Daily Mashriq

ایک معرکۃلآراخطاب

ایک معرکۃلآراخطاب

کمزور ملکوں اوراقوام کیلئے اقوام متحدہ کا کردار ایک ڈیبیٹنگ کلب اور ایک رفاحی ادارے جیسا ہے اور ملک طاقتور ہو اور طاقت بھی امریکہ جیسی تو پھر اس ادارے کو موم کی ناک کی شکل دے کر جدھر چاہو موڑ دو اور جو چاہو جس کے خلاف چاہو قرارداد منظور کروا لو۔اس دوہرے کردار ومعیار کے باوجود یہ کرہ ارض کے عوام کے نمائندوںکے مل بیٹھنے کا واحد مشترکہ فورم ہے۔ جہاں دنیا بھر کے راہنمااپنا اور اپنے عوام کا مقدمہ لڑتے ہیں ۔اقوام متحدہ میں نیزہ بازی ،گھوڑ سوار ی اور تیراکی کے مقابلے نہیں ہوتے بلکہ تقریرہوتی ہے یا پھر دفتری سٹائل کا فائل ورک ہوتا ہے۔ تقریروں سے تقدیر تو نہیں بدلتی مگر اس کے باجود اس فورم پر جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں دیکھا یہی جاتا ہے کہ کس راہنما نے اپنا مقدمہ اچھے انداز سے لڑا اور اپنے خیالات اور سوچ کو کس فصاحت اور بلاغت سے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ موجودہ حالات کے تناظر میں نہ صرف پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کے عوام بلکہ بھارت اور عالمی دنیا کی نظریں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی تقریروں پر مرکوز تھیں ۔نریندر مودی سے زیادہ عمران خان کا خطاب دنیا بھر میں تجسس اور تحیر کی وجہ تھی کیونکہ اپنے پورے دورے کے دوران سیمینارز اور میڈیا کیساتھ انٹرویوز میں عمران خان جارحانہ بائولنگ کراتے رہے اور ان کا خطاب کھیل کا لمحۂ عروج تھا۔ مودی نے اپنے روایتی تکبر، خود اعتمادی کا مصنوعی تاثر دینے کی خاطر اپنی تقریر سے کشمیر کا ذکر گول کرنے میں ہی عافیت جانی ۔گویا کہ وہ کشمیر کو اس قدر اہم ہی نہیں سمجھتے تھے یا گھر کی بات گھر کے اندر رکھنے کی سوچ تھی کہ مودی کی تقریر سے کشمیر کا ذکر غائب تھا مگر عمران خان تہیہ طوفاں کئے بیٹھے تھے کہ وہ جمہوریت، سیکولرازم اور ترقی کے بھانڈے کو اس بار بیچ چوراہے کے پھوڑ دیں گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ خوبصورت میک اپ کے پیچھے حقیقت میں ایک خونیں چڑیل ہے جس کے منہ سے گجرات کے مسلمانوں کا خون ابھی تک ٹپک رہا ہے۔عمران خان کی تقریر کیساتھ کروڑوں دلوں کی دھڑکنیں وابستہ تھیں ۔لوگ بے چینی سے اس مرحلے کا انتظار کر رہے تھے کہ جب وہ کشمیر کی جانب مڑیں اور مودی کا تیا پانچہ ہوجائے۔ عمران خان بھی ایک اچھے مقرر کی طرح سامعین کو ہمہ تن گوش کئے اپنے ساتھ چلاتے ہوئے ان کے تجسس اور بے تابی کی آگ کو مزید بڑھارہے تھے۔آخر کار انہوں نے اس مقام پر سامعین کو پہنچایا جہاں پہنچنے کیلئے کروڑوں لوگ بے تاب تھے اور وہ مقام اور نکتہ کشمیر تھا۔عمران خان کی جنرل اسمبلی میں تقریر سے دودن پہلے برطانیہ کے آن لائن اخبار انڈی پینڈنٹ نے ایک دلچسپ مضمون میں لکھا کہ عمران خان کے ایک سالہ دور اقتدار میں پاکستان عالمی پلیئر کے طور پر اُبھرا ہے۔ماضی کی ڈرامہ بازیوں کی طرح اب پاکستان دنیا میںمذاق اورتماشا ئی ملک نہیں رہا بلکہ یہ فعال شراکت دار اور ذمہ دار ملک ہے جو ماضی کی پالیسی میں تبدیلی ہے۔دو دن بعد عمران خان نے جنرل اسمبلی سے ایسا خطاب کیا جو پاکستان کے ایک عالمی کردار کی خواہش کا عکاس تھا۔انہوںنے تیسری دنیا کے غریب ملکوں کی ترجمانی کی جن کے وسائل اور ٹیکسوں کے پیسے منی لانڈرنررز کے بین الاقوامی گروہوں کی سر پرستی میں مغربی ملکوں کی تجوریوں میں چلے جاتے ہیں اور اپنے ملکوں میں کرپشن پر زیر و ٹالرنس کی پالیسی رکھنے والے مغربی ملک یہ جانتے ہوئے کہ یہ دولت ناجائز ذرائع سے جمع کی ہوتی ہے اس کے محافظ بنتے ہیں یوں وہ غریب ملکوں میں بدعنوانی کے سرپرست بن جاتے ہیں ۔اسی طرح انہوں نے مغرب کو آزادی اظہار رائے ،شخصی آزادی کے تصورات کو مغرب کے قائم کردہ پیمانوں سے ناپا اورتولا ۔ان کا یہ جملہ مغربی تہذیب کے دوہرے معیار اورتہذیبی تضاد پر بلیغ طنز تھا کہ بعض مغربی ملکوں میں کپڑے اتارنے کی اجاز ت تو ہے مگر کپڑا یعنی حجاب پہننے کی نہیں۔ایک دور کے مجاہدین کا دوسرے دور میں دہشت گرد بن جانا بھی مغرب کے تزویراتی تضاد کو بے نقاب کرنے کے مترداف تھا۔وہ دنیا کو یہ بھولا ہوا سبق یاد دلا رہے تھے کہ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف لڑنے کیلئے وسائل امریکہ نے دئیے تربیت پاکستان نے دی۔اس لئے دہشت گردی کا فسانہ جو اب پاکستان کے گرد گھومتا ہے امریکہ اور مغرب اس کا لازمی حصہ ہیں۔انہوں نے عالمی سطح پر دیوار سے لگائی گئی اسلامی تہذیب اور عالمی کٹہرے میں مجرم کی حیثیت میں کھڑی کی گئی مسلمان آبادی کا مقدمہ پورے اعتماد سے لڑا ۔انہوںنے دنیا کو باربار یہ باورکرایا کہ اسلام صرف وہی ہے جس کی تعلیم نبی کریم ﷺ نے دی ہے ۔یہ اسلام اور اس کے تصور جہاد پر ہاتھ صاف کرنے کی غرض سے عالمی سرپرستی میں چلنے والی قادیانی تحریک کیلئے واضح پیغام تھا۔پچاس منٹ کی تقریر کا آخری حصہ جو چھبیس منٹ پر محیط تھا مقبوضہ کشمیر کے عوام کی کتھا پر مشتمل تھا ۔اس حصے میں عمران خان نے نریندر مودی اور ہندوتوا کے فلسفے کا پوسٹ مارٹم کر کے رکھ دیا۔اس مرحلے پر عمران خان کشمیریوں کے وکیل اور سفیر بن کر سامنے آئے۔انہوں نے اقوام متحدہ کی گیارہ قراردادوں کا حوالہ دیکر کشمیریوں کے مستقبل کے حوالے سے ہر آپشن کھلا چھوڑ دیا ۔انہوں نے کشمیریوں پر حق جتلانے کی بجائے ان کے دکھوں اور کرب کو زبان دی اور دنیا کو سخت انتباہ کیا کہ کشمیر پر سمجھوتے کاتصور بھی محال ہے بلکہ اس معرکے کیلئے پاکستان سرینڈر کی بجائے آخری دم تک لڑنے کو ترجیح دے گا ۔عمران خان کے خیالات ایک ڈیبیٹنگ کلب میں حقائق کا آئینہ تھا اور یہ لوگوں کے دلوں کی ترجمانی تھی شاید اسی لئے خطاب کے دوران اس ایوان کی روایت سے ہٹ کر بار بار تالیاں بجائی جاتی رہیں۔

متعلقہ خبریں