Daily Mashriq

کامیاب دورے کے بعد سفارتی سطح پر اچانک تبدیلیاں کیوں؟

کامیاب دورے کے بعد سفارتی سطح پر اچانک تبدیلیاں کیوں؟

وزیراعظم عمران خان کے دورۂ امریکہ کے فوراً بعد ہی اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کی جگہ منیر اکرم کی تعیناتی کا اچانک فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کو ہٹانے کا فیصلہ اپنی جگہ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وقت اُن کی تبدیلی کیلئے موزوں اور مناسب نہ تھا۔ ہمارے تئیں یہ نامناسب وقت پر کیا گیا ایک ایسا فیصلہ ہے جس سے اس امر کا تاثر ملتا ہے کہ حکومتی فیصلے سوچ سمجھ کر منصوبہ بندی کیساتھ اور مناسب وقت پر کرنے کی بجائے عجلت میں اور نتائج وعواقب اور حالات پر غور کئے بنا کئے جارہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب اقوام متحدہ میں وزیراعظم کے خطاب کے جملہ انتظامات ملیحہ لودھی کی نگرانی میں بحسن وخوبی انجام پائے اچانک ان کو ہٹانے سے چہ مگوئیاں ہونا فطری امر ہے۔ ان کے اس طرح اچانک ہٹائے جانے سے دنیا کو کیا پیغام جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعظم کا دورہ کامیاب تھا اور حکومت مطمئن تھی تو جلدبازی میں اس تبدیلی کی ضرورت کیا تھی۔ اگر انہوں نے عہدے سے الگ ہونے کی خواہش کا اظہار کیا بھی تھا تب بھی یہ وقت مناسب نہیں تھا ان کو ماہ دوماہ انتظار کرنے کا کہا جا سکتا تھا۔ جس کے بعد اُن کو ہٹانے کے عمل کو خلاف معمول اور اچانک قرار نہ دیا جاتا۔ ملیحہ لودھی اس سے قبل امریکہ اور برطانیہ میں پاکستانی سفیر بھی رہ چکی ہیں۔ وہ سابق وزرائے اعظم بینظیر بھٹو، نواز شریف اور سابق صدر جنرل پرویز مشرف تینوں کے دور میں امریکہ، برطانیہ اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ سفارتی دنیا اور اقوام متحدہ میں احترام کی نظر سے دیکھی جاتی رہی ہیں۔ ان کی قابلیت اور مساعی کسی بھی کیرئیر ڈپلومیٹ سے کم نہیں بلکہ بعض لحاظ سے وہ ان سے بڑھ کر تھیں۔ سفارتی دنیا میں وہ ایک مقام کی حامل اور مقبول شخصیت گنی جاتی تھیں۔ وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے بعد ان کے حالیہ امریکی دورے کو حکومت کی جانب سے ’’زبردست دورہ‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ایسے میں اس دورے کے تمام انتظامات کرنے والی ملیحہ لودھی کی جگہ منیر اکرم کو تعینات کرنے پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔ اب سے ایک دن قبل ہی ملیحہ لودھی ٹویٹر پر وفاقی وزیر سے مبارکباد وصول کر رہی تھیں اور مبارکباد کے پیغامات کو اپنی ٹیم تک پہنچانے کا کہا جا رہا تھا۔ منیر اکرم ملیحہ لودھی کا موزوں جانشین ہوسکتے ہیں تاہم اپنے پہلے دور میں ان کا ایک خاتون سے تنازعہ اور مار پیٹ اور سفارتی استثنیٰ کے باعث مقدمے سے بچنا ایک ایسا معاملہ ہے جس کے حوالے سے اس کو واسطہ پڑتا رہے گا۔ اگر سارے معاملات احسن رہے تھے تو پھر اتنی جلدی تبدیلی کی کیا ضرورت پیش آئی۔ منیر اکرم منجھے ہوئے سفارتکار ضرور ہیں لیکن ان کی تقرری سے اس امر کا احساس ہوتا ہے کہ نئے تصورات اور اُمنگوں کی بجائے پاکستان سردجنگ کی حکمت عملی کی طرف لوٹ رہا ہے۔ کارحکمرانی خویش خسروان دانند کے مصداق کابینہ اور سفارتکاروں کی تبدیلی کی ضروریات اور وجوہات کیا تھیں ان کا بہتر علم وزیراعظم ہی کو ہوگا، البتہ منیراکرم کو جس نازک وقت میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی ذمہ داری دی گئی ہے وہ اہم ہے۔ وزیراعظم کی پرجوش تقریر کے برعکس اقوام متحدہ کی عالمی انسانی حقوق کمیٹی میں پاکستان کی مطلوبہ حمایت سے محرومی کے باعث قرارداد لانے میں ناکامی ناقابل تلافی ہے۔ اقوام متحدہ کے اجلاس سے باہر ہونے والی سرگرمیوں چین اور امریکہ کی معاشی جنگ میں بھارت کو ملنے والی اہمیت پاکستان کیلئے کوئی اچھا شگون نہیں، اپنے برادراسلامی ممالک کا ان کی طرف جھکاؤ اور ہماری طرف کھچاؤ کا رویہ بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ ان سارے حالات میں منیر اکرم اپنی سفارتی مہارت تجربہ اور تعلقات کوکس حد تک کامیابی سے بروئے کار لاتے ہیں یہ کسی بڑے امتحان سے کم نہیں ہوگا۔

متعلقہ خبریں