Daily Mashriq

نئی کہکشائیں، رویت ہلال اور خوش کن معانقے

نئی کہکشائیں، رویت ہلال اور خوش کن معانقے

نے شاید ایسے ہی موقعوں کیلئے کہا تھا کہ آملیں گے سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک، اب دیکھیں نا، ایک انہونی کو ہونی میں بدلتے دیر ہی کتنی لگتی ہے، ہر چند کہ اس انہونی کو ہونی میں ڈھلنے کیلئے کئی سال لگ گئے، یہاں تک کہ حکومت نے سب کو ایک پیج پر لانے کیلئے ایک بار نہیں شاید زیادہ بار، یا تو ایک کو زبان بندی پر مجبور کرنے کیلئے اچھا خاصا زور لگایا، روایتی حکومتی دھمکیوں سے کام نہ چلا تو اسلام آباد مشاورت کیلئے بلوا کر سیدھا حرمین شریفین کا ٹکٹ کٹوا کر ایک خاص مدت کیلئے عمرے کی سعادت حاصل کرنے کیلئے بھی بھیجا، اور جب ’’دیس میں نکلا ہوگا چاند‘‘ والی کیفیت حتمی انجام تک پہنچ گئی تب موصوف کو وطن واپسی نصیب ہو سکی، مگر اگلی بار پھر وہی کیفیت تھی، یعنی چاند کیساتھ کئی درد پرانے نکلے والی صورتحال جوں کی توں برقرار تھی، اور وہ کم بخت ایک پیج کہیں دوربین میں بھی نظر نہیں آرہا تھا، یہاں تک کہ وزارت سائنس وٹیکنالوجی کے دوربینوں میں بھی وہ پیج دکھائی نہیں دے رہا تھا جس کے چرچے چاردانگ عالم میں کئے جارہے تھے کہ پرانی اور ازکار رفتہ دوربینوں کی جگہ وزارت نئی طاقتور دوربین خرید کر رویت ہلال کے مسئلے کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے حل کردے گی، اس لئے محکمہ موسمیات کی پرانی دوربینوں کے مقابلے میں آئن سٹائن عصروزیر موصوف نے اگر یہ بات کی تھی تو انہوں نے یقینا نئی جدید بلکہ جدید ترین دوربین کا معائنہ ضرور کیا ہوگا، بہرحال وزارت سائنس وٹیکنالوجی نے مسئلہ حل کیا یا نہیں، کم ازکم وزارت مذہبی امور نے ابتداء کرتے ہوئے سینہ چاکان چمن کو آپس میں ملنے بلکہ بغل گیر ہونے پر ضرور آمادہ کر لیا اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن اور مسجد قاسم علی خان میں لگ بھگ ایک صدی سے قائم رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی کو رویت ہلال کے حوالے سے ایک ان کیمرہ اجلاس میں بلوا کر اس بات پر (فی الحال) آمادہ کر لیا ہے کہ چاند پر کیا تنازعہ، چاند تو بقول شاعر ویسے بھی ہرجائی ہے ہر گھر میں اُتر جاتا ہے، اسلئے اختلافات ایک طرف رکھتے ہوئے ایک دوسرے کو گلے لگا لو، خبر یہ بھی ہے کہ مفتی منیب الرحمن نے وزارت سائنس وٹیکنالوجی کے قمری کیلنڈر کو غلط ثابت کر دیا ہے، اجلاس میں وزارت سائنس وٹیکنالوجی کے تیار کردہ قمری کیلنڈر کا جائزہ لیا گیا تو مفتی منیب الرحمن نے بتایا کہ وزارت کے تحت بنائے گئے قمری کیلنڈر کے مطابق یکم صفر پیر کو ہونا تھی لیکن اتوار کو صفر کا چاند نظر نہیں آیا جبکہ رویت ہلال کمیٹی کے کیلنڈر کے مطابق یکم صفر منگل کو ہونی تھی جو درست ثابت ہوئی۔ اب دیکھتے ہیں کہ بقراط العصر اس حوالے سے کیا کہتے ہیں، وزارت سائنس وٹیکنالوجی کے قمری کیلنڈر کی اس ناکامی کی کیا تاویل پیش کرتے ہیں، کیونکہ اگر رویت ہلال کمیٹی کے اس فیصلے کیخلاف کوئی دلیل لائی جائے گی تو اسے کھلی آنکھوں مکھی نگلنے کے سوا اور کیا نام دیا جا سکے گا۔ تاہم اتنی جلدی ہار ماننے کی ہماری روایت ہی نہیں ہے یعنی

کچھ تم کو بھی عزیز ہیں اپنے سبھی اصول

کچھ ہم بھی اتفاق سے ضد کے مریض ہیں

وزارت مذہبی امور نے رویت ہلال کے حوالے سے یقینا اچھا اقدام کیا ہے کہ وہ جو ہر سال دو مرتبہ ’’مرغی حرام‘‘ کی سی صورتحال جنم لیتی تھی، اس کے تناظر میں جید علمائے کرام اور اکابرین دین کو نہ صرف ایک پلیٹ فارم پر لے آئی ہے بلکہ دو متضاد ’’قوتوں‘‘ کو بغل گیر ہونے پر بھی آمادہ کرلیا ہے اور اس خبر سے تو یہ لگتا ہے کہ جیسے اقوام متحدہ کل کلاں پاکستان اور بھارت کو بھی مسئلہ کشمیر پر ایک پلیٹ فارم پر لاکر مذاکرات کے ذریعے تنازعہ حل کرنے میں کامیاب ہو جائے، اگرچہ مودی کی رعونت اس انتہا پر جا چکی ہے جہاں ایسا بظاہر ممکن نظر نہیں آتا، تاہم اللہ کا احسان ہے کہ رویت ہلال پر مرکزی رویت ہلال اور مسجد قاسم علی خان کمیٹی کے سربراہان ماہ صفر ہی کی رویت پر سہی متفق ہوکر وزیر سائنس وٹیکنالوجی کیلئے ان کے قمری کیلنڈر کے حوالے سے سوالیہ نشان چھوڑ گئے ہیں، سو دیکھنا ہے کہانی کدھر کو جاتی ہے، یعنی یہ اتفاق رائے صرف ماہ صفر تک محدود رہتی ہے یا پھر آئندہ برس رمضان، عیدالفطر اور عیدالاضحی کے مواقع پر بھی قومی یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے اور اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو جائے۔ بے شک نئی کہکشائیں دریافت کیجئے کہ ابھی کائنات کی تسخیر مکمل نہیں ہوئی اور عالمی سطح پر ماہرین فلکیات ہر وقت نئی کہکشاؤں کی دریافت میں مگن رہتے ہیں جبکہ وہ ازل سے اپنے سفر پر رواں دواں چاند کی رفتار پر کوئی سوال نہیں اُٹھاتے اور یہ جس رفتار سے چل رہا ہے اس میں خواہ مخواہ ٹانگ اڑا کر ’’مداخلت بے جا‘‘ کے مرتکب نہیں ہوتے اسلئے جو قمری کیلنڈر آپ نے ترتیب دیکر چاند کو ’’مطیع‘‘ کرنے کی ناکام کوشش کی ہے اسے تو مفتی منیب الرحمن نے غلط ثابت کر دیا ہے تو پھر چھوڑیئے یہ قضیہ اور رویت کے اسلامی احکامات ہی کے مطابق یہ مسئلہ حل ہونے دیںکہ اب تو آپ کی حالت محسن نقوی کے بقول یہ ہوسکتی ہے۔

چاند نکلا ہے مرے بعد تو یوں لگتا ہے

میرے آنگن کا پتہ بھول گیا ہو جیسے

متعلقہ خبریں