Daily Mashriq


کانگووائرس ،احتیاطی تدابیر کا خیال رکھاجائے

کانگووائرس ،احتیاطی تدابیر کا خیال رکھاجائے

وطن عزیز پاکستان میں دنیا بھر میں سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ تعداد میں لوگ سنت ابراہیمی کی پیروی میں جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔ ملک بھر میں ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ بائیس لاکھ افراد قربانی کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔اگر چہ اس قدرزیادہ تعداد میں جانوروں کی شہروں ،قصبوں اور دیہات میں آمد اور قربانی کئے جانے پر کسی وبائی مرض اور دیگر امراض کے پھیلنے کی کوئی نظیر موجود نہیں لیکن اس کے باوجود اس ضمن میں بہرحال ماہرین احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں کہ شہری کانگو وائرس کے خطرات سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کر لیں۔ عوام کو اس امر سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے کہ کانگو بخار جان لیوا بخار ہے جو مویشیوں کی جلد میں موجود ٹکس (چیچڑ )کی وجہ سے لگتاہے اگر یہ ٹکس کسی انسان کو کاٹ لیں تو وہ انسان فوری طور پر کانگو بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ کانگو وائرس سے لوگوں کی صحت کو سنگین خطرے کا سامنا ہے جو اب تک پاکستان بھر میں کئی قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن چکا ہے، ماہرین نے قربانی کے مذہبی فریضے کے دوران لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے متعدد تجاویز پیش کی ہیں۔قربانی کے جانور کو الگ تھلگ اور کم استعمال ہونے والے زیادہ سورج کی روشنی والی جگہ کو قربانی کے لیے استعمال کیا جانا چاہئے کیونکہ الٹرا وائلٹ شعاعیں جراثیموں کا فوری خاتمہ کرتی ہیں۔ایک یا خاندان کے کم سے کم افراد کوجانور ذبح کرنے اور گوشت کے کام کا حصہ بننا چاہئے، جبکہ انہیں ڈسپوزایبل ٹوپیاں، دستانے، ماسک، پلاسٹک ایپرن، واٹر پروف جوتے اور حفاظتی کپڑوں کا لازمی استعمال کرنا چاہئے، ان کے ناخن صاف اور کٹے ہوئے ہونے چاہئے۔ اگر ہاتھ یا بازو پر زخم یا خراش ہو تو گوشت کے کام کا حصہ نہیں بننا چاہئے، جانوروں کے ذبح اور گوشت کی کٹائی کے بعد ہاتھوں کو دھونا لازمی ہے۔ماہرین نے تجویز پیش کی ہے کہ فرش پر ایک بڑی اور موٹی پلاسٹک کی شیٹ پھیلا کر اس پر گوشت رکھیں، بچوں کو اس حصے سے دور رکھا جائے جہاں قربانی ہوئی ہو یا گوشت کو کاٹا گیا ہو۔امراض کی روک تھام کے لیے ٹھوس اور سیال کچرے کو جلد از جلد تلف کیا جائے، بڑے اور موٹے پلاسٹک بیگز کو جانور کے کچرے کو بھرنے کے لیے استعمال کیا جائے اور انہیں بعد ازاں حکومت کی طے کردہ جگہوں پر پھینک دیا جائے۔اگر قربانی کے14روز کے دوران بخار ہوجائے تو فوری طور پر طبی امداد کے لیے رجوع کیا جائے۔مویشیوں کی آلائش کو آبادی اور سڑکوں پر نہ پھینکیں انہیں محفوظ طریقوں کے مطابق تلف کریں۔ اس کے علاوہ گوشت کو اچھی طرح پکا کر کھایاجائے۔جانوروں میں کانگو وائرس کی موجودگی کے خدشات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس سے بچنے کی تدابیر انتہائی ضروری ہیں۔

عیدالاضحی کے موقع پر صفائی ' شہری بھی ذمہ داری نبھائیں

عیدالاضحی کی تعطیلات کے دوران خصوصی صفائی منصوبہ کی تیاری احسن عمل ضرور ہے لیکن اگر دیکھاجائے تو ہر سال عید قربان کے موقع پر رسماً اس طرح کی منصوبہ بندی اور خصوصی انتظامات کا اعلان تو کیاجاتاہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہو پاتا ۔اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ پورے شہر کی یکبارگی صفائی کے لئے وسائل اور افرادی قوت کی عدم دستیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس امر کی گنجائش تو نکلتی ہے کہ صفائی کے عملے کی کوتاہیوںسے صرف نظر کیاجائے لیکن اس امر کی گنجائش نہیں کہ قربانی کے جانوروں کی آلائشیں دو تین روز تک پڑی رہیں اور کوئی اٹھانے والا نہ ہو۔ عام مشاہدے کی بات یہ ہے کہ ہر قسم کی منصوبہ بندی کے باوجود حکام عیدالاضحی کے موقع پر شہر کی صفائی میں ناکام رہتے ہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ ان ناکامیوں سے سبق سیکھ کر ان کو دور کرنے کی سعی کی بجائے آئندہ سال اسی کا اعادہ ہوتاہے۔ ہمارے تئیں عیدالاضحی کے موقع پر صفائی کا کام اتنا بڑھ جاتا ہے کہ آلائشیں اٹھانے میں مجبوراً تاخیر ہوجاتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس صورتحال کے شہری بھی برابر کے ذمہ دار ہیں جو اس امر کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے کہ اوجھڑی اور دیگر باقیات کو ایک مخصوص جگہ پر احتیاط سے اس طرح رکھ دیں کہ عملہ صفائی کو اٹھانے میں آسانی ہو۔ اسلام میں جہاں قربانی کا درس دیاگیا ہے وہاں نظافت اور صفائی کو نصف ایمان کا درجہ حاصل ہے جس طرح قربانی مقدس فریضہ احسن طریقے سے ادائیگی کا متقاضی ہے اسی طرح صفائی پر توجہ بھی ہر شہری کا اخلاقی اور دینی فریضہ ہے جس کی ادائیگی میں غفلت کا ارتکاب نہیں ہونا چاہئے۔توقع کی جانی چاہیئے کہ شہری خود اپنے مفاد میں اپنے گلی محلوں کو صاف ستھرا رکھنے کی ذمہ داری از خود نبھائیں گے اور عملہ صفائی کے کام کو آسان بنائیں گے یہ ہم سب کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے جس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں ۔

متعلقہ خبریں