Daily Mashriq


ایمان افروز خطبہ حج

ایمان افروز خطبہ حج

مسجد نمرہ میں حج کاخطبہ ارشاد کرتے ہوئے ڈاکٹر شیخ سعد بن ناصر الشثری نے مسلم ممالک کے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ اللہ کی کتاب پر عمل اور اس کے مطابق حکمرانی کریں زیادتی مسلمان کے ساتھ ہو یا غیر مسلم کے ساتھ اسلام میں منع ہے ،ہرقسم کے تعصب سے اجتناب کیا جائے ، دعا ہے اللہ تعالیٰ مسجد اقصی مسلمانوں کو لوٹا دے ۔ میدان عرفات میں قائم مسجد نمرہ میں شیخ ڈاکٹر سعد بن ناصر الشتریٰ نے خطبہ حج کے دوران کہا کہ شریعت اسلامیہ نے مالی اور معاشی نظام کو بھی منظم کیا شریعت اسلامیہ کی خوبصورتی ہے کہ زمین پر زندگی کو منظم کیا ۔انہوںنے کہاکہ شریعت اسلامیہ نے والدین کی خدمت کا درس دیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ ایمان لانے اور نیک عمل کر نیوالوں کو زمین پر طاقت عطا ہوگی انہوںنے کہاکہ اسلام نے ہر قسم کے غبن اور سود کو بھی حرام قرار دیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ والدین کی خدمت اور فرمانبرداری اولاد پر فرض ہے ۔ انہوںنے کہاکہ توحید کا معنی ہے کہ اللہ کی وحدانیت کی گواہی دی جائے وہ آخرت میں فلاح پائیگا ۔انہوںنے کہاکہ مسلمان والدین اپنے بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیں ہم قسم کے تعصب سے اجتناب کریں انہوںنے کہاکہ اللہ کی کتاب پر عمل کریں اور اس کے مطابق حکمرانی کریں ۔انہوںنے کہاکہ اسلام امن کا درس دیتا ہے کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر فوقیت نہیں ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اسلام نے برائی اور فحاشی کو حرام قرار دیا ہے بحیثیت مسلمان ہم پر لازم ہے کہ ہم اللہ کے احکامات کی پابندی کریں۔خطبہ حج صرف ایک خطبہ اور دینی فریضہ ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر تعداد اور ہر لحاظ سے منفرد اس اجتماع سے خطاب میں امت مسلمہ کی رہنمائی اوران کے مسائل کے حل کی طرف توجہ بھی دلائی جاتی ہے اور اس کا ممکنہ حل بھی تجویز کیاجاتا ہے ۔انہوں نے امت مسلمہ کے اس عظیم اجتماع میں اپنے خطبہ حج میں انہوں نے قبلہ اول کے بارے میں دعا کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے کی ضرورت کااحساس بھی دلایا۔ قبلہ اول پر قابض ملک اسرائیل کی مسلم دشمنی اور سازشوں سے کوئی بھی مسلم ملک محفوظ نہیںجو پوری امت مسلمہ کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ خطبہ حج میں ڈاکٹر شیخ سعد بن ناصر نیمسلمانان عالم کو مرکزیت اور اپنے وسائل کومجتمع کرنے کا پیغام دیا اگر ان کے اس مفید مشورے پر عمل درآمد کی کوئی صورت نکلتی ہے تو عالم اسلام دنیا میںبہت جلد اس مقام تک بہ آسانی پہنچ جائے گا جسے کوئی طاغوتی قوت آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکے گی ۔لیکن بد قسمتی سے آج نہ صرف ہمارے حکمران طاغوتی قوتوں کی کٹھ پتلی بننے کو ترجیح دیتے ہیں بلکہ ہمارے ملک کے امراء اور روساء کی دولت اور وسائل بھی غیر مسلم ممالک میں محفوظ کئے جاتے ہیں جس کے باعث سرمایہ مسلم ممالک کا ہوتا ہے اور اس سے استفادہ غیر مسلم ممالک کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر مسلم ممالک صرف اسی ایک آسان معاملے پر ہی اتفاق کرلیں اپنے سرمایے اور وسائل کو اپنے ممالک میں ہی رکھنے اور مسلم ممالک میں سرمایہ کاری کرنے پر لگائیں تو امت مسلمہ کا نصف معاشی مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ روز گار اور کاروبار کی تنگی کی مشکلات پر قابو پایاجاسکتا ہے۔ امت مسلمہ کے لئے خود کو ایک اقتصادی قوت میں ڈھالنا چنداں مشکل نہیںمگر کاش کہ اس پر کوئی توجہ دے۔ دہشت گردی اور ظلم سے بریت کا اعلان ہر خطبہ حج کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود عالم کفر اپنے اس پروپیگنڈے سے باز نہیں آتا کہ مسلمان شدت پسند اور دہشت گرد ہیں۔ مسلمانوں پر جہاداس وقت فرض ہوتا ہے جب ان کی جان و مال اور عزت و آبرو پر حرف آنے کا قوی خدشہ ہو۔ اس کے علاوہ دین اسلام کسی بھی طرح کے ظلم اور کسی پر ہاتھ اٹھانے کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ جہاد اور دہشت گردی دو الگ الگ چیزیں ہیں مگر مغرب کا ان کو ایک دوسرے سے نتھی کرنے کا مقصد و مدعا مسلمانوں کو نیچا دکھانے کے لئے ہے اور مسلمان اس پروپیگنڈے کے اثر سے دفاعی لائن اختیار کرنے پر مجبور ہیںجس کی بڑی وجہ ان کی کمزوری ہے۔ مسلمان اگر معاشی حربی' صنعتی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں خود کفالت و ترقی پر توجہ دیں تو انہیں اس طرح کے حالات سے دو چار کرناآسان نہ ہوگا۔ منفی ٹیکنالوجی کو پھیلانے کے پس پردہ مغرب کا اپنا کلچر ہو یاکوئی سازش لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہم چیزوں کا مثبت استعمال کم اور منفی استعمال کے لئے بہت بدنام ہیں اور یہ حقیقت ہے جس کا ادراک کرتے ہوئے مسلم ممالک تیز رفتار ذرائع کا اس طرح سے استعمال یقینی بنانے کے لئے اقدامات کریں کہ اس کا منفی استعمال ممکن نہ رہے۔ ٹیکنالوجی کے منفی استعمال کی روک تھام ٹیکنالوجی کے استعمال سے بہ آسانی ممکن ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مسلم ممالک اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ امت مسلمہ کے مسائل گمبھیر ضرور ہیں لیکن لاینحل نہیں۔ امت مسلمہ کی افرادی قوت اور وسائل کو یکجا کرکے مرکزیت دی جائے اور صالح قیادت وجود میںآئے تو ان مسائل کا حل ممکن ہے۔

متعلقہ خبریں