Daily Mashriq


انوکھی واردات

انوکھی واردات

لیجئے منی لانڈرنگ کا یہ طریقہ واردات ملاخط ہو۔ فالودہ بیجنے والے کے اکائونٹ میں سوا دو ارب روپے نکل آئے ہیں ۔ اُس بیچارے کو تو پتہ ہی نہیں ہے کہ اسکا کوئی بنک اکائونٹ بھی ہے چنانچہ سمجھ جایئے کہ یہ ان جعلی اکائونٹس میں سے ایک اکائونٹ ہے جو پاکستان سے باہر رقم بھیجنے کیلئے استعمال ہورہے ہیں ۔ نجانے اور کتنے شربت اور فالودہ بیچنے والے ہونگے جن کے نام کے اکائونٹس کھولے جاتے ہیں اور رقمیں ادھر سے اُدھر کی جاتی ہیں ۔ سالوں قبل شریف فیملی نے بھی قاضی فیملی کے نام پر اکائونٹس کھول کر کروڑوں ڈالر کی منی لانڈرنگ ایسے ہی کی تھی ۔ اسحٰق ڈار نے اپنے اعترافی بیان میں لکھا ہے کہ کیسے انہوں نے سکندرمسعود قاضی اور طلعت مسعود قاضی کے نام پر فارن کرنسی اکائونٹس کھولے ۔ بنک آف امریکہ میں مزید دو اکائونٹس نزہت گوہر اور کاشف مسعودقاضی کے نام پر اسحٰق ڈار کی ہدایت کے مطابق نعیم محمد نامی شخص کے دستخطوںسے کھولے گئے ۔ قاضی فیملی کو بعدازاں اس واردات کا پتہ چلا تو وہ سراپا احتجاج بن گئی مگر حکمران اپنی واردات ڈال چکے تھے۔ڈار نے یہ انکشاف بھی کئے کہ بنک آف امریکہ کے علاوہ البرکہ بنک اور التوفیق انوسٹمنٹ بنک میںاسحٰق ڈار اور ان کے دوستوں کمال قریشی اور نعیم محمود نے جعلی فارن کرنسی اکائونٹس کھولے تھے ۔ یعنی بین الاقوامی سطح پر دولت کی ہیرا پھیری کرنے والوں کا یہ پرانا طریقہ واردات ہے کہ وہ مختلف ناموں پر جعلی اکائونٹس کھولتے ہیں اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں کروڑوں ڈالر ز منتقل کرتے ہیں ۔ پاکستان کی نام نہاد اشرافیہ اور حکمران کلاس کا یہ وتیرہ رہا ہے کہ کرپشن کی رقم انہی چینلز سے پاکستان سے باہر منتقل کی جاتی ہے ۔ آصف علی زرداری آج جعلی اکائونٹس کے چکر میں پھنسے ہیں اور یوں لگ رہا ہے کہ ان کا بچ نکلنا اب مشکل ہوگا لیکن کون نہیں جانتا کہ اس فیلڈ کے وہ پرانے کھلاڑی ہیں ۔ آصف علی زرداری نے جب سٹی بنک کے ذریعے منی لانڈرنگ کی تو امریکہ کی سینٹ کمیٹی میں ان کی ہوشیاری کو کیس سٹڈی کے طور پر ٹیک اپ کیا گیا ۔ یہ کیس ان چار مقدمات میں سے ایک تھا جن کو امریکی سینٹ نے دنیا بھر کے منی لانڈرنگ کیسز میں سے چنا تھا ۔آصف علی زرداری نے سٹی بنک دبئی میںاکائونٹ کھولنے کے لیے دبئی کے شاہی خاندان کے وکیل کو اپنا فرنٹ مین بنالیا اور وہی ایم ایس کیپر یکان ٹریڈنگ اکائونٹ کا آپریٹر تھا ۔دبئی کے قانون کے مطابق وہاں اکائونٹ کے بینی فیشل اونر کا نام بتانا چونکہ ضروری نہیں ہوتا لہٰذاآصف زرداری نظروں سے پوشیدہ رہے ۔ سوئٹزرلینڈ کے سٹی بنک میں بھی اکائونٹ اسی فرنٹ مین شلیگل نے کھولے ۔ سوئٹزرلینڈ والے بھی اس دھوکے میں رہے کہ شلیگل کے پیچھے دبئی یا ابوظہبی کا کوئی شہزادہ ہے۔ انہیں خبر ہوئی کہ ان اکائونٹس کا بینی فیشل اونر آصف علی زرداری ہے تو وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے لیکن اُس وقت تاخیر ہو چکی تھی چونکہ دبئی کے بنکوں سے رقم سوئٹزر لینڈ منتقل کرنے کے بعد آصف علی زرداری نے کمال ہوشیاری سے دبئی اکائونٹس بند کردیئے تھے ۔ یہ 60ملین ڈالرز یعنی 6کروڑ ڈالر جن کی موجودہ مالیت 6ارب پاکستانی روپے بنتی ہے آصف علی زرداری نے پاکستان سے باہر منتقل کئے اور کمائی کا کوئی ذریعہ وہ کبھی ثابت نہ کر سکے ۔یہ ہیں غریب قوم کے ''ہمدرد'' وہ قومی رہنماجو ہر سال اپنی''خفیہ کمائی'' پاکستان سے باہر بھیجتے آرہے ہیں اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہے ۔ اعداد وشمار کے مطابق ہر سال 10ارب ڈالر ز کی ناجائز کمائی پاکستان سے باہر منتقل ہوتی ہے ۔ اگر ہم کرپشن اور لوٹ مار سے حاصل ہونے والی اس کمائی کو باہر منتقل ہونے سے روک لینے میں کامیاب ہوجائیں تو ہمیں کیا کسی بیرونی امداد کی ضرورت ہے ؟ ابھی سعودی عرب نے پاکستان میں 10ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا تو ہم نے خوشی کے شادیانے بجائے کہ حقیقتاً یہ ایک بڑی سرمایہ کاری ہے مگر کیا ہم نے غور کیا کہ جو ''وارداتیئے '' ہمیں ہر سال اتنی رقم سے محروم کرتے آرہے ہیں انہیں ہم نے اب تک قیادت کے منصب پر کیوں فائز کئے رکھا ۔ آج قوم کی آنکھیں کھلنی چاہئیں اور انہیں کھوٹے کھرے کی پہچان ہونی چاہیئے ۔ قوم چیف جسٹس آف پاکستان کی ہمت کو سلام پیش کرتی ہے جو ایسے مقدمات کو ٹیک اپ کررہے ہیں جن کی وجہ سے قوم کو لوٹنے والے بے نقاب ہورہے ہیں اور قومی دولت کی لوٹ کھسوٹ اور بیرون ملک منتقلی کے راستے بند ہو جانے کی اُمید ہو چلی ہے ۔ سٹاک مارکیٹ کے چیئر مین حسین لوائی اور ان کے حواریوں پر الزام ہے کہ انہوں نے 29جعلی اکائونٹس سمٹ بنک اور یوبی ایل میں کھولے جبکہ اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے حراست میں ہیں۔ یہ سب کو ن لوگ ہیں اور کس کے ساتھ ہیں ؟آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور جعلی اکائونٹس کے ذریعے 35ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا جو مقدمہ بھگت رہے ہیں کیا اس کا کوئی نتیجہ نکلے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات قو م جاننا چاہتی ہے اور تحریک انصاف کی حکومت سے توقع رکھتی ہے کہ وہ ملکی دولت سے کھلواڑ کرنے والوں کو نشان عبرت بنا دے گی خواہ ان کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے ہو ۔ تحریک انصاف کی حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ اس معاملے میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت اور پاک فوج کی قیادت کی مدد اور ساتھ اسے میسر ہوگالہٰذا مجھے یقین محکم ہے کہ عمران خان کی قیادت قوم کو اس حوالے سے مایوس نہیں کرے گی ۔

متعلقہ خبریں