Daily Mashriq

معاشرتی ترقی اور خیال

معاشرتی ترقی اور خیال

دنوں شہدائے پولیس کو نذرانہ عقیدت پیش کرنے کیلئے روزنامہ مشرق کو ذریعہ خیال بنایا تو مشرق نے کالم کا عنوان ’’اظہار خیال‘‘ چُنا اور خوب چُنا۔ اظہار اور خیال انسانی تاریخ کے دو ایسے نکتے ہیں جو اسے دوسرے مخلوقات سے ممتاز بناتی ہیں۔ دونوں ایک فطری عمل ہیں اور انسانی حقوق کے بنیادی جز ہیں۔ بہتر معاشرتی ترقی ہمیشہ سے خیال کی آزادی سے جڑی ہوئی ہے۔ خیال ہی انسان کی قیمتی متاع ہے۔ ابتدائے آفرینش سے ہی انسان نے مظاہر قدرت کا مشاہدہ شروع کیا اور اسی کے تحت خیالات نے جنم لیا جس نے افکار کی صورت میں معاشرتی زندگی کو آگے بڑھایا۔ آنکھ کھلتے ہی انسان نے آسمان اور اس پر پھیلے ہوئے نظام فلکی اور زمین پر پیدا کردہ پہاڑوں، آبشاروں، دریاؤں، پگلتی برف، پھولوں کی مہک اور پرندوں کی چہک، موسموں کے تغیر اور فصلوں کی پیداوار اور خود اپنی تخلیق پر سوچنا شروع کیا اور ان خیالات نے نئے سوالات کو جنم دیا۔ ان خیالوں نے اسے سوال پوچھنے پر مجبور کیا کہ یہ دنیا کیسے وجود میں آئی۔ ارتقاء انسان کیا ماجرہ ہے؟ یہ دن رات بدلتے موسم، فصلیں اور معدنیات کیونکر پیدا ہوتی ہیں؟ یہ آتش فشاں، زلزلے اور سیلاب کیونکر برپا ہوتے ہیں؟ ان خیالات کے جوابات کے حصول کیلئے جستجو پیدا کی۔ تاریخ انسانی گواہ ہے کہ زندگی کی حقیقت جاننے کیلئے خیال وفکر کے مالک (Meditation) مراقبہ کی طرف مائل ہوئے۔ کوہ طور، غارثور اور غارحرا اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ مہاتما گوتم بدھ نے تو شاہانہ زندگی تر ک کرکے جنگل کا رخ کیا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ جو نظر آرہا ہے وہ سچائی نہیں۔ وہ اس سچائی کی تلاش میں محو مراقبہ ہوا حتی کہ اسے روشنی نظر آئی کہ دنیا دکھ ہی دکھ ہے اور اس کا مداوہ اسی میں ہے کہ ہزار لڑائیاں جیتنے سے بہتر ہے کہ خود کو تسخیر کیا جائے۔ یہ اصل جیت ہے جو آپ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔

سقراط اور افلاطون بھی خیال کی دنیا میں مگن اس تگ ودو میں لگے رہے جو بظاہر شاید حقیقت نہ ہو اور اسی خیال میں ڈوبے سچ کی تلاش میں اس نتیجے پر پہنچے کہ Knowledge is virtue یعنی علم ہی فضیلت یا راست بازی ہے۔ اسی بنا پر ایک مثالی ریاست کا قیام ممکن ہے۔ اس کے برعکس ارسطو کا خیال تھا کہ ایک اچھی ریاست کا دار ومدار قانون کی بالادستی پر ہے۔ خیالات کے اسی تکرار نے فلسفہ زندگی اور قوانین کو جنم دیا جو انسانی طرززندگی کی ترقی کا پیش خیمہ بنے۔ ارسطو خیال کی دنیا میں کامیاب ریاست کیلئے قوانین کو ضروری گردانتا ہے۔ انہیں جیسے شخصیات نے ہمیشہ ہر دور میں بعض اوقات سوچ کے ٹھہرے ہوئے پانی میں غور وفکر کی کنکریاں پھینک کر ترقی کی طرف رواں کیا ہے۔ خیال ہی کے سفر نے کائنات کی اُلجھی ہوئی گھتیاں سلجھانے کی کوشش کی۔ خیال کا رشتہ فکر، دانش اور فلسفہ علم سے جُڑا ہوا ہے۔ خیال شاعر، ناول نگار، افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس کو فارم، پلاٹ اور کرداروں کی ترتیب پر مائل کرتا ہے اور خیال کی بلندیاں اس کے شاہکار کو لافانی اور لازوال بنا دیتی ہیں۔ پانی میں اُٹھنی والی لہریں ہوں یا ہوا میں اُڑنے والے پرندے۔ سمندر کی گہرایاں ہوں یا پہاڑی چوٹیاں، زمین پر گرنے والا سیب ہو یا چاند کی گردشیں ہوں۔ خیال نے ہی انسان کو مائل کیا کہ یہ کیوں ہو رہا ہے۔ درخت کے نیچے لیٹے ہوئے نیوٹن کو خیال ہی نے جھنجھوڑا کہ سیب زمین کی طرف کیوں گرتا ہے اور آسمان کی طرف کیوں نہیں جاتا۔ اس بنیادی خیال نے علم کو جو پہلے سے موجود تھا آشکارہ کیا کہ زمین کی کشش ثقل چیزوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ گلیلیو کی سوچ نے کلیسا کے اس خیال کو غلط ثابت کیا کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔ خیال کے اس سفر نے ہی انسان کو تسخیر کائنات میں انگنت کامیابیاں دی۔ خیال ہی نے بادشاہوں کے Divine Right کے مفروضے کو مسمار کیا اور فرانسیسی انقلاب اور صنعتی انقلاب کا پیش خیمہ بنا۔ خیال ہی نے بتایا کہ دنیا کی تاریخ دراصل طبقاتی جدوجہد کی کہانی ہے۔ جس میں ایک حکمران طبقہ محکوم طبقے کا استحصال کرتا ہے اور اس کی محنت کی کمائی کو ہڑپ کر جاتا ہے۔ خیال ہی نے جدلیاتی مادیات کو ضم کیا اور کہا کہ ارتقاء معاشرہ کی بنیاد Materialism پر ہے، ذرائع پیداوار کیساتھ رشتے جڑے ہوتے ہیں اور ذرائع پیداوار کی تبدیلی کیساتھ ساتھ سماجی رشتے بھی بدلتے ہیں اور سماجی ڈھانچے اور سوچ کی بنیاد کا انحصار ان ذرائع پیداوار کیساتھ پیوستہ ہے انسانی معاشرہ قبائلی، جاگیردارانہ، سرمایہ دارانہ اور حتمی طور پر (Proletariat) پرولتاریہ کی حکمرانی کی طرف رواں ہے۔ ہر سماجی دور میں ان کے اپنے تضادات اس کو اُکھاڑتے ہیں اور ایک نئے سماجی نظام کی بنیاد رکھتے ہیں۔ ان تضادات کا جامع حل کلی طور پر صرف ایک ایسے سماجی نظام میں ممکن ہے جہاں سرمائے کی حکمرانی ختم ہو کر پرولتاریہ کی حکمرانی میں بدل جائے اور معاشرہ کے تمام لوگ سماجی ترقی سے مستفید ہوں۔ دوسری طرف ایک خیال یہ ہے کہ دنیا میں امن اور ترقی کی ضامن صرف جمہوریت ہے۔ ان تمام نظریات کی اہمیت اپنی جگہ پر ہے لیکن سماج کی ترقی کا راز خیالات کی آزادی میں مضمر ہے۔ خیال کی آزادی ہی بنیادی انسانی حقوق کا اہم جز ہے اور ہمارے آئین کا بنیادی نکتہ۔ زندہ قومیں ہمیشہ اپنے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے کوشاں رہتی ہیں اور یہی ہمارا بھی مطمح نظر ہونا چاہئے۔

متعلقہ خبریں