Daily Mashriq

کابینہ میں دوسری بار رد وبدل

کابینہ میں دوسری بار رد وبدل

تحریک انصاف کی حکومت کے تقریباً ڈیڑھ سال کے دوران وفاقی کابینہ میں دوسری مرتبہ رد وبدل ازخود اس امر کا اعتراف ہے کہ وزیراعظم اپنی ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ ہر کپتان کو ٹیم میں تبدیلی کا حق حاصل ہوتا ہے لیکن تبدیلی پر کپتان اور ٹیم سلیکٹرز کو اچھی ٹیم تشکیل نہ دئیے جانے پر تنقید کا سامنا بہرحال ہوتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان ماضی کے بااختیار کپتان کی طرح بااختیار سربراہ حکومت ہیں جن کو اقتدار کے ایوانوں سے لیکر مقتدرین تک کا پورا پورا اعتماد حاصل ہے۔ ماضی کے برعکس ان کو حکومت کے استحکام پر توجہ کی حاجت نہیں، حزب اختلاف اپنے معاملات میں جکڑی بندھی ہوئی ہے حکومتی ٹیم کا کھیلنے کی مکمل آزادی ملنے اور موافق پچ ہونے کے باوجود کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرنا کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ ڈیڑھ سال کے کم مدت میں کابینہ میں دوسری تبدیلی کتنی مؤثر ہوگی اس کا انحصار ایک مرتبہ پھر کپتان کے چناؤ پر ہوگا۔ وزیراعظم کی اپنی ٹیم میں تبدیلی ازخود اس امر پر دال ہے کہ وزیراعظم کو حکومتی کارکردگی پر اطمینان نہیں، یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ موجودہ دورحکومت میں مہنگائی میں خاصا اضافہ ہوا ہے، عوامی مسائل کے حل اور شکایات میں کمی آنے اور بالخصوص ہر جگہ میرٹ، معیار اور انصاف کی جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں اور جن کا خواب دکھایا گیا تھا وہ کماحقہ حاصل نہ ہوسکے۔ جس کا خود تحریک انصاف کے کارکنوں کو اعتراف ہے اور وہ اس صورتحال پر اس طرح کی بددلی کا شکار نظر آتے ہیں کہ اب رزم وبزم میں ان کی کوشش سینہ سپر ہونے کی بجائے کنی کترانے کی ہوگئی ہے۔ عوامی فورمز اور سوشل میڈیا پر حکومت کا دفاع مشکلات کا شکار نظر آرہا ہے۔ ایک حکومتی رکن نے بھرے ایوان میں اپنی ہی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرکے حکمرانوں کو جو آئینہ دکھایا ہے بجائے اس کے کہ اس پر ناراضگی کا اظہار کیا جاتا نوشتہ دیوار پڑھ لیا جاتا اور چہروں وقلمدان کی تبدیلی کی بجائے صورتحال کی تبدیلی کی راہیں تلاش کی جاتیں کابینہ میں بعض تبدیلیوں کے پس پردہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی حکومت مخالف صف بندیوں سے نمٹنے کیلئے موزوں افراد کو سامنے لانا بھی ہے۔ وزیراعظم بار بار کسی دباؤ میں نہ آنے کا ببانگ دہل اعلانات ضرور کرتے ہیں حزب اختلاف کا مکوٹھپنے کی خاصی کوششیں بھی ہو چکی ہیں۔ وزیراعظم ٹیم میں جو بھی تبدیلی کریں احتیاط دراحتیاط نتائج پر نظر اور ہدف کے حصول کو ممکن بنانے کی مشکل پر قابو پانا ہوگا اور تبدیلی کو کابینہ میں تبدیلی کی بجائے عوامی سطح پر تبدیلی ثابت کرنا ہوگا۔

حکومت اور ڈاکٹرز تڑپتے مریضوں کا کچھ تو خیال کریں

خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں طبی عملے کی جانب سے الیکٹرو میڈیکل سروسز کا بائیکاٹ کرنے کی بناء پر مریضوں کے مسائل میں شدت آتی جا رہی ہے۔ گزشتہ6روز سے صوبے کے تقریبا تمام بڑے شہروں بشمول پشاور کے ہسپتالوں میں او پی ڈیز بند اور آپریشن معطل ہیں، ہسپتالوں میں نئے مریضوں کا وارڈز میں داخلہ اور پہلے سے داخل مریضوں کا علاج بند ہے جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں مریضوںکی جان خطرے میں ہے۔ ہڑتال کے پیش نظر لوگوں نے اپنے مریضوں کو نجی ہسپتالوں میں منتقل کرنا شروع کردیا ہے تاہم لاچار افراد بدستور اپنے مریضوں کے علاج کیلئے وارڈز کے باہر طبی عملے کے انتظار میں ہیں۔ دوسری طرف ہسپتالوں میں ادارہ جاتی پریکٹس کے علاوہ ڈبگری گارڈن اور دوسرے میڈیکل سنٹرز پر بھی جزوی طور پر نجی کلینکس کی ہڑتال رہی جس سے بڑے پیمانے پر دوردراز سے پشاور میں علاج کیلئے آنیوالے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ ایسی صورتحال نہیں جس میں حکومت مزید سختی سے کام لے، بجائے اس کے کہ صورتحال کو معمول پر لائے اور کم ازکم ڈاکٹروں کو ہڑتال ختم کرنے پر راغب کرنے کیلئے کوشش کی جائے ایسے بیانات دیئے جارہے ہیں جو جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔ ایک طرف جہاں علاج کے منتظر مریض اور ان کے لواحقین کی جان پر بنی ہے تو دوسری طرف حکومت سخت سے سخت اقدامات کیلئے پرعزم ہے۔ ہڑتالی ملازمین کی برطرفی کیلئے ضابطے کی کارروائی پوری کرنے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ وزیرصحت جو خود بھی ڈاکٹر ہیں کا کہنا ہے کہ ہڑتالی ڈاکٹر پڑھے لکھے جاہل ہیں، ان کا قبلہ درست کردوں گا۔ وزیراطلاعات کو اس امر کا ازخود احساس ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ مریض مررہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے اگر تڑپتے بلکتے مریضوں کا احساس ہوتا تو ہسپتالوں کا انتظام سدھارنے اور ڈاکٹروں کو ہسپتالوں میں موجود رہ کر احسن طریقے سے مریضوں کا علاج کرنے کا پابند بنانے کے اقدامات کے طور پر اس اقدام کی حمایت نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ ڈاکٹر تڑپتے مریضوں کی بے بسی اور اس سے پیدا ہونے والے ردعمل کا فائدہ اُٹھانے کی ناجائز کوشش ضرور کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود معاملے کی سنگینی اس امر کا متقاضی ہے کہ حکومت اس حوالے سے تحمل کا مظاہرہ کرے یا پھر ایسے انتظامات یقینی بنائے کہ مریضوں کا علاج معالجہ ادھورا اور نامکمل نہ رہے۔

ٹیسٹ، الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے

ٹیسٹنگ اداروں کی غفلت کے باعث محکمۂ تعلیم کی خالی آسامیوں کیلئے ٹیسٹ دینے والے امیدواروں کو ٹیسٹ کی منسوخی سے اُمیدواروں کو جس ذہنی کوفت سے گزرنا پڑا اس کا ازالہ تو ناممکن ہے ان کا ٹیسٹ شفاف اور احسن طریقے سے جتنا جلدی لیا جا سکے اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق ٹیسٹنگ ایجنسیوں کا امیدواروں سے بغیر فیس کے ٹیسٹ لینے سے انکار حکومتی اداروں کی حاکمیت پر بھی سوالیہ نشان ہے جس سے اس امر کا شبہ ہوتا ہے کہ درپردہ محکمہ تعلیم کے حکام کا دامن بھی شاید صاف نہیں وگرنہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کی نوبت نہ آتی۔ وزیراعلیٰ اور مشیر تعلیم کو اس معاملے کو جلد سے جلد نمٹانے اور امیدواروں کے ٹیسٹ بلامعاوضہ لینے کو یقینی بنانے کی ذمہ داری نبھانے میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں