Daily Mashriq

ہوشیار باش

ہوشیار باش

عمران خان نیازی نے جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب سے قبل ریڈیو اور ٹی وی پر سے کشمیر کے مسئلے پر قوم سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے کہا تھا یہ پاکستان کی کامیابی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیر کا ایشو عالمی مسئلہ بن گیا ہے، انٹرنیشنل میڈیا میں بھی مسئلہ اُٹھایا گیا ہے، پوری دنیا کو مودی کے عزائم سے آگاہ کر دیا ہے۔ ہماری فوج بھی تیار ہے، اس کیساتھ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ آزاد کشمیر میں کوئی بھی آپریشن کرنا مودی کیلئے ناممکن ہوگا، وزیراعظم نے اپنے خطاب میں مسلم ممالک کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا کہ مسلم ممالک آج کسی مجبوری یا تجارت کی وجہ سے ساتھ نہیں، آگے چل کر ساری دنیا ساتھ کھڑی ہوگی، جس کے بعد ان کا دوسرا اہم ترین خطاب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہوا جہاں انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر جو تقریر کی اس کی بڑی دھوم مچی ہوئی ہے اور پی ٹی آئی وسرکاری ذرائع ابلاغ کی مہربانی سے اس کو بے حد دلپزیری حاصل ہورہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی میںدوٹوک انداز میں دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستان آخری دم تک اپنے کشمیری بھائیوں کیساتھ کھڑا ہوا ہے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اُٹھایا جائے جبکہ توقع یہ تھی کہ وہ بھارتی آئین سے آرٹیکل370 کو حذف کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اس کی بحالی کا مطالبہ کریں گے، ایسا انہوں نے نہیںکیا اس میںکیا مصالحت تھی اس سے وہی واقف ہوں گے، جہاں تک مسلم ممالک کا تعلق ہے تو اس میں عرب ممالک کی واضح صورت سامنے آئی ہے کہ انسانی حقوق بین الاقوامی کمیٹی میں جب یہ قرارداد پیش ہوئی کہ یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور اسے ختم کیا جائے یہ قرارداد بنیادی طور پر سعودی عرب کیخلاف تھی۔ اس قرارداد کی مخالفت میں پاکستان نے ووٹ دیکر سعودی عرب کی حمایت کی جبکہ بھارت نے قرارداد کے حق میں ووٹ ڈال کر حوثیوں کی حمایت کی مگر سعودی عرب اور بھارت کے مابین تعلقات میں رتی بھر فرق نہ آیا بلکہ اس کے بدلے میں جب جنرل اسمبلی کی انسانی حقوق کی کمیٹی میں پاکستان کی کشمیر سے متعلق قرارداد کی حمایت کا وقت آیا تو سعوی عرب نے قرارداد کی حمایت نہ کر کے بھارت کا ساتھ دیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ معاملہ محض تجارت وکاروبار کا نہیں ہے بلکہ کامیاب خارجہ پالیسی کا شاخسانہ ہے۔ بھارت سعودی عرب کیخلاف ووٹ کا استعمال کرکے بھی عرب ممالک سے بہترین تعلقات کا حامل رہتا ہے اور کوئی رخنہ نہیں پڑتا۔ کشمیر کے معاملے میں پاکستان مطلق تنہا نہیں پایا گیا، ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کشمیر کے مسئلے پر جان افزا تقریر کی، مہاتیر محمد نے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر پر روشنی ڈالتے ہوئے کشمیر عوام کے حقوق کیلئے آواز بلند کی، انہوں نے کہا کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پس پشت ڈال کر جموں وکشمیر پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا ہے، کشمیر پر بھارتی حملے کی بات حکومت پاکستان کے لیڈر نے نہیںکی۔ چین کے وزیرخارجہ نے بھی کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر امریکی کانگریس کی امورخارجہ کی ذیلی کمیٹی نے 22اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی ہے، میڈیا ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے حالات کے بارے میں وزیراعظم عمران خان کے خطاب کے بارے میں اطلاعات پہنچنے کے بعد کشمیریوں میں نیاجوش وجذبہ پیدا ہوگیا اور سری نگر کے کئی علاقوں میں کشمیری نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے، اس عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو پاکستان سے کس قدر توقع وابستہ ہے۔ علاوہ ازیں ترکی کے صدر اردوان نے جو خطاب جنرل اسمبلی میں کیا اس نے اُمت مسلمہ کا صحیح معنوں میں حق ادا کر دیا، انہوں نے فلسطین سے لیکر کشمیری عوام کے حقوق کی بات بے باکانہ کی، اس میں کوئی لگی لپٹی نہ چھوڑی۔ ترک صدر کی تقریر کے بعد ہی مودی نے قبرص کے صدر نکوس اناستا سدیس کیساتھ ملاقات کی اس کے علاوہ آرمینیا کے وزیراعظم نکول پاشتیان کیساتھ بھی ملاقات کی، ان لیڈروں سے مودی کی ملاقات کے پیچھے کئی عوامل شامل ہیں، سفارتی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان دونوں لیڈروں کیساتھ ملاقات کر کے مودی نے دراصل ترکی کے صدر کو جنرل اسمبلی میںکھل کر کشمیری عوام اور پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرنے کا جواب دینا مقصود ہے۔ آرمینیا اور قبرص دونوں ترکی کے سرحدی ہمسائے ہیں اور دونوں ممالک کے ترکی کیساتھ تعلقات میں کشیدگی موجود ہے، اس طرح بھارتی وزیراعظم نے سفارتی سطح پر یہ چال چل کر ترکی کو اشارہ دیا ہے کہ ترکی کے صدر نے جنرل اسمبلی میں پاکستان کے جس مؤقف کی حمایت کی ہے تو بھارت بھی اس کا سفارتی جواب دینے کی قوت رکھتا ہے، گویا بھارت نے اس طرح نئی صورتحال پیدا کردی ہے، یہ درست ہے کہ اس وقت کشمیر کے مظلوم عوام کی آواز پر دنیا کے ممالک نے اپنے اپنے ذاتی مفادات پر چپ سادھ رکھی ہے مگر آخر کب تک کیونکہ جس انداز میں بھارت نے اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے پر کشمیر پر قبضہ جمایا ہے وہ یقینی طور پر مظلوم عوام پر مصائب اور شدائد کے دن تو ہیں مگر وہ اپنی آزادی کے متوالے بھی ہیں اور حوصلہ وہمت سے بھی لبریز ہیں۔ ان کی جدوجہد کو بندوق کے زور پر ختم نہیںکیا جا سکے گا۔ بھارت کی ریاستی دہشتگردی ایک نہ ایک دن ختم ہو کر رہے گی اور کشمیر کے عوام نجات حاصل کرنے میںکامیاب ہوجائیں گے۔ پاکستان نے اب تک سفارتی سطح اور دیگر فورموں پر مسئلے کو اُجاگر کرنے کی سعی کی ہے اور اس کو نمایاں کیا ہے۔ تاہم پاکستان کے پاس وقت گزرنے کیساتھ ساتھ آپشن کم ہیں پاکستان کے ماضی کے گہرے دوست مثلاً سعودی عرب اور ایسے دیگر دوست ممالک بھارت کیساتھ کھڑے نظر آرہے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کے دفترخارجہ کو ہوشیار رہنا ہوگا اور سفارتی تعلقات کو ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے، سفارتی معاملات میں کوئی مفاد نہیں ہوا کرتی، جو قوم ذاتی مفادات کی دھول میں لپٹی رہ جاتی ہے یا تجارتی ضرورتوں کا شکار ہو جاتی ہے تو اس کی نیا ڈوب جایا کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں