنے غصے کا اظہار کسی بھی شکل میں کر یا کرواسکتے ہیں یعنی ایسے معاملات میں کسی فلمی سین کی طرح بے چارے فالودہ فروش کی سپاری ہی دے کر ''فارغ'' نہ کردیا جائے۔ اللہ اس پر رحم کرے۔ اس واقعے کا ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ ہے نفسیاتی۔ یعنی اگر بے چارہ فالودہ فروش ان سارے بکھیڑوں سے بچ بھی جائے تو خدشہ ہے کہ اتنی بڑی دولت کی جھلک دیکھنے اور پھر محروم ہونے کے بعد کہیں نفسیاتی مریض ہی نہ بن جائے اور مجنوں کی طرح لیلیٰ لیلیٰ پکارتے ہوئے انہی گلی کوچوں اور بازاروں میں گھومتے پھرتے ایک ایک سے پوچھتا پھرے کہ میرے ڈھائی ارب روپے کہاں ہیں۔ ایسی صورت میں جب وہ بالآخر ہر طرف سے مایوس ہو کر بالکل ہی خاموش ہو جائے گا اور صرف اپنے ساتھ ہی باتیں کرتا نظر آئے گا تو لوگ اسے میرتقی میر سمجھ کر یوں پکاریں گے۔

یوں پکارے ہیں مجھے کوچہ جاناں والے

ادھر آبے' ابے او چاک گریباں والے

بس اللہ سے یہی دعا ہے کہ وہ اس بے چارے کو ہر امتحان میں سرخرو کرے ( اگر وہ بے گناہ ہے) کیونکہ اتنی دولت کی جھلک دیکھ کر کوئی بھی آپے میں رہنے کا ذہنی طور پر بوجھ نہیں اٹھاسکتا۔

متعلقہ خبریں