Daily Mashriq

 بجلی گھر ریشن،جنگلات اور تعلیمی مسائل

بجلی گھر ریشن،جنگلات اور تعلیمی مسائل

اس مرتبہ ادارتی عملے نے میری چترال کے خوبصورت گائوں ریشن گول کی ایک خاتون سے بات کرائی۔ان کی اُردو دانی اور روانی کمال کی تھی، میں سمجھی کہ ریشن گول کوئی گول مٹول قسم کا گائوں ہوگا لیکن انہوں نے اسے لمبوترا بتایا، پھر تفصیل بتائی کہ گول چترالی زبان میں ندی کو کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ درہ کے معنوں میں بھی یہ استعمال ہوتا ہے۔ ریشن گول سے بیک وقت ندی بھی بہتی ہے اور یہ درہ نما بھی ہے۔ریشن ہائیڈل پاور سٹیشن اسی گائوں کے آخر میں پہاڑ کے دامن میں بنایا گیا تھا۔ اگر غیر ملکی انجینئر کے نقشے پر بنایا جاتا تو سیلاب برد نہ ہوتا، اس پاور سٹیشن کی بحالی وتعمیرنو کا گزشتہ ہفتے ہی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے افتتاح کیا۔خاتون کو شکوہ یہ تھا کہ اس کا افتتاح موقع پر آنے کی بجائے پولوگرائونڈ میں کیوں کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کے پاور ہائوس تشریف لانے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی، یہاں کے لوگ مہمان نواز ہونے کیساتھ زندہ دل بھی ہیں۔ وزیراعلیٰ کی ضیافت کیساتھ ساتھ ثقافت سے بھی بہتر تواضح ہوتی۔ریشن گول آمد سے وزیراعلیٰ کو روکنا شاید ان حکام اور تحریک انصاف کے رہنمائوں کی ملی بھگت تھی کیونکہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہونیوالے نقصانات کے ازالے کیلئے یہاں کچھ نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ ریشن ہائیڈل پاورسٹیشن کیلئے ڈنگ کی سڑک تک نہیں بنائی گئی۔ آمدہ گرمیوں کیلئے میں نے خاتون کی دعوت قبول کی ہے، اس وقت تک ریشن ہائیڈل پاورسٹیشن کے تعمیراتی کام میں بھی پیشرفت ہوئی ہوگی۔ میرے خیال میں کسی وقت چترالی کم گو اور سہم جانے والے لوگ تھے مگر اب یہ کہہ جانے والے لوگ بن گئے ہیں جس کا اندازہ جہاں مجھے اس خاتون سے بات کر کے ہوا وہاں چترال سے میرے روابط اور معلومات کے دیگر واسطے بھی ہیں۔ میرے خیال میں چترال میں اور خاص طورپر بالائی چترال کے لوگ اب معیاری تعلیم اور شعور کی اس منزل پر ہیںجن کا راستہ نہیں روکا جا سکتا۔ اپر چترال کو ضلع کا درجہ تو دیدیا گیا ہے بہتر ہوگا کہ صوبائی حکومت اسے واقعی اور باضابطہ ضلع بنانے کے عملی اقدامات کرے۔بہرحال وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ایک اچھا کام ادھورا اور غیر تسلی بخش طریقے سے انجام دیا ہے ان کو اس کے ذمہ دار انتظام کاروں کی سرزنش ضرور کرنی چاہئے۔چترال سے جنوبی وزیرستان کی تحصیل شکائی چلتے ہیں جہاں کے ایک قاری نے انگوراڈہ کے راستے عمارتی لکڑی کی افغانستان سمگلنگ کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ہمارے قاری کے مطابق ایک دن میں تین تا چارہزار درختوں کی کٹائی ہوتی ہے جو شاید مبالغہ ہو، بیدردوں اور ہوس کے پجاریوں سے کچھ بعید نہیں کہ ایسا ہی ہو۔ صوبے میں جنگلات کی جس طرح کٹائی اور سمگلنگ ہوتی ہے اس میں منظم مافیا ملوث ہے جس کا ہر دور حکومت میں کاروبار چلتا رہتا ہے۔ صوبائی وزیر جنگلات کے نام ہمارے قاری کا پیغام نہ صرف پہنچنا چاہئے بلکہ اس پر فوری ایکشن لیکر اصل صورتحال سے آگاہ کرنا بھی وزیر جنگلات کی ذمہ داری ہے۔ ایک طرف بلین ٹری سونامی ہو اور دوسری طرف جنگلات کی بے دریغ کٹائی تو حساب برابر۔ پودوں کے شجر بننے تک جنگلات کا وجود مٹ جائے تو اس نافع پروگرام کا حاصل کیا؟ شمالی وزیرستان سے رسول محمد نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ ان کے ضلع میں پرائمری، مڈل اور ہائی سکولوں کے اساتذہ کرام کی اچھی خاصی تعداد یا تو کاروبارکر رہے ہیں یا پھر خلیجی ممالک میں ملازمت کرنے گئے ہیں اور اپنی جگہ بیروزگار نوجوانوں کو کم تنخواہ پر مقرر کر رکھاہے۔ یہ سب کچھ محکمہ تعلیم کے حکام کی ملی بھگت سے ہورہا ہے۔ دریں اثناء گزشتہ کالم میں میران شاہ گرلز کالج کی بندش کا مسئلہ شائع ہوا تھا، ایک قاری نے بوائز کالج کی بھی اسی طرح طویل بندش کی نشاندہی کی ہے، معلوم نہیں حکام کیوں کالجز کھولنے سے خائف ہیں اور نوجوانوں کو ان کے علاقے میں تعلیم کی سہولت دینے سے گریزاں کیوں ہیں۔ اساتذہ کی اپنی جگہوں پر کم تنخواہ پرافراد مقرر کر کے کاروبار اور بیرون ملک جانا تعلیم اور تدریس سے کھلواڑ اور معزز پیشے کی توہین ہے ان عناصر سے چشم پوشی کرنیوالے برابر کے نہیں دوہرے مجرم ہیں۔ اس ضمن میں غالباً ایک سروے رپورٹ بھی سامنے آئی تھی اور سرکاری طور پر نشاندہی کی گئی تھی ایسا لگتا ہے کہ اس رپورٹ پر عملدرآمد نہیںہوسکا ہے۔ جتنا جلد ہوسکے اس سلسلے کا خاتمہ کیا جائے اور جو اساتذہ اپنے فرائض کیلئے حاضر نہ ہوں ان کی آسامیاں مشتہر کر کے میرٹ پر نوجوان بھرتی کئے جائیں۔ ناصر شاہ مندوری نے لاچی سے اس امر کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے کہ چھٹی، ساتویں اور آٹھویں میں کمپیوٹر لازمی مضمون تو بنادیا گیا ہے لیکن سکولوں میں کمپیوٹر لیب نام کی کوئی چیز نہیں۔ ان کا سوال ہے کہ کیا کمپیوٹر بھی مطالعہ پاکستان کی طرح کا کوئی مضمون ہے کہ اسے کتاب سے پڑھا یا جائے۔میرا اپنے اس قاری سے کلی اتفاق نہیں، بہت سے نجی سکولوں میں کمپیوٹر کی تعلیم ابتدائی کلاسوں سے شروع کی جاتی ہے، بچوں کو کتابوں اور تصویروں کی مدد سے کمپیوٹر کے استعمال اور جزئیات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ کمپیوٹر کی تعلیم صرف کمپیوٹر پر بیٹھ کر کمپیوٹر چلانے ہی کا نام نہیں اس سے واقفیت اور اس کے استعمال کے طریقوں کو سیکھنا سمجھنا اور جاننا بھی ہے۔ سرکاری سکولوں میں ان تین سالوں کے دوران اگر طلبہ کو کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم دی جائے تو بھی غنیمت ہوگی۔ کمپیوٹر لیب بنانے اور عملی طور پر طلبہ کی تربیت کے رفتہ رفتہ انتظامات ہونے چاہئیں، پہلے مرحلے میں ان کو اگر کمپیوٹر کا درسی علم بھی ملتا ہے تو یہ مفید اور نافع ہوگا۔آج کالم گویا تعلیم وتعلم سپیشل ہے جس میں بہت ساری خرابیوں اور معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے حکام توجہ دیں تو اصلاح نا ممکن نہیں۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں